مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,646 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,646
تازہ ترین

2026 جون کی بے وقت بارشیں: فصلوں کی تباہی اور عام آدمی کی پریشانی

📅 جمعرات، 04 جون 2026 ✍️ Ahmad Abid ⏱ 15 منٹ
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

رپورٹ: دوست نیوز ڈاٹ کام (DostNews.com)

1. پس منظر اور موسمیاتی تبدیلیوں کا بدلتا منظرنامہ

جب مئی کی شدید گرمی کے بعد جون کا مہینہ شروع ہوتا ہے، تو لوگ عام طور پر مونسون اور ٹھنڈی ہواؤں کا انتظار کرتے ہیں۔ ماضی میں جون کا مہینہ تپتی دھوپ اور لو کے لیے جانا جاتا تھا، جس کے بعد جولائی کے آغاز میں مونسون کی آمد ہوتی تھی۔ لیکن پچھلے کچھ سالوں سے پاکستان کا موسم بالکل بدل چکا ہے۔ وہ بارشیں جو پہلے گرمی سے جان چھڑانے کے لیے اچھی سمجھی جاتی تھیں اور کسان جن کا انتظار کرتے تھے، اب اپنے ساتھ بڑا نقصان، بربادی اور خوف لے کر آ رہی ہیں۔

اس سال بھی ملک کے کچھ حصوں میں جون کا آغاز شدید گرمی اور ہیٹ ویو سے ہوا، تو کہیں اچانک آسمان پر سیاہ بادل چھا گئے اور تیز ہواؤں، بے وقت کی طوفانی بارشوں اور ژالہ باری (اولے پڑنے) سے سب کچھ الٹ پلٹ ہو گیا۔ موسم کا یہ غیر متوقع مزاج اب کوئی معمولی واقعہ نہیں رہا، بلکہ یہ موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) کا ایک واضح اور ہولناک ثبوت ہے۔ یہ صرف موسم کا بدلنا نہیں ہے، بلکہ اس کا سیدھا اثر ہماری ملکی معیشت، زراعت، فصلوں اور ایک عام آدمی کے ماہانہ بجٹ پر پڑ رہا ہے۔


2. پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیاں: ایک عالمی المیہ

اگر دنیا کے نقشے پر دیکھا جائے تو پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو دنیا میں گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج اور آلودگی بہت کم (ایک فیصد سے بھی کم) پھیلاتے ہیں، لیکن عالمی سطح پر موسم کی تبدیلی کا سب سے زیادہ جون قصان پاکستان کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ گلوبل کلائمیٹ رسک انڈیکس کے مطابق، پاکستان دنیا کے ان چوٹی کے دس ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں ہیں۔

دنیا بھر کے ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ شمالی علاقہ جات میں گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا، بحیرہ عرب کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ اور گرین ہاؤس گیسوں کے اثرات پاکستان کے مونسون کے نظام کو مکمل طور پر غیر متوقع بنا رہے ہیں۔ اب مونسون اپنے روایتی وقت سے پہلے یا بہت بعد میں آتا ہے، اور جب آتا ہے تو چند دنوں میں پورے مہینے کی بارش ایک ساتھ برسا دیتا ہے۔ جون میں ہونے والی یہ بے وقت کی بارشیں اسی عدم توازن کا نتیجہ ہیں، جو بظاہر ٹھنڈک کا احساس دلاتی ہیں لیکن پسِ پردہ ہماری معیشت کی جڑیں کاٹ رہی ہیں۔


3. فصلیں تباہ: کسانوں کا ناقابلِ تلافی نقصان

پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی زراعت ہے اور ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی کا روزگار براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اس شعبے سے جڑا ہوا ہے۔ جون کا مہینہ زرعی کیلنڈر میں ایک انتہائی نازک اور اہم موڑ ہوتا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب چاول، کپاس اور گنے جیسی نقد آور (Cash Crops) فصلیں لگائی جا رہی ہوتی ہیں، جبکہ دوسری طرف پھلوں کے بادشاہ "آم” کے باغات تیار ہو کر مارکیٹ میں جانے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔

اس بے وقت کی برسات، ژالہ باری اور گرد آلود آندھیوں نے ملک کے زرعی شعبے کو شدید ترین نقصان پہنچایا ہے، جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

الف) کپاس کی فصل پر اثرات

کپاس کو پاکستان کی "سفید سونا” کہا جاتا ہے کیونکہ یہ ہماری ٹیکسٹائل انڈسٹری کا بنیادی خام مال ہے۔ جون کے مہینے میں کپاس کے پودے نازک مرحلے میں ہوتے ہیں۔

