مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,619 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,619
تازہ ترین

کیا آپ کے فیصلے آپ کرتے ہیں یا آپ کا خوف؟

📅 بدھ، 03 جون 2026 ✍️ Muhammad Khalid ⏱ 5 منٹ
khalid
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا


تحریر: محمد خالد
انسان کی زندگی میں خوف ایک فطری احساس ہے۔ اگر خوف نہ ہو تو شاید انسان اپنی حفاظت بھی نہ کر سکے۔ سڑک پار کرتے وقت گاڑی سے بچنا، آگ سے دور رہنا یا کسی خطرناک صورتحال میں محتاط ہو جانا دراصل خوف ہی کا مثبت پہلو ہے۔ لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب خوف ہماری حفاظت کے بجائے ہماری زندگی پر حکمرانی شروع کر دے۔
دنیا میں لاکھوں لوگ ایسے ہیں جو بظاہر ایک عام زندگی گزار رہے ہوتے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ اپنے خوف کے قیدی ہوتے ہیں۔ کوئی لفٹ میں جانے سے گھبراتا ہے، کوئی جہاز میں سفر کرنے سے، کوئی مجمع میں بولنے سے اور کوئی بند جگہوں میں جانے سے خوف محسوس کرتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ جانتے ہیں کہ ان کا خوف حقیقت سے زیادہ بڑا ہے، لیکن پھر بھی وہ خود کو اس پر قابو پانے سے قاصر پاتے ہیں۔
نفسیات کی زبان میں یہی وہ مقام ہے جہاں عام خوف اور فوبیا کے درمیان فرق پیدا ہوتا ہے۔
فوبیا دراصل دماغ کا ایک ایسا حفاظتی نظام ہے جو ضرورت سے زیادہ حساس ہو چکا ہوتا ہے۔ جیسے بعض اوقات کسی عمارت کا فائر الارم معمولی دھوئیں پر بھی بجنے لگتا ہے، اسی طرح بعض لوگوں کا دماغ ایسے حالات میں بھی خطرے کا سگنل جاری کر دیتا ہے جہاں حقیقی خطرہ موجود نہیں ہوتا۔
یہ مسئلہ اکثر کسی تلخ تجربے، شدید گھبراہٹ یا ذہنی دباؤ کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ دماغ اس واقعے کو ایک خطرے کے طور پر محفوظ کر لیتا ہے۔ بعد ازاں جب بھی ویسی صورتحال سامنے آتی ہے تو جسم فوری طور پر ردعمل دینا شروع کر دیتا ہے۔ دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، سانس میں بے ترتیبی پیدا ہوتی ہے، پسینہ آتا ہے اور انسان وہاں سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے۔
اصل مسئلہ خوف نہیں بلکہ خوف سے مسلسل فرار ہے۔
بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ جس چیز سے ڈر لگتا ہے اس سے دور رہنا ہی عقل مندی ہے۔ وقتی طور پر یہ درست محسوس ہوتا ہے، لیکن طویل مدت میں یہی طرزِ عمل خوف کو مزید طاقتور بنا دیتا ہے۔ دماغ یہ سیکھ لیتا ہے کہ نجات صرف بھاگنے میں ہے، چنانچہ ہر نئی بار خوف پہلے سے زیادہ شدت اختیار کر لیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بعض افراد کا دائرۂ زندگی آہستہ آہستہ محدود ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ وہ مخصوص راستوں، جگہوں، تقریبات یا مواقع سے بچنے لگتے ہیں۔ بظاہر وہ محفوظ ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں ان کی آزادی کم ہوتی جا رہی ہوتی ہے۔
ماہرینِ نفسیات کے مطابق فوبیا کوئی کمزوری، بزدلی یا کردار کا نقص نہیں ہے۔ یہ دماغ کی سیکھ کا ایک ایسا نمونہ ہے جسے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ جدید تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ انسانی دماغ میں نئے عصبی راستے بنانے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ اسی صلاحیت کی بنیاد پر مناسب رہنمائی، تھراپی اور مسلسل مشق کے ذریعے خوف کی شدت کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
زندگی کا ایک اہم سبق یہ ہے کہ خوف کو نظر انداز کرنا یا اس سے بھاگنا مسئلے کا حل نہیں۔ اکثر اوقات ترقی، کامیابی اور آزادی کا راستہ اسی دروازے کے پیچھے ہوتا ہے جسے کھولنے سے ہم ڈرتے ہیں۔
اگر کوئی شخص برسوں سے کسی مخصوص خوف کی وجہ سے اپنی زندگی محدود کر رہا ہے تو اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ اکیلا نہیں۔ دنیا بھر میں لاکھوں افراد اس کیفیت سے گزرتے ہیں اور ان میں سے بے شمار لوگ مناسب مدد اور درست رہنمائی کے ذریعے دوبارہ ایک آزاد اور پُراعتماد زندگی کی طرف لوٹ آتے ہیں۔
کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ خوف انسان کی فطرت ہے، لیکن خوف کے سامنے ہار مان لینا اس کی تقدیر نہیں۔

ٹیگز: #decision #fear
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں