مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,659 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,659
تازہ ترین

ضابطہ فوجداری میں 60 سے زائد ترامیم لانے کا اعلان، بیرسٹر عقیل ملک

📅 ہفتہ، 20 جون 2026 ✍️ Dost news ⏱ 5 منٹ
ضابطہ فوجداری میں 60 سے زائد ترامیم لانے کا اعلان، بیرسٹر عقیل ملک
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (اے پی پی)۔ وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ ضابطہ فوجداری میں 60 سے زیادہ ترامیم لائی جا رہی ہیں، الیکشن کمیشن اور انتخابی اصلاحات پر اپوزیشن کو حکومت کی جانب سے مذاکرات کی تجویز پر سنجیدہ طرز عمل کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کی جلد فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کے ثمرات نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔

ہفتہ کو قومی اسمبلی میں لازمی اخراجات پر بحث کے دوران اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ آرٹیکل 81 اور 82 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ پبلک فنانس پر پارلیمانی کنٹرول ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ لازمی اخراجات کے حوالہ سے اپوزیشن کے اراکین نے صرف سیاسی تقاریر کیں اور سیاسی چورن بیچا ہے، لازمی اخراجات پر بحث تو ہو سکتی ہے مگر اس پر رائے شماری نہیں ہو سکتی۔

اپوزیشن پر تنقید اور عدالتی وقار کا دفاع

انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 68 کے تحت کسی جج کے کنڈکٹ کو پارلیمان میں زیر بحث نہیں لایا جا سکتا، اپوزیشن اراکین کی جانب سے ججز کا نام لینا قابل مذمت اور قابل افسوس ہے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ 25 کروڑ عوام عدالتوں سے انصاف لے رہی ہے مگر ان کے تعصب کا پیمانہ الگ ہے، اپوزیشن کے لوگ اپنے رہنما کو آئینی اور قانونی طریقہ کار کے بغیر جیل کے دروازے کھول کر رہا کرنے کو انصاف سمجھ رہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا توشہ خانہ کیس میں ان کی اپیل منظور نہیں ہوئی؟ اپوزیشن کو الزام تراشی اور بیجا تنقید سے گریز کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جہاں پر ان کے امیدوار جیتتے ہیں وہاں پر دھاندلی نہیں ہوتی مگر جن حلقوں سے دیگر جماعتوں کے امیدوار کامیاب ہوتے ہیں تو ان کو دھاندلی نظر آتی ہے۔ بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ بشریٰ بی بی اگر سیاسی خاتون نہیں تو انگوٹھیاں اور ہیرے کے ہار کہاں سے آئے ہیں جس سے ملک کی عالمی سطح پر بدنامی ہوئی ہے، تمام کیسز کسی کی خواہش پر نہیں بلکہ قانونی بنیاد پر بنے ہیں۔

قانونی و عدالتی اصلاحات

بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ قانون کے شعبہ میں اصلاحات ہو رہی ہیں، انصاف کی جلد فراہمی کے لیے ضابطہ فوجداری میں 60 سے زیادہ ترامیم لائی جا رہی ہے، اپیلوں کے لیے ای فائلنگ کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ رواں بجٹ بحث کے دوران انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن اور انتخابی اصلاحات پر اپوزیشن کو حکومت کی جانب سے مذاکرات کی تجویز پر سنجیدہ طرز عمل کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے 17 ججز ہوتے تھے، اس ایوان نے آئینی عدالت قائم کی ہے، ابھی بھی اعلیٰ عدلیہ میں 60 ججز کی نشستیں خالی ہیں، عدالتی اصلاحات کے پیش نظر اب مخصوص چیمبرز سے نہیں بلکہ میرٹ اور شفافیت پر ججز تعینات ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو تین چار بار ہسپتال لایا گیا اور انہیں بہترین طبی سہولیات فراہم کی گئیں، کسی ایک شخص کی ذات کا نہیں بلکہ ملک اور قوم کے لیے سوچنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ میثاق جمہوریت کے بعد میثاق پاکستان کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 200 کے تحت ججز کے تبادلے ہوتے ہیں اور کسی نے اس حوالہ سے شکایت نہیں کی۔ انصاف کی جلد فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کے ثمرات نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں انشا اللہ لازمی اخراجات میں عدلیہ کے لیے زیادہ فنڈز رکھے جائیں گے۔ اس حوالے سے پاکستان میں قانونی اصلاحات پر مزید بحث جاری ہے۔ حکومت کی جانب سے اہم عالمی رابطے بھی ملک کی خارجہ پالیسی کا حصہ ہیں۔

ٹیگز: #بیرسٹر عقیل ملک #ضابطہ فوجداری #قانونی اصلاحات #قومی اسمبلی #وزارت قانون و انصاف
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں