2026 بیجنگ سے سنگاپور تک: سپر پاورز کی نئی بساط اور دنیا کا مستقبل
ایک ایسی کہانی جہاں دونوں ممالک معاشی طور پر ایک دوسرے سے فائدہ بھی اٹھانا چاہتے ہیں، اور سیکیورٹی کے میدان میں ایک دوسرے کو زیر کرنے کی تیاری بھی کر رہے ہیں۔ اسے ماہرین سیاست "اسٹریٹجک اسٹیبلٹی” (مستحکم اور نپی تلی دشمنی) کا نام دے رہے ہیں۔
دوست نیوز
مئی 2026 کی دھوپ دنیا بھر میں سیاسی تپش کو مزید بڑھا رہی ہے۔ اگر ہم گزشتہ چند ہفتوں کی عالمی سیاست کا گہرا جائزہ لیں، تو دنیا کے دو سب سے بڑے کھلاڑیوں—امریکہ اور چین—کے درمیان ایک ایسا کھیل کھیلا جا رہا ہے جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ ایک طرف مئی کے وسط میں بیجنگ کے تاریخی ‘گریٹ ہال آف دی پیپلز’ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان مصافحہ ہوتا ہے، تو دوسری طرف مئی کے اسی آخری ہفتے میں سنگاپور کے ‘شانگری لا ڈائیلاگ’ (بین الاقوامی دفاعی کانفرنس) میں امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ ایشیائی ممالک کو چین کے بڑھتے ہوئے فوجی اثر و رسوخ کے خلاف ہتھیار جمع کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
یہ تضاد ہی دراصل مئی 2026 میں امریکہ اور چین کے تعلقات کی اصل کہانی ہے۔ ایک ایسی کہانی جہاں دونوں ممالک معاشی طور پر ایک دوسرے سے فائدہ بھی اٹھانا چاہتے ہیں، اور سیکیورٹی کے میدان میں ایک دوسرے کو زیر کرنے کی تیاری بھی کر رہے ہیں۔ اسے ماہرین سیاست "اسٹریٹجک اسٹیبلٹی” (مستحکم اور نپی تلی دشمنی) کا نام دے رہے ہیں۔
1. بیجنگ سمٹ 2026: دو بادشاہوں کی ملاقات اور ‘عارضی صلح’
رواں ماہ 14 اور 15 مئی کو بیجنگ میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات نے پوری دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ چین کوئی عام سفارتی دورہ نہیں تھا۔ یہ ایک ایسی "پرفارمنس” تھی جس کا مقصد دونوں رہنماؤں کو اپنے اپنے ملک کے اندرونی حلقوں میں طاقتور دکھانا تھا۔
چینی صدر شی جن پنگ نے اس ملاقات میں ایک بہت گہری بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ:
"امریکہ اور چین کو ایک ایسی ‘تعمیراتی تزویراتی استحکام’ (Constructive Strategic Stability) کی بنیاد رکھنی چاہیے جہاں دوستی نہ سہی، مگر اختلافات کا دائرہ حد سے باہر نہ جائے اور امن برقرار رہے۔”
اس ملاقات کے نتیجے میں ایک نیا ادارہ "بورڈ آف ٹریڈ” (مجلسِ تجارت) قائم کیا گیا ہے۔ اس بورڈ کا کام یہ ہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان حساس ٹیکنالوجی کے جھگڑوں کو الگ رکھے اور عام تجارت، خصوصاً زراعت اور ہوا بازی (Aviation) کو متاثر نہ ہونے دے۔
چنانچہ، چین نے امریکہ سے سالانہ 17 ارب ڈالر کی زرعی مصنوعات (جیسے سویا بین، مکئی اور سور کا گوشت) خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔ یہ امریکہ کی کل زرعی برآمدات کا تقریباً 55 فیصد بنتا ہے۔ امریکی کسان ٹرمپ کے بڑے حمایتی ہیں، اس لیے ٹرمپ کے لیے یہ معاہدہ اندرونی سیاست کا ایک بڑا جیک پاٹ ثابت ہوا۔
2. مئی 2026 کی تلخ حقیقتیں: ٹیکنالوجی اور سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں
پہلی نظر میں لگتا ہے کہ شاید دونوں سپر پاورز کے درمیان برف پگھل رہی ہے، لیکن اگر ہم اس کی تہوں کو ٹٹولیں، تو پتہ چلتا ہے کہ یہ صرف ایک عارضی جنگ بندی (Strategic Pause) ہے۔ بیجنگ کی بند کمرہ ملاقاتوں میں ان اصل مسائل پر بات ہی نہیں کی گئی جو دونوں کو جنگ کے دہانے پر کھڑا کر سکتے ہیں۔
- مائیکرو چپس کی جنگ: امریکہ نے چین پر ایڈوانسڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اور کمپیوٹر چپس کی برآمد پر سخت پابندیاں لگا رکھی ہیں۔ امریکی کمپنی ‘Nvidia’ کی جدید ترین چپس (H200) کی چین کو فروخت اب بھی مکمل طور پر بلاک ہے۔
- تائیوان کا مسئلہ: صدر شی جن پنگ نے ٹرمپ کو واضح الفاظ میں وارننگ دی ہے کہ تائیوان کے معاملے میں کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کا انجام براہِ راست فوجی تصادم ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف، ٹرمپ نے تائیوان کو دی جانے والی امریکی امداد کو ایک "سیاسی مہرے” کے طور پر استعمال کرنے کا اشارہ دیا ہے اور تائیوان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی چپس بنانے والی فیکٹریاں (Semiconductor Fabs) امریکہ منتقل کرے۔
- جوہری ہتھیاروں کی دوڑ: فروری 2026 میں امریکہ اور روس کے درمیان نیو اسٹارٹ (New START) نامی جوہری معاہدہ ختم ہو چکا ہے۔ اب چین بڑی تیزی سے سنکیانگ اور گانسو کے علاقوں میں اپنے نئے جوہری میزائلوں کے سائلوز (ذخیرہ اندوز گودام) بنا رہا ہے تاکہ وہ امریکہ کے برابر جوہری طاقت حاصل کر سکے ۔
3. سنگاپور کا میدان: دفاعی سرد جنگ کا نیا محاذ
مئی کے آخری دنوں میں سنگاپور میں ہونے والے ‘شانگری لا ڈائیلاگ’ نے بیجنگ کی سفارتی مسکراہٹوں کے پیچھے چھپی تلخی کو پوری طرح بے نقاب کر دیا۔ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کھلے عام ایشیائی ممالک کو خبردار کیا کہ چین کی فوجی تاریخ کا یہ سب سے بڑا پھیلاؤ ایک "جائز خطرہ” ہے۔ امریکہ اب ‘کواڈ’ (Quad)، ‘اوکس’ (AUKUS) اور ‘امریکہ-جاپان-فلپائن’ کے تہرے گٹھ جوڑ کے ذریعے چین کو سمندر کے راستوں پر گھیرنے کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔
چین کے لیے سب سے بڑا دردِ سر اس کا "ملاکّہ ڈائلما” (Malacca Dilemma) ہے۔ چین کی 80 فیصد پٹرولیم مصنوعات اور توانائی کی درآمدات بحرِ ہند میں ‘سٹریٹ آف ملاکّہ’ (خلیجِ ملاکّہ) کے تنگ سمندری راستے سے گزرتی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور خلیجِ ہرمز کی ممکنہ بندش کی وجہ سے چین شدید دباؤ میں ہے۔ اگر کل کو امریکہ کے ساتھ کوئی تنازعہ ہوتا ہے، تو امریکی بحریہ اس راستے کو بند کر سکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ چین متبادل راستوں کے لیے پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) اور میانمار پائپ لائن جیسے منصوبوں پر دن رات کام کر رہا ہے تاکہ وہ سمندری ناکہ بندی سے بچ سکے۔
4. پاکستان اور گلوبل ساؤتھ پر اس کے اثرات
امریکہ اور چین کی اس کشمکش کا سب سے بڑا اثر پاکستان اور اس جیسے دیگر ترقی پذیر ممالک (Global South) پر پڑ رہا ہے۔ دنیا اب کثیر الجہتی (Multilateral) سے نکل کر بلاکس کی سیاست کی طرف جا رہی ہے۔ مارچ 2026 میں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (WTO) کی وزارتی کانفرنس کسی بھی معاہدے کے بغیر بری طرح ناکام ہو گئی، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ عالمی تجارتی قوانین اب سپر پاورز کی مرضی کے تابع ہو چکے ہیں۔
ماہرینِ معاشیات کے مطابق، نومبر 2026 میں امریکہ اور چین کے درمیان ہونے والا عارضی تجارتی معاہدہ (Busan Trade Truce) ختم ہو جائے گا۔ اس کے بعد دنیا کو ایک نئے معاشی جھٹکے کے لیے تیار رہنا چاہیے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کے حالات کی وجہ سے پٹرول اور مال برداری کی قیمتیں پہلے ہی آسمان کو چھو رہی ہیں۔
