معاشی استحکام کے بعد اب ترقی، روزگار اور عوامی معیار زندگی پر توجہ دینا ہوگی، وزیراعظم
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے میکرو اکنامک استحکام حاصل کر لیا ہے اور اب ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشی ترقی کی رفتار تیز کی جائے، روزگار کے مواقع بڑھائے جائیں اور عام آدمی کا معیار زندگی بہتر بنایا جائے۔
قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت نے مکمل خلوص کے ساتھ صوبوں سے قریبی مشاورت جاری رکھی اور اہم معاملات پر قومی مفاد میں فیصلے کیے۔ انہوں نے بجٹ سازی کے عمل کے دوران صوبائی وزرائے اعلیٰ کے تعاون کو سراہا۔
وزیراعظم نے کہا کہ میکرو سطح پر معاشی اشاریے مستحکم ہو چکے ہیں، تاہم اگلا اہم مرحلہ معیشت میں ترقی کی رفتار پیدا کرنا ہے۔ ان کے مطابق معاشی سرگرمی اور ترقی وفاق اور صوبوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام میں ہے اور کئی مشکل چیلنجز سے کامیابی سے گزرا ہے۔ حالیہ علاقائی کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بحران کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جس سے معاشی دباؤ بڑھا۔
شہباز شریف نے کہا کہ چاروں صوبوں کے درمیان اتحاد اور رابطے کی بدولت حکومت نے صورتحال کو موثر انداز میں سنبھالا اور ملک بھر میں ایندھن کی فراہمی بلا تعطل جاری رہی۔ انہوں نے کہا کہ بہتر منصوبہ بندی اور قریبی رابطے کے باعث پیٹرول پمپس پر کوئی افراتفری پیدا نہیں ہوئی۔
دفاعی بجٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مسلح افواج کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ قومی اجتماعی کوششوں سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ عام شہری اب بھی روزگار اور بنیادی سہولتوں کے حوالے سے فکر مند ہیں، اس لیے زرعی شعبے، برآمدات اور صنعتی ترقی کو فروغ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے وسائل کے بہتر استعمال اور کلیدی شعبوں کو مراعات دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر سے تفصیلی گفتگو ہوئی ہے جنہوں نے پاکستان کی معاشی استحکام کے لیے سنجیدہ کوششوں کو سراہا اور اصلاحاتی ایجنڈے کی حمایت کی۔
