مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
اتوار، 4 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,833 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,833
صفحہ اول

سعودی وزیر توانائی کی روسی رہنمائوں سے ملاقاتیں، توانائی کے شعبے میں استحکام لانے پر تبادلہ خیال

📅 جمعہ، 05 جون 2026 ✍️ Muhammad Khalid ⏱ 3 منٹ
سعودی وزیر توانائی کی روسی رہنمائوں سے ملاقاتیں، توانائی کے شعبے میں استحکام لانے پر تبادلہ خیال
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

سینٹ پیٹرز برگ۔5جون (دوست نیوز):سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے روسی ہم منصب سے ملاقات کی جس دوران توانائی کے شعبے میں استحکام کے حوالے سے اقدامات بارے تبادلہ خیال کیا۔ ان کی یہ ملاقات روس کے شہر سینٹ پیٹرز برگ میں انٹرنیشنل اکنامک فورم کے موقع پر ہوئی جس کا مقصد عالمی سطح پر توانائی کے شعبے میں استحکام لانے کے لیے تبادلہ خیال کرنا تھا۔ العربیہ کے مطابق سعودی وزیر توانائی نے کہا دنیا کو اس وقت تیل کے ایک ایک قطرے کی ضرورت ہے اور ہم میں سے ہر کوئی چاہتا ہے کہ توانائی کے شعبے میں استحکام ہو کیونکہ توانائی کے بغیر ترقی کا سفر پائیداری حاصل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا میں ہمیں بہت ساری چیزیں متحرک دکھتی ہیں لیکن ایسی بھی بہت ساری چیزیں ہوتی ہیں جو ہمارے لیے نامعلوم ہیں۔ ایسی بہت ساری چیزیں ہیں جنہیں ہم حقیقیت سمجھتے ہیں لیکن جب اگلی صبح اٹھتے ہیں تو وہ حقیقیت نہیں ہوتیں۔ان کے روسی ہم منصب الیگزینڈر نوواک نے کہا کہ تیل کی ضروریات اس وقت غیر یقینی کا شکار ہیں لیکن اوپیک پلس اس صورتحال سے نمٹنے کی اہلیت رکھتا ہے۔دریں اثنا روس کے نائب وزیر اعظم نے بھی سعودی وزیر توانائی سے ملاقات کی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کوئی نہیں جانتا کہ اگلے لمحے کی ضروریات کیا ہوں گی، کیونکہ غیر یقینی صورتحال میں ہر لمحہ اضافہ ہو رہا ہے۔ اوپیک پلس گروپ میں 21 اقوام شامل ہیں جو پٹرولیم مصنوعات کی برآمد سے متعلق ہیں، ان میں روس اور دیگر اتحادی بھی شامل ہیں۔ایران کے خلاف امریکا و اسرائیل کی لڑائی کے نتیجے میں خلیجی ممالک کا تیل سے متعلق انفراسٹرکچر اور ترسیل کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ اس کے متاثر ہونے کی ایک بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی دہری ناکہ بندی بھی ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔روسی نائب وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں جو تخمینے لگائے گئے تھے اب وقت آگیا ہے کہ ان میں بنیادی تبدیلیاں کریں تاکہ حالات کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اوپیک کے سیکرٹری جرنل ھیثم الغیص نے کہا کہ تیل کی ضروریات میں غیر معمولی تبدیلیاں ہیں لیکن ہم اپنے پہلے سے کیے گئے تخمینے میں تبدیلی نہیں کر رہے کیونکہ تیل کی ضروریات اور مطالبات آئے روز بدل رہے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا ہمیں مستقبل میں تیل کی ضروریات پوری کرنے کی تیاری کے سلسلے میں اس شعبے میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔

ٹیگز: #KSA #pakistan
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں