بھارت کا چناب پانی موڑنے کا منصوبہ، سندھ طاس کی سنگین خلاف ورزی

اسلام آباد (دوست نیوز رپورٹ) — پاکستان نے بھارت کی جانب سے دریائے چناب کا پانی موڑنے کے منصوبے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ اقدام آبی حقوق اور قومی مفادات کے تحفظ کےلئے تمام آپشنز موجود ہیں۔
بھارت کی آبی جارحیت اور پاکستان کا موقف
ترجمان سفیر طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا کہ بھارت کے مجوزہ چناب-بیاس لنک ٹنل منصوبہ اور سلال ڈیم پر سلٹ فلشنگ کے منصوبوں سے متعلق اطلاعات ظاہر کرتی ہیں کہ نئی دہلی پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ایک ایسے منصوبے کے لئے بڈز طلب کی ہیں جس کا مقصد دریائے چناب سے سالانہ تقریباً 19 لاکھ ایکڑ فٹ پانی کو بیاس میں منتقل کرنا ہے۔ اس اقدام کو سندھ طاس معاہدے، بین الاقوامی آبی قوانین اور معاہداتی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
کشمیر تنازعہ اور عالمی برادری سے مطالبہ
پاکستان معاہدے کے تحت اپنے حقوق اور استحقاق کے تحفظ اور اپنے اہم قومی مفادات کے دفاع کےلئے تمام ضروری آپشنز محفوظ رکھتا ہے۔ ترجمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت سے مطالبہ کرے کہ وہ پاکستان کے قانونی حق کے پانی کے بہائوکو روکنے، کم کرنے یا موڑنے کے منصوبوں سے دستبردار ہوجائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کے پانی، خوراک اور معاشی تحفظ کو خطرے میں ڈالنے کی کوئی بھی کوشش خطے کے امن اور استحکام کےلئے سنگین نتائج کی حامل ہوسکتی ہے۔
تنازعہ جموں و کشمیر کے حوالے سے ترجمان نے ایک بار پھر کہا کہ یہ تنازعہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہے اور اس کا حل صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں، گھروں کی مسماری اور مقامی آبادی کی بے دخلی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات کشمیر کی آبادیاتی اور ثقافتی شناخت کو تبدیل کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
