مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 16°C
پیر، 26 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 310.12 GBP/PKR 370.24 سونا/تولہ (عالمی) 413,892 PKR Bitcoin $79,971 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 310.12 GBP/PKR 370.24 سونا/تولہ (عالمی) 413,892 PKR Bitcoin $79,971
صفحہ اول

امریکی عدالت نے صدر ٹرمپ کی ایچ ون بی ویزا پر عائد کردہ ایک لاکھ ڈالر فیس غیر قانونی قرار دے دی

📅 🔄 اپ ڈیٹ: ✍️ ⏱ 4 منٹ
trump
President Donald Trump listens as Agriculture Secretary Sonny Perdue speaks about the coronavirus in the James Brady Press Briefing Room of the White House, Friday, April 17, 2020, in Washington. (AP Photo/Alex Brandon)
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

واشنگٹن۔9جون (دوست نیوز):امریکا میں ایک وفاقی جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئے ایچ ون بی ویزوں پر عائد کی گئی ایک لاکھ ڈالر فیس کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے کالعدم کر دیا ۔ اردو نیوز کے مطابق عدالت نے قرار دیا کہ یہ فیس دراصل ایک ایسا ٹیکس ہے جس کی اجازت کانگریس نے نہیں دی تھی۔بوسٹن میں امریکی ڈسٹرکٹ جج لیو سوروکِن نے یہ فیصلہ 20 ڈیموکریٹک ریاستی اٹارنی جنرلز کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے میں سنایا۔ یہ مقدمہ ستمبر میں ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ اس پالیسی کے خلاف تھا، جس کے تحت انتہائی ہنر مند غیر ملکی کارکنوں کے لیے ایچ ون بی ویزا کی فیس میں نمایاں اضافہ کر دیا گیا تھا۔ انتظامیہ کا موقف تھا کہ یہ فیس دراصل ایک قانونی مالی جرمانہ ہے، جس کا اختیار صدر کو امیگریشن قانون کے تحت حاصل ہے کیونکہ وہ ایسے غیر ملکی شہریوں کے داخلے کو محدود کر سکتے ہیں جنہیں وہ امریکا کے مفاد کے خلاف سمجھیں۔

تاہم جج لیو سوروکِن نے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیس جرمانہ نہیں بلکہ ایک ٹیکس ہے اور صدر کے پاس کانگریس کی منظوری کے بغیر اس طرح کا ٹیکس عائد کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کو یو ایس سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ یا یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز نافذ نہیں کر سکتیں۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ اس ایک لاکھ ڈالر کی ادائیگی کی نوعیت اور اطلاق یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک ٹیکس ہے، چاہے اسے کچھ بھی کہا جائے۔ جج نے امریکی سپریم کورٹ کے فروری کے اس فیصلے کا بھی حوالہ دیا جس میں ٹرمپ کی وسیع ٹیرف پالیسی کو بھی کالعدم قرار دیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ ہنگامی اختیارات کے تحت ایسا اقدام نہیں کیا جا سکتا۔ اسی منطق کے تحت امیگریشن قانون بھی اس ٹیکس کی اجازت نہیں دیتا۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان ٹیلر راجرز نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کو یقین ہے کہ اس فیصلے کو اپیل میں واپس لیا جائے گا۔

انوہں نے کہا کہ صدر کے پاس یہ واضح قانونی اختیار موجود ہے کہ وہ ایسے افراد کے داخلے کو محدود کر سکتے ہیں جو امریکاکے مفاد میں نہ ہوں۔ ایچ ون بی پروگرام کے تحت ہر سال 65 ہزار ویزے جاری کیے جاتے ہیں جبکہ 20 ہزار اضافی ویزے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کے لیے ہوتے ہیں اور یہ ویزے تین سے چھ سال کی مدت کے لیے دیئے جاتے ہیں، خاص طور پر ٹیکنالوجی کمپنیاں ان ویزوں پر انحصار کرتی ہیں۔ اس پالیسی سے قبل آجر عام طور پر دو ہزار سے پانچ ہزار ڈالر تک فیس ادا کرتے تھے، جو مختلف عوامل پر منحصر ہوتی تھی۔ یہ نئی فیس ان افراد پر لاگو نہیں ہوتی جو پہلے سے امریکا میں سٹوڈنٹ ویزا پر موجود ہیں، جن میں ایچ ون بی کے بڑے امیدوار شامل ہوتے ہیں۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق اس اضافے کے بعد ایچ ون بی درخواستوں میں نمایاں کمی آئی۔ 15 فروری تک امریکی امیگریشن سروسز کو اس فیس کی صرف 85 ادائیگیاں موصول ہوئی تھیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ایچ ون بی درخواست دہندگان کی سخت جانچ پڑتال بھی بڑھا دی تھی اور ویزا انتخاب کے نظام میں ایسی تبدیلیاں تجویز کی تھیں جو زیادہ ہنر مند اور زیادہ تنخواہ یافتہ افراد کو ترجیح دیں۔ یہ فیس کئی قانونی چیلنجز کا باعث بنی، جن میں امریکی چیمبر آف کامرس کا مقدمہ بھی شامل ہے، جو واشنگٹن ڈی سی کی ایک عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کر رہا ہے۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
ٹیگز: #international #usa
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں