بھارت عالمی اے آئی انفراسٹرکچر کی دوڑ میں اہم مرکز بننے لگا
نمائندہ خصوصی
عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مصنوعی ذہانت کی دوڑ اب صرف نئے ماڈلز تک محدود نہیں رہی بلکہ ڈیٹا سینٹرز، توانائی، چپس، پالیسی اور انفراسٹرکچر تک پھیل چکی ہے۔ اسی تناظر میں بھارت عالمی اے آئی انفراسٹرکچر کے لیے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق میٹا نے بھارت میں ریلائنس انڈسٹریز کے ساتھ اے آئی ڈیٹا سینٹر صلاحیت کے لیے معاہدہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جام نگر، گجرات میں 168 میگاواٹ کی سہولت میٹا کی عالمی اے آئی کمپیوٹنگ ضروریات میں مدد دے گی۔
ماہرین کے مطابق اے آئی کی اگلی لہر میں صرف ماڈل بنانے والی کمپنیاں نہیں بلکہ وہ ممالک اور ادارے بھی اہم ہوں گے جو کمپیوٹنگ پاور، توانائی، کولنگ سسٹمز اور تیز رفتار کنیکٹیویٹی فراہم کر سکیں گے۔ بھارت اس میدان میں اپنی بڑی مارکیٹ، ڈیجیٹل افرادی قوت اور توانائی منصوبوں کے باعث نمایاں پوزیشن حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
دوسری جانب طاقتور اے آئی ماڈلز تک رسائی اور حفاظتی پابندیوں پر بحث بھی شدت اختیار کر رہی ہے۔ بزنس انسائیڈر کے مطابق اینتھروپک کو اپنے نئے Claude Fable 5 ماڈل کی بعض حفاظتی پابندیوں پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد کمپنی نے شفافیت کے حوالے سے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کی۔
یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ اے آئی کی عالمی مسابقت اب تین محاذوں پر آگے بڑھ رہی ہے: طاقتور ماڈلز کی تیاری، ان ماڈلز کو چلانے کے لیے انفراسٹرکچر کی ملکیت، اور ان کے استعمال کے قواعد و ضوابط پر کنٹرول۔
پاکستان سمیت خطے کے ممالک کے لیے یہ رجحان اس لیے اہم ہے کہ آنے والے برسوں میں ڈیجیٹل معیشت، ڈیٹا سینٹرز، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور اے آئی اسکلز معاشی مسابقت کا بنیادی حصہ بن جائیں گے۔ ٹیکنالوجی اور اے آئی سے متعلق مزید خبریں اے آئی کی دنیا اور ٹیکنالوجی کے صفحات پر پڑھی جا سکتی ہیں۔
