حج: دنیا کا سب سے بڑا سالانہ لاجسٹکس آپریشن

تحقیقی رپورٹ
تحریر: محمد خالد
ہر سال جب حج کا موسم آتا ہے تو دنیا بھر کے میڈیا میں ایک سوال بار بار اٹھایا جاتا ہے کہ سعودی عرب حج سے کتنی آمدنی حاصل کرتا ہے۔ لیکن اس سوال کا دوسرا رخ اکثر نظروں سے اوجھل رہ جاتا ہے: آخر 15 سے 17 لاکھ انسانوں کے اس عظیم اجتماع کو سنبھالنے کے لیے کتنے بڑے انتظامی، طبی، سیکیورٹی اور انفراسٹرکچر نظام کی ضرورت ہوتی ہے؟
حج صرف ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ دنیا کے سب سے بڑے اور پیچیدہ سالانہ لاجسٹکس آپریشنز میں شمار ہوتا ہے۔
اس سال کتنے افراد نے حج کیا؟
سعودی جنرل اتھارٹی برائے شماریات (GASTAT) کے مطابق حج 1446 ہجری (2025) میں مجموعی طور پر 16 لاکھ 73 ہزار 230 افراد نے حج ادا کیا۔ ان میں 15 لاکھ 6 ہزار 576 افراد بیرونِ ملک سے آئے جبکہ ایک لاکھ 66 ہزار 654 افراد سعودی عرب کے اندر سے تھے۔ مرد حاجیوں کی تعداد 877,841 جبکہ خواتین کی تعداد 795,389 ریکارڈ کی گئی۔
یہ تعداد دنیا کے بیشتر ممالک کے شہروں کی آبادی سے زیادہ ہے، جو صرف چند دنوں کے لیے ایک محدود جغرافیائی علاقے میں جمع ہوتی ہے۔
چند دنوں کے لیے آباد ہونے والا ایک عارضی شہر
منیٰ دنیا کے ان منفرد مقامات میں شامل ہے جہاں لاکھوں افراد کے لیے ایک عارضی شہر قائم کیا جاتا ہے۔ ہزاروں خیمے، طبی مراکز، سیکیورٹی پوائنٹس، خوراک کی فراہمی، صفائی کا نظام اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورک صرف چند دنوں کے لیے فعال ہوتا ہے۔
یہ انتظام سال بھر کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہوتا ہے جس پر ہزاروں انجینئرز، تکنیکی ماہرین اور سرکاری ادارے مسلسل کام کرتے ہیں۔
قربانی کا جدید ترین نظام
بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا عمل ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک بہت بڑا صنعتی اور لاجسٹک آپریشن ہے۔
سعودی عرب کے سرکاری "اداحی پراجیکٹ” کے مطابق 2025 میں عید کے پہلے دن 287 ہزار سے زائد قربانیاں انجام دی گئیں جبکہ مجموعی طور پر 8 لاکھ 11 ہزار سے زائد جانوروں کی فروخت ریکارڈ کی گئی۔ اس منصوبے کی صلاحیت 84 گھنٹوں کے دوران 10 لاکھ سے زائد جانوروں کو پراسیس کرنے کی ہے۔
گوشت کو جدید کولڈ چین سسٹم کے ذریعے محفوظ کر کے مستحق افراد تک پہنچایا جاتا ہے، جس سے ضیاع کم سے کم رہتا ہے۔
گرمی سے بچاؤ کا چیلنج
حج کے ایام اکثر شدید گرمی میں آتے ہیں۔ درجہ حرارت بعض اوقات 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے۔
اسی لیے مسجد الحرام، منیٰ، عرفات اور دیگر مقامات پر جدید کولنگ سسٹمز، واٹر مسٹنگ یونٹس، سایہ دار راستے اور لاکھوں لیٹر ٹھنڈا پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ سعودی حکام نے حالیہ برسوں میں گرمی کے اثرات کم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر اپ گریڈ کیا ہے۔
ٹرانسپورٹ: چند گھنٹوں میں لاکھوں افراد کی منتقلی
عرفات، مزدلفہ اور منیٰ کے درمیان لاکھوں افراد کی نقل و حرکت دنیا کے مشکل ترین ٹریفک آپریشنز میں شمار ہوتی ہے۔
اس مقصد کے لیے خصوصی بسوں، جدید سڑکوں اور "المشاعر میٹرو” جیسے منصوبوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ٹریفک مانیٹرنگ کے لیے جدید کیمرے، ڈیجیٹل کنٹرول رومز اور جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے تاکہ انسانی ہجوم کو محفوظ انداز میں منظم کیا جا سکے۔
ہزاروں نہیں، لاکھوں افراد کی خدمت
حج کے دوران سیکیورٹی اہلکار، ڈاکٹرز، نرسیں، رضاکار، صفائی عملہ، انجینئرز، ٹرانسپورٹ اسٹاف اور انتظامی اہلکار دن رات خدمات انجام دیتے ہیں۔
سعودی حکام کے مطابق گزشتہ حج سیزن میں ہزاروں طبی کارکن، ایمرجنسی ٹیمیں اور بڑی تعداد میں رضاکار مختلف مقامات پر تعینات رہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری نمٹا جا سکے۔
اصل حقیقت
حج کو صرف آمدنی یا اخراجات کے پیمانے پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ ایک ایسا عالمی اجتماع ہے جہاں چند دنوں کے اندر لاکھوں انسانوں کی رہائش، خوراک، صحت، ٹرانسپورٹ، صفائی اور سلامتی کا بندوبست کیا جاتا ہے۔
دنیا میں بہت کم ممالک ایسے ہیں جو اتنے بڑے ہجوم کو محدود وقت اور محدود جگہ میں اس پیمانے پر منظم کر سکیں۔
حج دراصل جدید انتظامی صلاحیت، انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی اور انسانی خدمت کا ایک ایسا امتزاج ہے جس کی مثال دنیا میں کم ہی ملتی ہے۔
