نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری کمیٹی اجلاس میں اہم فیصلے
اسلام آباد: نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری کمیٹی کا اہم اجلاس بدھ کو منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایندھن کے تحفظ اور اضافی کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور ان پر عملدرآمد سے متعلق اہم سفارشات کو حتمی شکل دی گئی۔ یہ اجلاس وفاقی دارالحکومت میں منعقد ہوا، جہاں ملک کی موجودہ اقتصادی صورتحال کے پیش نظر حکومتی اخراجات میں کمی لانے پر غور کیا گیا۔
اجلاس کے اہم فیصلے
اجلاس کے دوران مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کی جانب سے کفایت شعاری اقدامات سے استثنا حاصل کرنے کے لیے پیش کی گئی درخواستوں کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے ان درخواستوں پر غور و خوض کے بعد اپنی سفارشات مرتب کیں۔
عوام کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے، کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ وزارتِ خارجہ اور اس کے ملک بھر میں قائم رابطہ دفاتر، جن میں کوئٹہ، کراچی، پشاور، گجرات اور لاہور شامل ہیں، میں قونصلر تصدیق کی خدمات جمعہ کے روز بھی جاری رہیں گی۔ یہ فیصلہ شہریوں کو درپیش مشکلات کے پیش نظر کیا گیا تاکہ وہ دفتری اوقات میں بہتر طور پر خدمات حاصل کر سکیں۔
کمیٹی نے ایک اور اہم سفارش کی کہ وہ اضافی کفایت شعاری اقدامات جو 13 جون 2026 کو ختم ہونے والے ہیں، انہیں مزید توسیع دیتے ہوئے 30 جون 2026 تک نافذ العمل رکھا جائے۔ اس اقدام کا مقصد سرکاری اخراجات میں مزید کمی لانا اور مالی نظم و ضبط کو برقرار رکھنا ہے۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ الگ سے قائم گروسری اور کریانہ اسٹورز کے کاروباری اوقات میں اضافہ کیا جائے۔ اب یہ اسٹورز ہفتے کے تمام دنوں بشمول ہفتہ اور اتوار کو رات 10 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت ہوگی۔ یہ فیصلہ عوام کو ضروریاتِ زندگی کی اشیاء کی خریداری میں آسانی فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے اور چھوٹے کاروباروں کی حوصلہ افزائی کا بھی باعث بنے گا۔
اجلاس میں شرکاء
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے شرکت کی۔ ان کے علاوہ، وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے خزانہ، نائب وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی، اور کابینہ، تجارت، پیٹرولیم اور انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے سیکریٹریز بھی موجود تھے۔ وزارتِ خارجہ اور دیگر متعلقہ وزارتوں و ڈویژنز کے سینئر حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی اور اپنی تجاویز پیش کیں۔
سرکاری معلومات کے لیے وزارت موسمیاتی تبدیلی سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
