پاکستان کی سفارتی کامیابی: جنگ نہیں، امن کی جیت

تحریر: محمد خالد
دنیا اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کے اثرات پوری دنیا کی سیاست، معیشت اور امن پر مرتب ہوتے ہیں۔ حالیہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بھی ایک ایسا ہی بحران تھا جس نے مشرقِ وسطیٰ سمیت پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ اس صورتحال میں جہاں بڑی طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے تحفظ میں مصروف دکھائی دیں، وہیں پاکستان نے ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست کے طور پر ثالثی اور سفارتی کوششوں کا راستہ اختیار کیا۔
معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے کالم نگار نکولس کرسٹوف نے بھی اعتراف کیا کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران تینوں نے اس تنازع کے دوران غلطیاں کیں اور کئی مواقع ضائع کیے، لیکن پاکستان اس بات پر بھرپور داد کا مستحق ہے کہ اس نے غیر متوقع اور ضدی دشمنوں کے درمیان امن قائم کرنے کے لیے مسلسل اور نہایت سنجیدہ کوششیں کیں۔ یہ اعتراف نہ صرف پاکستان کی سفارتی کامیابی کا ثبوت ہے بلکہ عالمی سطح پر اس کے مثبت کردار کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے خطے میں امن، استحکام اور مذاکرات کے اصولوں پر مبنی رہی ہے۔ حالیہ بحران میں بھی پاکستان نے کسی فریق کی اندھی حمایت کرنے کے بجائے تحمل، دانشمندی اور سفارتی حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے مختلف عالمی رہنماؤں سے رابطے کیے، کشیدگی کم کرنے پر زور دیا اور یہ واضح پیغام دیا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مذاکرات ہی پائیدار امن کی ضمانت ہیں۔
آج جب دنیا طاقت کے استعمال کو کامیابی سمجھتی ہے، پاکستان نے ثابت کیا کہ اصل کامیابی امن کے لیے کوشش کرنا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ میں آگ بھڑکنے کا خدشہ موجود تھا، پاکستان نے سفارتی سطح پر اپنا مثبت کردار ادا کیا اور عالمی برادری کو یہ پیغام دیا کہ تنازعات کا حل بات چیت اور باہمی احترام میں پوشیدہ ہے۔
اس کامیابی کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ پاکستان خود کئی معاشی اور داخلی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، لیکن اس کے باوجود اس نے عالمی امن کے لیے اپنی ذمہ داری نبھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یہی وہ طرزِ عمل ہے جو ایک ذمہ دار ریاست کو عالمی سطح پر عزت اور وقار عطا کرتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنی اس سفارتی روایت کو مزید مضبوط بنائے اور دنیا کے سامنے ایک امن پسند، ذمہ دار اور باوقار ملک کی حیثیت سے اپنا کردار جاری رکھے۔ اگر پاکستان مستقبل میں بھی اسی دانشمندی اور توازن کے ساتھ عالمی معاملات میں اپنا کردار ادا کرتا رہا تو نہ صرف اس کی بین الاقوامی ساکھ مزید بہتر ہوگی بلکہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں بھی اہم پیش رفت ممکن ہوگی۔
نکولس کرسٹوف کا بیان دراصل پاکستان کی ان کوششوں کا اعتراف ہے جو اکثر عالمی میڈیا کی نظروں سے اوجھل رہتی ہیں۔ یہ لمحہ پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے اور اس بات کا ثبوت بھی کہ امن کے لیے کی جانے والی مخلصانہ کوششیں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔ پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ جنگوں کی دنیا میں امن کی آواز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور یہی اس کی اصل طاقت ہے۔
