مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
اتوار، 4 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,706 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,706
تازہ ترین

ایرانی صدر کا دورۂ پاکستان تاریخ کے ایک نئے دروازے پر دستک

📅 بدھ، 24 جون 2026 ✍️ Dost news ⏱ 11 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

تحریر: Abid mehmood Mughal

ایرانی صدر کا دورۂ پاکستان: تاریخ کے ایک نئے دروازے پر دستک

کچھ دورے صرف سفارتی نہیں ہوتے، وہ تاریخ کے صفحات پر ایک خاموش مگر گہرا نشان چھوڑ جاتے ہیں۔ کچھ لمحات صرف استقبال، مصافحہ، گارڈ آف آنر یا سرکاری پروٹوکول تک محدود نہیں رہتے، بلکہ وہ قوموں کے دل، ریاستوں کے اعتماد اور خطے کے مستقبل کی سمت کا پتہ دیتے ہیں۔ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا پاکستان آنا بھی ایسا ہی ایک لمحہ ہے۔ یہ صرف ایک ہمسایہ ملک کے صدر کا دورہ نہیں، یہ دو برادر ممالک کے درمیان اعتماد، احترام، آزمائش، قربت اور مشترکہ مستقبل کی ایک نئی تصویر ہے۔

23 جون 2026 کو جب ایرانی صدر اسلام آباد پہنچے تو نور خان ایئربیس کا منظر معمول کا سرکاری منظر نہیں تھا۔ صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری تک کا موجود ہونا اس بات کا اظہار تھا کہ پاکستان اس دورے کو صرف سفارتی calendar کا ایک event نہیں سمجھ رہا، بلکہ اسے خطے کے بدلتے حالات میں ایک تاریخی موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ 21 توپوں کی سلامی، روایتی لباس میں ملبوس بچوں کے گلدستے، اور پاکستان ایئر فورس کے JF-17 تھنڈر طیاروں کی سلامی نے اس استقبال کو ایک ایسا رنگ دیا جس میں ریاستی وقار بھی تھا، عوامی محبت بھی، اور برادرانہ جذبہ بھی۔

پاکستان اور ایران کا رشتہ نیا نہیں۔ یہ صرف آج کی ضرورت کا رشتہ بھی نہیں۔ یہ رشتہ 1947 کے بعد سے مسلسل تاریخ کے ساتھ چلتا آیا ہے۔ ایران ان پہلے ممالک میں شامل تھا جنہوں نے پاکستان کو تسلیم کیا۔ دونوں ملک 909 کلومیٹر طویل سرحد کے ذریعے جڑے ہوئے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ رشتہ صرف سرحد کا نہیں، تہذیب کا ہے، زبان کا ہے، تاریخ کا ہے، ایمان کا ہے، اقبال کے خواب کا ہے، سعدی و حافظ کی خوشبو کا ہے، بلوچستان کے راستوں کا ہے، زائرین کے قافلوں کا ہے، تجارت کے امکانات کا ہے، اور اس خطے کی مشترکہ قسمت کا ہے۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب خطہ ایک بڑے امتحان سے گزر رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ، خلیج، ایران، امریکہ، اسرائیل، لبنان، آبنائے ہرمز، توانائی کی منڈیاں، عالمی سفارتکاری — سب ایک ہی تصویر کے مختلف رنگ بن چکے ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کا کردار اچانک نمایاں ہوا۔ پاکستان نے جنگ کا حصہ بننے کے بجائے امن کا راستہ چنا۔ پاکستان نے شور کے بجائے گفتگو کو ترجیح دی۔ پاکستان نے جذباتی نعروں کے بجائے عملی سفارتکاری کا میدان سنبھالا۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی صدر کا پاکستان آنا صرف شکریہ ادا کرنے کا عمل نہیں، بلکہ پاکستان کے سفارتی کردار کی ایک خاموش توثیق بھی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار اس پورے عمل میں نمایاں رہا۔ پاکستان نے ایک طرف ایران کے ساتھ برادرانہ یکجہتی دکھائی، دوسری طرف عالمی سطح پر رابطے، مذاکرات اور de-escalation کی کوششوں کو آگے بڑھایا۔ یہ آسان کام نہیں تھا۔ پاکستان خود معاشی دباؤ، سیاسی تقسیم، علاقائی خطرات اور اندرونی چیلنجز سے گزر رہا ہے۔ مگر بعض اوقات تاریخ قوموں کو ایسے مقام پر کھڑا کر دیتی ہے جہاں کمزوریاں بھی ذمہ داری کو ختم نہیں کر سکتیں۔ پاکستان نے اسی ذمہ داری کو نبھانے کی کوشش کی۔

