سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی، پاکستان کا بھارت کیخلاف سلامتی کونسل سے رجوع

اقوام متحدہ (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان نے بھارت کی جانب سے 1960 کے سندھ طاس معاہدے کی مبینہ سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے باضابطہ طور پر رجوع کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا ایک خط اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کی صدر لیونور زلاباٹا ٹوریس کے حوالے کر دیا ہے۔
بھارت پر ‘پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے’ کا الزام
پاکستانی مشن کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، اس خط میں سلامتی کونسل کی فوری توجہ بھارت کے ان اقدامات کی جانب مبذول کرائی گئی ہے جو عالمی بینک کی ثالثی میں طے پانے والے تاریخی سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ خط میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت دریائے چناب کے نظام پر دو غیر قانونی پن بجلی منصوبے تعمیر کر رہا ہے جن کا بنیادی مقصد پانی کے بہاؤ کو موڑنا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ یہ عمل معاہدے کے تحت مغربی دریاؤں کے پانی کے استعمال اور بہاؤ میں غیر قانونی تبدیلی کے مترادف ہے۔
خط میں واضح کیا گیا ہے کہ بھارت کے یہ یکطرفہ اقدامات ‘پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے’ کے مترادف ہیں، جس سے نہ صرف پاکستان کی آبی، غذائی اور معاشی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں بلکہ یہ پورے خطے کے استحکام اور بین الاقوامی امن پر بھی سنگین منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں، جیسا کہ ایران امریکہ معاہدے میں کردار، عالمی سطح پر اس کے مؤقف کو اجاگر کرتی ہیں۔
سلامتی کونسل سے کارروائی کا مطالبہ
پاکستان نے سلامتی کونسل سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس تیزی سے بگڑتی ہوئی نازک صورتحال کا فوری نوٹس لے اور بھارت کو اس کی مبینہ خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
اس موقع پر سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کی صدر کو جنوبی ایشیا کی مجموعی صورتحال، بالخصوص مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع پر بھی تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عدم تعمیل اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ بھی اٹھایا، جس پر حریت کانفرنس جیسے فورمز بھی آواز بلند کرتے رہے ہیں۔