  • پانی کا کھڑا ہونا: جن علاقوں میں شدید اور طوفانی بارشیں ہوئیں، وہاں کپاس کے کھیت تالاب کا منظر پیش کرنے لگے۔ کپاس کا پودا زیادہ دیر پانی کھڑا رہنے کی تاب نہیں لا سکتا، جس کی وجہ سے پودوں کی جڑیں گل گئیں اور فصل ابتدائی مرحلے میں ہی تباہ ہو گئی۔
  • خشکی اور ہیٹ ویو کا وار: دوسری طرف، جن علاقوں میں بارش نہیں ہوئی بلکہ سخت گرمی اور خشکی رہی، وہاں نہری پانی کی شدید قلت کی وجہ سے نئی لگائی گئی فصلیں زمین کے اندر ہی جل کر راکھ ہو گئیں اور کسان دوبارہ کاشت کرنے کے قابل نہ رہے۔

ب) چاول کی پنیری کی بربادی

چاول پاکستان کی دوسری بڑی برآمدی فصل ہے۔ جون میں کسان چاول کی پنیری تیار کرتے ہیں جسے بعد میں بڑے کھیتوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔

  • ژالہ باری کا نقصان: جون کے اوائل میں ہونے والی شدید ژالہ باری نے چاول کی نازک پنیری کو کچل کر رکھ دیا۔
  • منتقلی میں تاخیر: کھیتوں میں بے وقت پانی جمع ہونے کی وجہ سے زمین اس قابل نہیں رہی کہ وہاں چاول کی بروقت کاشت کی جا سکے۔ اس تاخیر کا اثر براہِ راست فصل کی مجموعی پیداوار پر پڑے گا۔

ج) آم کے باغات کو شدید دھچکا

پنجاب (خصوصاً ملتان، مظفر گڑھ اور خانوال) اور سندھ (خصوصاً میرپورخاص اور حیدرآباد) کے اضلاع آم کی پیداوار کے لیے مشہور ہیں۔ جون کا مہینہ آم کے پکنے اور ان کی چنائی کا ہوتا ہے۔

  • آندھی اور اولے: جون کی تیز آندھیوں اور اولے پڑنے کی وجہ سے درختوں پر لگا ہوا پکا اور نیم پکا آم کٹ کر زمین پر گر گیا۔ زمین پر گرنے والا آم منڈی پہنچنے کے قابل نہیں رہتا اور سستے داموں جوس فیکٹریوں کو بیچنا پڑتا ہے یا وہ سڑ جاتا ہے۔
  • باغبانوں کا نقصان: اس موسمیاتی آفت کی وجہ سے باغبانوں اور بیوپاریوں کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے، جس کی وجہ سے اس سال آم کی برآمدات (Exports) کے اہداف کو پورا کرنا ناممکن نظر آتا ہے۔

د) مہنگی کھاد، بیج اور ڈیزل کا ضیاع

موجودہ معاشی حالات میں پاکستان کا کسان پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے۔

  • لاگت میں دگنا اضافہ: کھاد (یوریا اور ڈی اے پی)، کیڑے مار ادویات، اور ٹریکٹر کے لیے ڈیزل کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں۔ کسانوں نے جو مہنگی کھادیں اور بیج قرض لے کر ڈالے تھے، اچانک آنے والے سیلابی پانی نے انہیں بہا دیا۔
  • دوبارہ کاشتکاری کا بوجھ: اب کسانوں کو دوبارہ سے زمین تیار کرنے، نئے بیج خریدنے اور دوبارہ کھاد ڈالنے کے لیے سرمائے کی ضرورت ہے، جو ان کے پاس موجود نہیں ہے۔

4. عام لوگوں پر اثرات: مہنگائی، صحت اور معاشی بحران

جب کھیتوں میں فصل خراب ہوتی ہے، تو اس کا اثر صرف دیہات یا کسانوں تک محدود نہیں رہتا، بلکہ سپلائی چین کے ذریعے یہ ملک کے ہر شہر، ہر گلی اور ہر گھر کے باورچی خانے تک پہنچتا ہے۔ جون کی ان بے وقت بارشوں نے عام آدمی کی زندگی کو مزید اجیرن بنا دیا ہے۔

الف) کمر توڑ مہنگائی اور خوراک کا بحران

فصلیں اور سبزیوں کے کھیت خراب ہونے کی وجہ سے ہول سیل منڈیوں میں مقامی سبزیوں اور پھلوں کی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

  • روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ: ٹماٹر، پیاز، آلو، ہری مرچ اور دیگر بنیادی سبزیاں اتنی مہنگی ہو چکی ہیں کہ غریب اور مڈل کلاس آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا مینو برقرار رکھنا ناممکن ہو گیا ہے۔
  • مڈل مین کا کردار: اس صورتحال کا فائدہ اٹھا کر ذخیرہ اندوز اور منافع خور مڈل مین (آڑھتی) مصنوعی مہنگائی پیدا کر رہے ہیں، جس کا نقصان کسان کو ہوتا ہے اور نہ ہی خریدار کو کوئی ریلیف ملتا ہے۔

ب) صحت کے سنگین مسائل اور وبائی امراض

شدید گرمی اور پھر اچانک بارش کے بعد جو حبس اور نمی کا ماحول پیدا ہوتا ہے، وہ مختلف بیماریوں کے پھیلنے کے لیے سازگار ترین ماحول فراہم کرتا ہے۔

  • مچھروں کی افزائش: گلیوں اور نشیبی علاقوں میں جمع ہونے والے پانی کی وجہ سے مچھروں کی افزائش میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ کئی علاقوں میں ڈینگی اور ملیریا کے کیسز تیزی سے رپورٹ ہو رہے ہیں۔
  • پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں: بارش کا پانی پینے کے صاف پانی کی لائنوں میں مکس ہونے کی وجہ سے گیسٹرو، ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس اور پیٹ کی دیگر بیماریاں پھیل رہی ہیں، جس کی وجہ سے سرکاری ہسپتالوں پر بوجھ ان کی گنجائش سے زیادہ بڑھ چکا ہے۔

ج) کسانوں کا ذہنی دباؤ اور دیہات سے شہروں کی طرف ہجرت

زمیندار اور کسان اپنی فصل کو اپنے بچوں کی طرح پالتے ہیں۔ جب وہ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی مہینوں کی محنت کو چند گھنٹوں کے طوفان میں برباد ہوتے دیکھتے ہیں، تو ان کے دل ٹوٹ جاتے ہیں۔

  • قرضوں کا بوجھ: اکثریت کسانوں کی وہ ہے جو بینکوں، نجی کمپنیوں یا مقامی آڑھیوں سے بھاری سود پر قرض لے کر فصل اگاتے ہیں۔ فصل تباہ ہونے کے بعد ان کے پاس قرض واپس کرنے کا کوئی راستہ نہیں بچتا۔
  • نفسیاتی مسائل اور ہجرت: یہ صورتحال کسانوں کو شدید ذہنی دباؤ، دل کے دورے اور بعض اوقات خودکشی جیسے انتہائی اقدامات پر مجبور کر دیتی ہے۔ اس کے علاوہ، دیہی علاقوں میں روزگار ختم ہونے کی وجہ سے لوگ اپنے آبائی گھر چھوڑ کر شہروں کی طرف ہجرت کر رہے ہیں، جس سے بڑے شہروں پر آبادی کا بوجھ اور جرائم کی شرح بڑھ رہی ہے۔

5. زرعی معیشت کو لاحق مستقبل کے خطرات

اگر موجودہ صورتحال کا گہرائی سے تجزیہ کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ صرف ایک سال کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کی غذائی خودمختاری (Food Security) کے لیے ایک مستقل خطرہ بن چکا ہے۔

فصل / شعبہبے وقت بارشوں کے اثراتمعاشی و سماجی نتیجہ
کپاس (Cotton)ابتدائی پودوں کی تباہی، کوالٹی میں کمیٹیکسٹائل انڈسٹری کو خام مال کی کمی، درآمدات پر انحصار
چاول (Rice)پنیری کا نقصان، کاشت میں تاخیربرآمدات میں کمی، ملکی زرمبادلہ کا نقصان
آم کے باغاتپھل کا قبل از وقت گرنا، کیڑے کا حملہباغبانوں کا دیوالیہ پن، مقامی مارکیٹ میں گرانی
سبزیاں اور چارہکھیتوں میں پانی کھڑا ہونا، گل سڑ جانادودھ اور گوشت کی قیمتوں میں اضافہ، غذائی قلت

اگر وقت پر کسانوں کی مدد نہ کی گئی اور انہیں جدید زرعی ٹیکنالوجی فراہم نہ کی گئی، تو آنے والے چند سالوں میں پاکستان کو گندم، چاول اور چینی جیسی بنیادی اشیاء بھی دوسرے ملکوں سے درآمد کرنی پڑیں گی، جو ہمارے پہلے سے خالی خزانے پر ایک بہت بڑا بوجھ ہوگا۔

6. اس بحران کا حل کیا ہے؟ (سفارشات اور اقدامات)