ایرانی صدر نے پاکستان کے کردار کو سراہا، پاکستان کے عوام اور قیادت کا شکریہ ادا کیا، اور یہ واضح کیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات باہمی احترام، خیر سگالی اور تاریخی اعتماد پر قائم ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقاتوں میں علاقائی صورتحال، دو طرفہ تعلقات اور امن کے امکانات پر بات کی۔ یہ ملاقاتیں صرف رسمی نہیں تھیں۔ ان کا پیغام واضح تھا کہ پاکستان اور ایران موجودہ عالمی کشمکش میں ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں، ایک دوسرے کے درد کو محسوس کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ آگے بڑھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ہے۔ پاکستان اور ایران کے تعلقات ہمیشہ سیدھی لکیر میں نہیں چلے۔ کبھی سرحدی مسائل آئے، کبھی regional alignments نے دباؤ ڈالا، کبھی عالمی پابندیوں نے تجارت کو روک دیا، کبھی دہشت گردی اور smuggling جیسے مسائل نے ماحول کو مشکل بنایا۔ مگر اس کے باوجود یہ رشتہ ٹوٹا نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تعلق صرف حکومتوں کا نہیں، قوموں کا ہے۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، حالات بدلتے رہتے ہیں، مگر جغرافیہ نہیں بدلتا، تاریخ نہیں بدلتی، تہذیبی قربت نہیں بدلتی۔

صدر پزشکیان کا یہ دورہ اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان اور ایران دونوں اب صرف جذباتی تعلقات کی بات نہیں کر سکتے۔ آج کی دنیا میں تعلقات کو تجارت، توانائی، connectivity، border markets، investment، security cooperation اور عوامی روابط میں بدلنا پڑتا ہے۔ دونوں ملکوں نے ماضی میں تجارت کو 10 ارب ڈالر تک لے جانے کی بات کی۔ یہ ہدف صرف ایک اعلان نہیں ہونا چاہیے، بلکہ عملی منصوبہ بننا چاہیے۔ پاکستان کو ایران سے توانائی، سرحدی تجارت، زراعت، خوراک، معدنیات، ٹرانسپورٹ اور علاقائی connectivity میں فائدہ ہو سکتا ہے۔ ایران کو پاکستان سے مارکیٹ، بندرگاہوں، جنوبی ایشیا تک رسائی، agricultural products، services اور regional outreach میں فائدہ ہو سکتا ہے۔

مگر اس کے لیے صرف گرمجوشی کافی نہیں۔ گرمجوشی خوبصورت آغاز ہے، منزل نہیں۔ اصل کام اب شروع ہوتا ہے۔ سرحدی گزرگاہوں کو بہتر بنانا ہوگا۔ قانونی تجارت کو آسان بنانا ہوگا۔ smuggling کو کم کر کے formal trade کو بڑھانا ہوگا۔ banking channels، barter arrangements، local currency settlement، border markets، transport links اور business-to-business روابط کو حقیقت بنانا ہوگا۔ اگر یہ دورہ صرف تصاویر، بیانات اور پروٹوکول تک محدود رہ گیا تو تاریخ اسے ایک خوبصورت مگر ادھورا لمحہ کہے گی۔ لیکن اگر اس کے بعد فیصلے زمین پر اترے، تو یہ خطے کی نئی economic diplomacy کا آغاز بن سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے یہ لمحہ بہت قیمتی ہے۔ دنیا میں اس وقت سفارتکاری صرف طاقتور معیشتوں کا کھیل نہیں رہی۔ آج وہ ملک بھی اہم بن سکتا ہے جو جنگ کے بیچ گفتگو کا دروازہ کھول دے۔ پاکستان نے اگر ایران، خلیجی ممالک، ترکی، قطر، سعودی عرب، چین اور مغرب کے ساتھ متوازن سفارتکاری کو سنجیدگی سے آگے بڑھایا تو یہ ملک اپنے جغرافیے کو بوجھ نہیں، طاقت بنا سکتا ہے۔ پاکستان کا مسئلہ ہمیشہ یہ رہا کہ ہم اپنی جغرافیائی اہمیت کو economic strength میں تبدیل نہیں کر سکے۔ اب وقت ہے کہ diplomatic success کو trade، investment اور public welfare میں بدلا جائے۔

