نئے اسلامی سال 1448 ہجری پر وزیراعظم کا قوم اور امت مسلمہ کیلئے پیغام

اسلام آباد (ویب ڈیسک)۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نئے اسلامی سال 1448 ہجری کے آغاز، یکم محرم الحرام، کے موقع پر تمام اہل وطن اور امت مسلمہ کو مبارکباد پیش کی ہے۔ اپنے پیغام میں انہوں نے دعا کی کہ نیا سال عالم اسلام اور پوری انسانیت کے لیے امن و خوشحالی کی نوید लेकर آئے۔
امن و خوشحالی کی دعا
وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا، ‘تمام اہلیان وطن اور مسلم امہ کو نئے اسلامی سال 1448 ہجری کے آغاز کی خوشیاں مبارک ہوں۔ اللہ تعالی کے حضور دعا گو ہیں کہ یہ نیا سال نہ صرف عالم اسلام بلکہ تمام انسانیت کے لئے امن و خوشحالی کی نوید لے کر آۓ۔ 1448 ہجری کا ہر دن دنیا بھر میں امن و سلامتی، رواداری، باہمی ہم آہنگی، پر امن بقائے باہمی اور تحفظ انسانیت کا ضامن ہو۔’
انہوں نے مزید کہا کہ ‘یہ امر باعث مسرت ہے کہ اسلامی سال کا مبارک آغاز دنیا میں ایران امریکہ بڑے تنازعہ کے پر امن حل کی خبر سے ہورہا ہے۔ پاکستان کی قیام امن کے لئے پر خلوص کوششوں کے بار آور ہونے پر پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے۔ افہام و تفہیم اور پر امن سفارتکاری کی حکمت عملی ہی اسلامی اسلوب اور اسوہ حسنہ کی تعلیم ہے، جس کی تازہ ترین صورتحال پر بین الاقوامی میڈیا بھی نظر رکھے ہوئے ہے۔’
ہجرتِ نبوی ﷺ کا درس
وزیراعظم نے نئے ہجری سال کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ‘نیا ہجری سال اپنے آغاز کی روایتی نسبت سے ہجرتِ نبوی ﷺ کے عظیم الشان واقعے کی یاد دہانی ہے۔ ہجرتِ نبوی ﷺ کے نمایاں ثمرات میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مثالی معاشرت اور ریاست کی بنیاد ہے۔ اس مثالی ریاست نے تاریخِ انسانیت کا رخ بدل دیا اور ایمان، عدل، مساوات، اخوت اور خدمتِ انسانیت کی اساس پر مبنی ریاست کی بنیاد رکھی۔’
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہجرتِ نبوی ﷺ نے اخوت، ایثار، باہمی اعتماد، نظم و ضبط، عدل و انصاف اور اجتماعی ذمہ داری کا درس دیا۔ انہی اصولوں اور اسوۂ حسنہ کی مکمل رہنمائی میں ہی ہمارے مسائل کا دائمی حل پوشیدہ ہے۔
معرکہ کربلا اور عزم کی تجدید
محرم الحرام کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ‘محرم الحرام کا آغاز معرکہ کربلا کی بھی یاد دلاتا ہے جس میں نواسہ رسولﷺ حضرت امام حسینؓ نے اپنے جانثار ساتھیوں سمیت جبر و استبداد کے خلاف غیر متزلزل یقین اور جرأت سے قربانی کی تاریخ رقم کی۔’
اپنے پیغام میں انہوں نے عالمی سطح پر مسلمانوں کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ‘نئے سال کے آغاز پر دنیا بھر کے مصیبت زدہ بالخصوص فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمان بھائیوں کے حقوق کی حمایت میں ثابت قدم رہنے کے عزم کی تجدید کرتے ہیں۔’
آخر میں انہوں نے قوم سے عہد کی اپیل کرتے ہوئے کہا، ‘نئے ہجری سال کے آغاز پر آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں دیانت داری، محنت، باہمی احترام و رواداری اور قومی یکجہتی کو فروغ دیں گے۔ اور اپنے کردار و عمل سے پاکستان کی ترقی، استحکام اور خوشحالی میں اپنا مثبت کردار ادا کریں گے۔ اس سلسلے میں شراکت دار ممالک سے اقتصادی تعاون کو بڑھانا بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔’
وزیراعظم نے دعا کی، ‘اللہ تعالیٰ نئے سال کو پاکستان، عالمِ اسلام اور پوری دنیا کے لیے خیر، برکت، امن اور خوشحالی کا پیامبر بنائے۔ آمین!’
