غریب کا بچہ غریب ہی کیوں رہ جاتا ہے؟

تحریر: محمد خالد
دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا والدین ہوں جو اپنے بچوں کے لیے بہتر مستقبل نہ چاہتے ہوں۔ ہر ماں باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے وہ مقام حاصل کریں جو انہیں خود نصیب نہ ہو سکا۔ لیکن ہمارے معاشرے کا ایک تلخ سچ یہ بھی ہے کہ اکثر غریب کا بچہ غریب ہی رہ جاتا ہے، جبکہ امیر کا بچہ نسبتاً آسانی سے کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتا چلا جاتا ہے۔
یہ بات کسی حسد یا طبقاتی نفرت کی نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت کی ہے جو ہمارے اردگرد روزانہ دیکھی جا سکتی ہے۔
ایک غریب خاندان میں پیدا ہونے والا بچہ زندگی کی دوڑ اس مقام سے شروع کرتا ہے جہاں اس کے پاس بنیادی سہولیات بھی مکمل نہیں ہوتیں۔ کبھی مناسب تعلیم میسر نہیں آتی، کبھی علاج، کبھی رہائش اور کبھی روزگار کے مواقع۔ اس کے برعکس ایک خوشحال خاندان کا بچہ بہتر سکول، بہتر ماحول، بہتر رہنمائی اور بہتر مواقع کے ساتھ زندگی کا آغاز کرتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا صرف دولت ہی کامیابی کا راز ہے؟
ہرگز نہیں۔
دنیا کی تاریخ ایسے لوگوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے غربت سے اٹھ کر عظیم کامیابیاں حاصل کیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایسی مثالیں استثنا ہیں، معمول نہیں۔ ایک صحت مند معاشرے کی پہچان یہ نہیں کہ چند لوگ غربت سے نکل جائیں بلکہ یہ ہے کہ ہر محنتی شخص کو آگے بڑھنے کا برابر موقع ملے۔
ہمارے ہاں ایک مزدور کا بچہ اکثر مزدور بن جاتا ہے، کسان کا بچہ کسان، اور دیہاڑی دار کا بچہ دیہاڑی دار۔ وجہ یہ نہیں کہ ان میں صلاحیت نہیں ہوتی بلکہ وجہ یہ ہے کہ ان کے راستے میں رکاوٹیں زیادہ اور مواقع کم ہوتے ہیں۔
تعلیم کو ہی دیکھ لیجیے۔
ایک طرف ایسے تعلیمی ادارے ہیں جہاں لاکھوں روپے فیس دی جاتی ہے اور دوسری طرف ایسے سکول بھی ہیں جہاں بنیادی سہولیات تک میسر نہیں۔ جب آغاز ہی مختلف ہو تو اختتام ایک جیسا کیسے ہو سکتا ہے؟
روزگار کا میدان بھی کچھ مختلف نہیں۔
بعض نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے سالہا سال نوکریوں کی تلاش میں پھرتے رہتے ہیں جبکہ بعض لوگوں کے لیے دروازے پہلے سے کھلے ہوتے ہیں۔ یہ صورتحال صرف افراد نہیں بلکہ پورے معاشرے میں احساس محرومی پیدا کرتی ہے۔
اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ غربت صرف جیب کو خالی نہیں کرتی بلکہ خوابوں کو بھی محدود کر دیتی ہے۔
ایک امیر گھر کا نوجوان کاروبار میں ناکام ہو جائے تو دوبارہ کوشش کر سکتا ہے، لیکن ایک غریب نوجوان کے لیے ایک ناکامی ہی کئی سالوں کی محنت ضائع کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے باصلاحیت لوگ صرف وسائل کی کمی کی وجہ سے اپنی منزل تک نہیں پہنچ پاتے۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ ہم اکثر غربت کو فرد کی ناکامی سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ کئی مرتبہ یہ پورے نظام کی ناکامی ہوتی ہے۔
جب تعلیم مہنگی ہو جائے، صحت عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جائے، روزگار محدود ہو جائے اور میرٹ کمزور پڑ جائے تو پھر معاشرے میں طبقاتی فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ یہی فاصلے آگے چل کر معاشی اور سماجی بحرانوں کو جنم دیتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ امیر ہونا جرم ہے یا کامیاب لوگ قصوروار ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کامیابی کا راستہ صرف چند لوگوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ معاشرے کی اصل طاقت اس وقت سامنے آتی ہے جب ایک غریب گھر کا ذہین بچہ بھی اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر ڈاکٹر، انجینئر، صحافی، سائنس دان یا کاروباری رہنما بن سکے۔
قومیں صرف بلند و بالا عمارتوں سے ترقی یافتہ نہیں بنتیں بلکہ اس وقت ترقی کرتی ہیں جب ایک غریب بچے کو بھی یہ یقین ہو کہ محنت، قابلیت اور دیانت داری کے ذریعے وہ اپنی تقدیر بدل سکتا ہے۔
اگر کسی معاشرے میں خواب صرف امیروں کی جاگیر بن جائیں تو وہاں ناامیدی جنم لیتی ہے۔ لیکن اگر مواقع سب کے لیے برابر ہوں تو وہی معاشرہ ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم طبقاتی تقسیم کے بجائے مواقع کی مساوات پر توجہ دیں۔ بہتر تعلیم، مضبوط میرٹ، شفاف نظام اور روزگار کے مواقع وہ بنیادیں ہیں جن پر ایک مضبوط اور خوشحال معاشرہ تعمیر ہوتا ہے۔
غریب کا بچہ غریب ہی رہے، یہ کوئی قدرتی قانون نہیں۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جسے بہتر پالیسیوں، انصاف اور مساوی مواقع کے ذریعے بدلا جا سکتا ہے۔
جس دن اس ملک کا ہر بچہ، خواہ وہ کسی جھونپڑی میں پیدا ہوا ہو یا کسی محل میں، برابر مواقع حاصل کرنے لگے گا، اسی دن حقیقی ترقی کا سفر شروع ہوگا۔
اور شاید اسی دن یہ سوال بھی ختم ہو جائے گا کہ غریب کا بچہ غریب ہی کیوں رہ جاتا ہے؟