ایرانی صدر کے استقبال میں جو گرمجوشی دکھائی دی، وہ صرف ایران کے لیے نہیں تھی، وہ دراصل پاکستان کی اپنی سفارتی خوداعتمادی کا اظہار بھی تھی۔ پاکستان نے دنیا کو بتایا کہ ہم جنگ کے شعلوں میں تیل ڈالنے والوں میں نہیں، آگ بجھانے والوں میں کھڑے ہیں۔ ہم خطے کو تقسیم کرنے کے بجائے جوڑنے کی بات کرتے ہیں۔ ہم اپنے برادر ملک کے دکھ میں ساتھ کھڑے ہیں، مگر ساتھ ہی ہم امن کے لیے بھی کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان اور ایران دونوں کو اندرونی مسائل کا سامنا ہے۔ دونوں ممالک پابندیوں، معاشی دباؤ، علاقائی کشیدگی، سرحدی خطرات اور عالمی سیاست کی سختیوں کو جانتے ہیں۔ مگر شاید یہی مشترکہ مشکلات انہیں ایک دوسرے کے قریب بھی لاتی ہیں۔ جو قومیں درد کو سمجھتی ہیں، وہ ایک دوسرے کی خاموشی بھی سمجھتی ہیں۔ ایران نے مشکل وقت دیکھا ہے، پاکستان نے بھی مشکل وقت دیکھا ہے۔ اسی لیے جب ایرانی صدر پاکستان آئے تو یہ صرف official reception نہیں تھا، یہ ایک بھائی کا دوسرے بھائی کے گھر آنا تھا۔

اس دورے کا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ خطے کو جنگ نہیں، مکالمہ چاہیے۔ خطے کو مزید لاشیں نہیں، راستے چاہیے۔ خطے کو مزید sanctions، missiles، threats اور blockades نہیں، بلکہ تجارت، توانائی، روزگار، تعلیم، صحت اور عوامی خوشحالی چاہیے۔ اگر پاکستان اور ایران مل کر اس سوچ کو آگے بڑھاتے ہیں تو یہ صرف دو ملکوں کا فائدہ نہیں ہوگا، بلکہ پورے خطے کے لیے امید کا راستہ بنے گا۔

آج اسلام آباد نے جس انداز میں ایرانی صدر کا استقبال کیا، وہ ایک تاریخی منظر تھا۔ یہ منظر بتاتا ہے کہ سفارتکاری میں عزت کی زبان سب سے طاقتور زبان ہے۔ توپوں کی سلامی، پھول پیش کرتے بچے، فضاؤں میں JF-17 کی گونج، قیادت کی موجودگی، اور گرمجوش مصافحے — یہ سب علامتیں تھیں۔ مگر ان علامتوں کے پیچھے ایک بڑا سوال بھی کھڑا ہے: کیا ہم اس لمحے کو مستقبل کی مضبوط پالیسی میں بدل سکیں گے؟

اگر جواب ہاں میں ہوا تو یہ دورہ صرف 23 جون 2026 کی خبر نہیں رہے گا۔ یہ آنے والے برسوں میں پاکستان ایران تعلقات کے نئے باب کا آغاز کہلائے گا۔ تاریخ ایسے ہی لمحوں سے بنتی ہے؛ جب قومیں خوف کے بجائے اعتماد، تنہائی کے بجائے تعاون، اور جنگ کے بجائے امن کا انتخاب کرتی ہیں۔

صدر پزشکیان کا پاکستان آنا اسی انتخاب کی ایک خوبصورت، باوقار اور تاریخی تصویر ہے۔

تجزیہ کار

اس کالم میں ظاہر کیے گئے خیالات کالم نگار کے ذاتی ہیں، ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں