سعودی عرب میں غیر ملکیوں کو جائیداد کی ملکیت: ایگزیکٹو ریگولیشن کی منظوری

جدہ: سعودی عرب کی کابینہ نے غیر سعودی شہریوں اور غیر ملکی کمپنیوں کے لیے جائیداد کی ملکیت سے متعلق قانون کے ایگزیکٹو ریگولیشن (عملدرآمدی ضوابط) کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد مملکت میں غیر ملکی سرمایہ کاروں اور افراد کے لیے مختلف اقسام کی جائیداد خریدنے اور رکھنے کی راہ مزید ہموار ہو گئی ہے۔
کابینہ کا اجلاس اور نئی منظوری
سعودی کابینہ کا اجلاس خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت جدہ میں منعقد ہوا، جس میں غیر سعودیوں کے لیے جائیداد کی ملکیت کے مجاز جغرافیائی علاقوں کی بھی منظوری دی گئی۔ یہ فیصلہ سعودی عرب کے وژن 2030 کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور اقتصادی تنوع کی پالیسی کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
قانون کا نفاذ اور پس منظر
واضح رہے کہ غیر سعودیوں کی جائیداد کی ملکیت کو منظم کرنے والا قانون جنوری 2026 میں نافذ العمل ہو چکا ہے۔ یہ قانون جولائی 2025 میں سرکاری گزٹ میں شائع ہونے کے بعد تمام قانونی مراحل مکمل ہونے پر نافذ کیا گیا تھا۔
ملکیت کی اقسام اور شرائط
نئے قانون کے تحت غیر ملکی افراد اور کمپنیاں رہائشی، تجارتی، زرعی اور صنعتی جائیدادوں سمیت ہر قسم کی رئیل اسٹیٹ کی ملکیت حاصل کر سکیں گی، تاہم اس کے لیے متعلقہ حکومتی اداروں کی منظوری اور کابینہ سے منظور شدہ ایگزیکٹو ریگولیشن میں درج شرائط و ضوابط پر عملدرآمد لازمی ہوگا۔
کمپنیوں کے لیے سہولتیں
قانون کے مطابق سعودی عرب میں لائسنس یافتہ غیر ملکی کمپنیوں کو اپنی کاروباری سرگرمیوں کے لیے درکار جائیداد خریدنے کا حق حاصل ہوگا۔ ان میں دفاتر، فیکٹریاں، گودام، لاجسٹک مراکز اور دیگر صنعتی و تجارتی تنصیبات شامل ہیں، بشرطیکہ ان کے پاس مملکت میں کام کرنے کا باضابطہ اجازت نامہ موجود ہو۔
اقتصادی اثرات اور سرمایہ کاری
ماہرین کے مطابق اس قانون سے سعودی عرب کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں اربوں ڈالر کی نئی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ اس اقدام سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا، تعمیرات، ہاؤسنگ، صنعت اور تجارتی شعبوں میں سرگرمیوں کو فروغ ملے گا جبکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
عالمی مرکز بننے کی حکمت عملی
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غیر ملکیوں کو جائیداد کی ملکیت کی اجازت سعودی عرب کی معیشت کو مزید کھولنے، عالمی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے اور مملکت کو ایک بین الاقوامی کاروباری و سرمایہ کاری مرکز بنانے کی حکمت عملی کا اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
