پاک چین دوستی ‘آئرن برادرز’ کا لازوال رشتہ، سی پیک نئے دور میں داخل
وفاقی وزیر عطا تارڑ
اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے پاکستان اور چین کے مابین تعلقات کو "آئرن برادرز” کا ایک لازوال اور منفرد رشتہ قرار دیا ہے، جو نسل در نسل منتقل ہوتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کا یہ خصوصی تعلق روایتی سفارتی حدود سے کہیں زیادہ گہرا اور وسیع ہے۔ انہوں نے پاکستان کے چین کے ساتھ دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو نئے دور میں داخل کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔ یہ خیالات انہوں نے منگل کو اسلام آباد میں شنہوا نیوز ایجنسی کے زیر اہتمام سی پیک، 75 سالہ پاک چین دوستی اور عالمی گورننس انیشی ایٹو سے متعلق ایک باوقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیے۔
وزیراعظم کے دورہ چین سے دوستی کو نئی بلندی
وفاقی وزیر نے زور دیا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دورہ چین نے پاک چین دوستی کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے اور باہمی تعاون کے نئے دروازے کھولے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کی حکومت اور پوری قوم کے لیے فخر کا مقام ہے کہ ہم ایک ایسے اٹوٹ رشتے کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں جو بطور قوم ہمارے لیے انتہائی اہمیت کا حامل اور ہمارے دلوں کے بہت قریب ہے۔ عطا تارڑ نے دونوں ممالک کی قیادت اور عوام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ‘آئرن برادرز’ کا غیر معمولی رشتہ وقت کی ہر کسوٹی پر پورا اترا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مستحکم ہوا ہے۔
عالمی گورننس اقدام اور سی پیک کی وسیع افادیت
عطا اللہ تارڑ نے صدر شی جن پنگ کے بصیرت افروز عالمی گورننس اقدام (Global Governance Initiative) کو سراہا، جس نے مختصر عرصے میں عالمی جنوب کے عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانے اور ان کی نمائندگی کو فروغ دینے کے مثبت نتائج دکھانا شروع کر دیے ہیں۔ انہوں نے سی پیک کو دونوں اقوام کے عوام کو قریب لانے میں ایک کلیدی محرک قرار دیا اور صدر شی جن پنگ کے اسلام آباد کے تاریخی دورے کو ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے سفر کا سنگ میل قرار دیا۔ وفاقی وزیر نے ثقافتی تبادلے، عوامی روابط اور میڈیا کے فعال تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا، جو اس شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے میں بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے حکومت پاکستان کی جانب سے سی پیک اور عالمی گورننس اقدام کے فروغ میں فعال کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اپنے خطاب کا اختتام "پاک چین دوستی زندہ باد” کے پرجوش نعرے کے ساتھ کیا۔