موسمیاتی تبدیلیوں کو مکمل طور پر روکنا تو انسان کے بس میں نہیں ہے، لیکن جدید ٹیکنالوجی، بہتر حکمتِ عملی اور حکومتی سرپرستی کے ذریعے اس کے نقصانات کو کم سے کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کو اس بحران سے نکالنے کے لیے درج ذیل اقدامات فوری طور پر کرنے ہوں گے:

۱. سمارٹ ایگریکلچر اور کلائمیٹ ریزسٹنٹ بیج (Climate-Resilient Seeds)

ہمیں اب روایتی بیجوں اور طریقوں کو چھوڑنا ہوگا۔ حکومت کے زرعی تحقیقاتی اداروں (جیسے PARC) کو ایسے بیج متعارف کروانے چاہئیں جو:

  • زیادہ درجہ حرارت (ہیٹ ویو) کو برداشت کر سکیں۔
  • اچانک آنے والے پانی یا سیلابی صورتحال میں بھی خراب نہ ہوں۔
  • کم وقت میں تیار ہو سکیں تاکہ موسم کے بدلتے تیوروں سے پہلے ہی فصل کاٹ لی جائے۔

۲. موسم کی پیشگوئی کا جدید نظام (Early Warning System)

ہمارے کسانوں کو اکثر اس وقت پتا چلتا ہے جب طوفان سر پر پہنچ جاتا ہے۔ پاکستان کے محکمہ موسمیات کو جدید سیٹلائٹ ٹیکنالوجی سے لیس کیا جانا چاہیے، اور ایک ایسا موبائل ایپ یا ایس ایم ایس الرٹ سسٹم بنانا چاہیے جو ہر کسان کو اس کے علاقے کے موسم کی صورتحال کم از کم ایک ہفتہ پہلے بتا دے، تاکہ وہ کھاد ڈالنے یا پانی دینے کا فیصلہ اس کے مطابق کر سکے۔

۳. کسانوں کے لیے سستی انشورنس اسکیمیں (Crop Insurance)

حکومت کو تمام چھوٹے اور بڑے کسانوں کے لیے "فصل انشورنس اسکیم” لازمی قرار دینی چاہیے۔ اگر کسی قدرتی آفت، بے وقت کی بارش یا اولے پڑنے سے فصل تباہ ہو جائے، تو انشورنس کمپنی کسان کو اس کی لاگت کا معاوضہ ادا کرے، تاکہ وہ اگلے سیزن کے لیے دوبارہ کھڑا ہو سکے اور قرضوں کے دلدل میں نہ پھنسے۔

۴. واٹر مینجمنٹ اور ڈرینج سسٹم کی بہتری

کھیتوں سے زائد پانی نکالنے کا نظام (Drainage System) انتہائی ناقص ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ دیہی علاقوں میں نالوں کی صفائی کرے اور ایسے چھوٹے ڈیم اور تالاب بنائے جہاں بارش کے اس اضافی پانی کو ذخیرہ کیا جا سکے، تاکہ یہی پانی بعد میں خشکی کے دنوں میں آبپاشی کے کام آ سکے۔

دوست نیوز کی رائے (ایڈیٹوریل نوٹ)

جون کی یہ بدلتی صورتحال، بے وقت کی طوفانی بارشیں اور شدید ہیٹ ویوز ہمارے لیے ایک عام موسمی واقعہ نہیں بلکہ ایک سنگین خطرے کی گھنٹی ہیں۔ اب حکومت، زرعی اداروں اور اربابِ اختیار کو پرانے روایتی طریقوں اور بیانات سے نکل کر کسانوں کی فوری اور عملی مدد کرنی ہوگی۔ کسانوں کو موسم کی وقت پر معلومات دینا، سستے اور جدید بیج فراہم کرنا اور نقصان کی صورت میں فوری مالی امداد (امدادی پیکجز) دینا بے حد ضروری ہو چکا ہے۔

ہمیں یہ بات سمجھنی ہوگی کہ کسان اس ملک کا وہ ان داتا ہے جو خود دھوپ میں جل کر پورے ملک کا پیٹ بھرتا ہے۔ اگر آج ہم نے سیاست، بیوروکریسی اور سستی کو چھوڑ کر اپنے کسان کا ہاتھ نہ تھاما، تو کل پورا ملک نہ صرف کمر توڑ مہنگائی کے طوفان میں ڈوب جائے گا بلکہ ہمیں شدید غذائی بحران اور بھوک کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وقت تیزی سے نکل رہا ہے، اور اب عمل کرنے کا وقت ہے۔

2026 جون کی بے وقت بارشیں: فصلوں کی تباہی اور عام آدمی کی پریشانی

https://dostnews.com

https://dostmarketing.pk

https://commercenews.pk

SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں