یورپی یونین اور برطانیہ کی ٹی ٹی پی کے خلاف پاکستان کے حقِ دفاع کی توثیق

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ یورپی یونین کے خصوصی نمائندے گیلز برٹرانڈ اور برطانیہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ لنڈسے نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف پاکستان کے حقِ دفاع کی توثیق کرتے ہوئے افغانستان سے پیدا ہونے والے دہشت گرد خطرات کے مقابلے میں پاکستان کے جائز مؤقف کو تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے میں ناکامی پر سخت تنقید کی ہے۔
علیحدہ بیانات اور ٹیلی ویژن انٹرویوز میں، دونوں خصوصی نمائندوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) ایک دہشت گرد تنظیم ہے جسے افغانستان کے اندر سے وسیع سرحد پار معاونت، مالی امداد، اسلحہ اور محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کابل اور قندھار میں برسرِ اقتدار حکام ان سرگرمیوں کی مکمل ذمہ داری اٹھائیں اور افغان سرزمین کو پڑوسی ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
ٹی ٹی پی کو سرحد پار معاونت
ٹی ٹی پی کو سرحد پار معاونت
ٹی ٹی پی افغانستان کے اندر موجود تربیتی مراکز، اسلحے کی ترسیل کے نیٹ ورکس اور محفوظ ٹھکانوں کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی سکیورٹی کارروائیوں سے بچ نکلتی ہے، جس سے علاقائی امن و استحکام کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ جب پاکستان کے ان خطرات کے خلاف فوجی ردعمل کے بارے میں سوال کیا گیا تو دونوں نمائندوں نے واضح طور پر پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی ریاست کو کسی فعال اور حقیقی خطرے کے واضح شواہد موجود ہوں تو اسے اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔
طالبان کی عالمی ذمہ داریوں میں ناکامی
طالبان کی عالمی ذمہ داریوں میں ناکامی
طالبان حکومت کے بارے میں بین الاقوامی برادری کی بڑھتی ہوئی مایوسی ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب اطلاعات کے مطابق طالبان عالمی سلامتی سے متعلق اپنی ذمہ داریوں پر عملدرآمد میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔ دوحہ معاہدے کے تحت طالبان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ دہشت گرد گروہوں کو پناہ نہیں دیں گے اور افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ تاہم، اقتدار سنبھالنے کے تقریباً پانچ سال بعد طالبان نے اپنے تقریباً تمام بڑے سیاسی، سکیورٹی اور حکمرانی سے متعلق وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمی
دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمی
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹس کے مطابق، طالبان کی نگرانی میں 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں آزادانہ طور پر سرگرم ہیں، جن میں ٹی ٹی پی، القاعدہ، داعش خراسان (ISKP)، ای ٹی آئی ایم (ETIM)، آئی ایم یو (IMU) اور جماعت انصاراللہ شامل ہیں۔ ان تنظیموں کے جنگجوؤں کی تعداد 13 ہزار سے 23 ہزار کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ طالبان کے انسدادِ دہشت گردی کے دعوے اس وقت مکمل طور پر بے نقاب ہو گئے جب القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کابل کے قلب میں واقع طالبان کے زیرِ کنٹرول ایک محفوظ ٹھکانے میں پائے گئے اور بعد ازاں مارے گئے۔ اس واقعے نے ثابت کر دیا کہ دنیا کے انتہائی مطلوب دہشت گردوں کو موجودہ طالبان حکومت کے تحت محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں۔
خواتین اور لڑکیوں کے حقوق پر پابندیاں
خواتین اور لڑکیوں کے حقوق پر پابندیاں
ٹی ٹی پی کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنے کے علاوہ، طالبان حکومت نے ملک کے اندر ریاستی سرپرستی میں امتیازی سلوک اور جبر کا ایک سخت نظام قائم کر رکھا ہے۔ حکومت 230 سے زائد ایسے احکامات جاری کر چکی ہے جن کے ذریعے خواتین اور لڑکیوں کو ان کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم کیا گیا ہے، جسے بین الاقوامی ماہرین "صنف پر مبنی نسلی امتیاز” قرار دیتے ہیں۔ 22 لاکھ سے زائد افغان لڑکیاں اب بھی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم سے محروم ہیں، جبکہ خواتین کو ملازمت، آزادانہ نقل و حرکت اور عوامی زندگی میں شرکت پر تقریباً مکمل پابندیوں کا سامنا ہے۔
انسانی بحران اور غربت
انسانی بحران اور غربت
داخلی بدانتظامی نے ملک کو شدید انسانی بحران میں دھکیل دیا ہے، جہاں 2 کروڑ 10 لاکھ افغان شہری امداد کے شدید محتاج ہیں اور تقریباً 65 فیصد آبادی حکومت کی امتیازی اور نظریاتی پالیسیوں کے باعث کثیر جہتی غربت کا شکار ہے۔
مستقبل کے سفارتی تعلقات
مستقبل کے سفارتی تعلقات
بین الاقوامی خصوصی نمائندوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی سفارتی روابط طالبان کے دہشت گردی اور جبر کے ریکارڈ کو مٹا نہیں سکتے۔ انہوں نے واضح انتباہ کیا کہ قابلِ تصدیق اصلاحات کے بغیر طالبان کو رعایتیں دینا عالمی انسدادِ دہشت گردی کے نظام کو کمزور کرتا ہے اور اس انتہا پسند حکومت کو اس کی مسلسل خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرانے میں ناکامی کا باعث بنتا ہے۔
