ایچ ای سی کا ملک گیر اقدام: 44 جامعات میں کمپیوٹنگ پروگرامز میں داخلے معطل

اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نے نیشنل اسکل کمپیٹنسی ٹیسٹ (NSCT) 2026 میں طلبہ کی ناقص کارکردگی کے پیش نظر ملک بھر کی 44 جامعات اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں کمپیوٹنگ اور کمپیوٹر سائنس کے پروگراموں میں نئے داخلے عارضی طور پر معطل کر دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب مذکورہ اداروں کے طلبہ کی بڑی تعداد این ایس سی ٹی 2026 میں مقررہ مہارت اور قابلیت کے معیار پر پورا نہ اتر سکی۔ ایچ ای سی کے کوالٹی اشورنس ونگ سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد اعلیٰ تعلیمی معیار کو برقرار رکھنا اور طلبہ کے مستقبل کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
ذرائع کے مطابق داخلوں کی معطلی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک متعلقہ اداروں کا تعلیمی و انتظامی آڈٹ، معیارِ تعلیم کا جائزہ اور ضروری منظوریوں کا عمل مکمل نہیں ہو جاتا۔
ایچ ای سی نے طلبہ اور والدین کے لیے ایک خصوصی ایڈوائزری بھی جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ فہرست میں شامل جامعات کے کمپیوٹنگ پروگراموں میں آئندہ حکم تک داخلے بند رہیں گے۔ طلبہ اور والدین کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی کمپیوٹنگ پروگرام میں درخواست دینے سے قبل ادارے کی موجودہ حیثیت کی تصدیق ضرور کریں۔
زیرِ نگرانی جامعات اور ادارے
جن جامعات اور اداروں کو جائزے کے لیے زیرِ نگرانی رکھا گیا ہے ان میں الحامد اسلامک یونیورسٹی (اسلام آباد و کوئٹہ کیمپس)، سرحد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی، عبدالولی خان یونیورسٹی مردان، ہزارہ یونیورسٹی، محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان، ویمن یونیورسٹی مردان، دی ویمن یونیورسٹی ملتان، لاہور لیڈز یونیورسٹی، یونیورسٹی آف صوابی، ایمان انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ اینڈ سائنسز کراچی، گومل یونیورسٹی، غازی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ سائنسز، ایلما یونیورسٹی کراچی، چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز، یونیورسٹی آف فاٹا، یونیورسٹی آف کوٹلی آزاد کشمیر، یونیورسٹی آف جھنگ، کوہسار یونیورسٹی مری، یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نوشہرہ، بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری، گرین انٹرنیشنل یونیورسٹی، یونیورسٹی آف مکران، بیگم نصرت بھٹو ویمن یونیورسٹی سکھر، یونیورسٹی آف بلتستان، یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی لاہور، ویمن یونیورسٹی صوابی، یونیورسٹی آف لورالائی، یونیورسٹی آف ایگریکلچر پشاور، شہید بینظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی پشاور، پریسٹن یونیورسٹی اسلام آباد، ویمن یونیورسٹی آزاد جموں و کشمیر باغ، یونیورسٹی آف لکی مروت، سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی ٹنڈوجام، بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار، ناردرن یونیورسٹی نوشہرہ، یونیورسٹی آف لاڑکانہ، یونیورسٹی آف صوفزم اینڈ ماڈرن سائنسز بھٹ شاہ، یونیورسٹی آف بونیر، خوشحال خان خٹک یونیورسٹی کرک، برینز انسٹیٹیوٹ پشاور، ملینیم انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ انٹرپرینیورشپ کراچی، محی الدین اسلامک یونیورسٹی اور شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز سکرنڈ شامل ہیں۔
ماہرین کی آراء
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایچ ای سی کا یہ اقدام ملک میں کمپیوٹنگ اور آئی ٹی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اس سے متاثرہ اداروں کو اپنی تدریسی صلاحیت، فیکلٹی اور نصاب میں فوری اصلاحات لانا ہوں گی۔
