امداد یا خود انحصاری؟ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پر ایک ضروری بحث

تحریر: محمد خالد
پاکستان اس وقت شدید معاشی چیلنجز سے گزر رہا ہے۔ بڑھتی مہنگائی، بے روزگاری، کمزور صنعتی پیداوار اور قرضوں کا بوجھ ریاست اور عوام دونوں کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔ ایسے حالات میں حکومت کی جانب سے غریب اور کمزور طبقات کی مدد کے لیے سماجی تحفظ کے پروگراموں کا وجود یقیناً ضروری ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) بھی اسی مقصد کے تحت قائم کیا گیا تھا تاکہ انتہائی غریب خاندانوں، خصوصاً خواتین کو مالی سہارا فراہم کیا جا سکے۔
تاہم ایک اہم سوال مسلسل اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا اربوں روپے سالانہ صرف نقد امداد کی صورت میں تقسیم کرنا طویل المدتی حل ہے، یا اب وقت آ گیا ہے کہ اس رقم کا ایک بڑا حصہ لوگوں کو مستقل روزگار اور خود انحصاری کی طرف لے جانے پر خرچ کیا جائے؟
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ حالیہ برسوں میں سینکڑوں ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ یہ رقم یقیناً لاکھوں خاندانوں کے لیے وقتی ریلیف کا ذریعہ بنتی ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ امداد کسی بھی قوم کی مستقل ترقی کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ دنیا کی کامیاب معیشتوں نے خیرات یا امداد پر نہیں بلکہ ہنر، صنعت، پیداوار اور روزگار پر ترقی کی بنیاد رکھی ہے۔
پاکستان کے دیہی اور شہری علاقوں میں لاکھوں خواتین ایسی ہیں جو سلائی، کڑھائی، دستکاری، فوڈ پروسیسنگ، بیوٹی سروسز، آن لائن کام اور دیگر شعبوں میں صلاحیت رکھتی ہیں۔ اگر بے نظیر پروگرام کے مستحق خاندانوں کو صرف نقد رقم دینے کے بجائے یا اس کے ساتھ ساتھ ہنر کی تربیت، چھوٹے کاروبار کے لیے آلات، مائیکرو فنانس اور گھریلو صنعتوں کے مواقع فراہم کیے جائیں تو اس کے نتائج کہیں زیادہ دیرپا ہو سکتے ہیں۔
تصور کیجیے کہ اگر کسی خاتون کو ہر چند ماہ بعد امدادی رقم ملنے کے بجائے سلائی مشین، تربیت اور مارکیٹ تک رسائی فراہم کر دی جائے تو وہ نہ صرف اپنی آمدنی خود کما سکتی ہے بلکہ اپنے خاندان کے دیگر افراد کے لیے بھی روزگار کے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔ اسی طرح دیہی علاقوں میں شہد کی پیداوار، مویشی پالنے، دودھ کی مصنوعات، دستکاری اور گھریلو صنعتوں کو فروغ دے کر ہزاروں خاندانوں کو مستقل آمدن کا ذریعہ دیا جا سکتا ہے۔
یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ دنیا بھر میں سماجی تحفظ کے کامیاب ماڈلز صرف مالی امداد تک محدود نہیں ہوتے۔ کئی ممالک نے "ویلفیئر ٹو ورک” ماڈل اختیار کیا ہے، جہاں امداد کے ساتھ ہنر، تعلیم اور روزگار کے مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں تاکہ مستحق افراد مستقل طور پر ریاستی امداد پر انحصار نہ کریں۔
البتہ اس بحث میں توازن ضروری ہے۔ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام مکمل طور پر غیر ضروری ہے۔ پاکستان میں لاکھوں ایسے خاندان موجود ہیں جو شدید غربت، بیماری، معذوری یا دیگر مجبوریوں کے باعث فوری مالی مدد کے محتاج ہیں۔ ایسے افراد کے لیے سماجی تحفظ کا نظام برقرار رہنا چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا امداد کے ساتھ خود انحصاری کا راستہ بھی فراہم کیا جا رہا ہے یا نہیں؟
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پالیسی ساز امداد اور روزگار کے درمیان ایک متوازن حکمت عملی اختیار کریں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مستحق خاندانوں کے لیے ہنر مندی، فنی تربیت، چھوٹے کاروبار، گھریلو صنعتوں اور ڈیجیٹل روزگار کے خصوصی منصوبے شروع کیے جائیں۔ خواتین کو صرف امداد لینے والی نہیں بلکہ معیشت میں فعال کردار ادا کرنے والی قوت بنایا جائے۔
پاکستان کو ایسے ماڈل کی ضرورت ہے جہاں ایک ہاتھ ضرورت مند کو سہارا دے اور دوسرا ہاتھ اسے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا موقع فراہم کرے۔ قومیں مستقل امداد سے نہیں بلکہ پیداوار، محنت، کاروبار اور خود اعتمادی سے ترقی کرتی ہیں۔
اگر ہم آج سماجی تحفظ کو معاشی خود مختاری کے ساتھ جوڑنے میں کامیاب ہو گئے تو کل پاکستان کے لاکھوں خاندان امداد کے منتظر نہیں بلکہ ملکی معیشت کو مضبوط بنانے والے فعال شہری بن سکتے ہیں۔ یہی ایک مضبوط، خوددار اور خوشحال پاکستان کی جانب حقیقی سفر ہوگا۔