نیچے دیا گیا جدول مئی 2026 کی صورتحال کے مطابق دونوں ممالک کے بنیادی مفادات اور حکمتِ عملی کو واضح کرتا ہے:
| خصوصیت / میدان | ریاستہائے متحدہ امریکہ (USA) | عوامی جمہوریہ چین (China) |
| بنیادی مقصد | عالمی سطح پر اپنی چودھراہٹ (Hegemony) اور سپلائی چین پر کنٹرول برقرار رکھنا۔ | عالمی نظام کو اپنے حق میں بدلنا اور ایشیا پیسیفک ریجن میں بالادستی۔ |
| فوری معاشی مفاد | اپنے کسانوں اور مینوفیکچرنگ انڈسٹری کو بچانا (چین سے 17 ارب ڈالر کی زرعی ڈیل)۔ | امریکی پابندیوں سے بچ کر اپنی معیشت کو مستحکم کرنا اور سستی توانائی کا حصول۔ |
| فوجی حکمتِ عملی | اوکس (AUKUS) اور کواڈ (Quad) کے ذریعے چین کے گرد دفاعی گھیرا تنگ کرنا۔ | جوہری ہتھیاروں میں اضافہ (DF-41 میزائل) اور CPEC جیسے متبادل راستوں کی تعمیر۔ |
| کمزوری | دفاعی ساز و سامان کے لیے خام مال اور نایاب دھاتوں (Rare Earths) پر چین کا کنٹرول۔ | ملاکّہ کی خلیج پر انحصار اور تائیوان کے معاملے پر ممکنہ عالمی پابندیاں۔ |
حاصلِ کلام: دوست نیوز کا تجزیہ
امریکہ اور چین کے درمیان مئی 2026 کی یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ دنیا کسی بڑی جنگ کی طرف نہیں جا رہی، لیکن یہ کوئی پائیدار امن بھی نہیں ہے۔ یہ ایک "اسٹریٹجک جنگ بندی” ہے جس میں دونوں ممالک وقت حاصل کر رہے ہیں۔ امریکہ اپنی گرتی ہوئی مینوفیکچرنگ اور دفاعی صلاحیتوں کو دوبارہ کھڑا کرنے کے لیے وقت چاہتا ہے، جبکہ چین اپنے آپ کو معاشی طور پر اتنا مضبوط بنانا چاہتا ہے کہ کل کو اگر کوئی پابندی لگے تو اسے نقصان نہ پہنچے۔
چین اب وہ پرانا چین نہیں رہا جو دنیا کے سامنے جھک کر سمجھوتہ کرتا تھا۔ صدر شی جن پنگ کا حالیہ سفارتی اعتماد ظاہر کرتا ہے کہ بیجنگ اب تاریخ کا رخ اپنی طرف موڑنے کے لیے تیار ہے۔ وہ امریکہ سے برابری کی سطح پر بات کر رہے ہیں۔
"دوست نیوز ڈاٹ کام” کے قارئین کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آنے والے مہینوں میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے آزمائش کی گھڑی ہو گی۔ ہمیں چین کے ساتھ اپنے سی پیک (CPEC) کے تزویراتی تعلقات کو بھی بچانا ہے اور امریکہ کے ساتھ اپنے تجارتی روابط کو بھی برقرار رکھنا ہو گا۔ سپر پاورز کی اس شطرنج کی بساط پر وہی ملک محفوظ رہے گا جو اپنے پتے ہشیاری سے کھیلے گا۔



مئی 2026 میں امریکہ اور چین کی تجارتی جنگ روایتی ٹیکسوں (Tariffs) سے آگے بڑھ کر ہائی ٹیک سپلائی چین، کلین انرجی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر قبضے کی ایک شدید معاشی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ جہاں واشنگٹن نے بیجنگ کی تکنیکی ترقی کو روکنے کے لیے جدید ترین مائیکرو چپس کی برآمد پر سخت پابندیاں لگا رکھی ہیں، وہاں چین نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے مغربی ٹیکنالوجی کے لیے انتہائی ضروری نایاب دھاتوں (Rare Earth Minerals) کی سپلائی کو محدود کر دیا ہے۔ سپر پاورز کے اس معاشی ٹکراؤ نے عالمی صنعتی نیٹ ورکس کو اپنے راستے بدلنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے براہِ راست اثرات پاکستان جیسی ترقی پذیر معیشتوں پر پڑ رہے ہیں جنہیں دونوں طاقتوں کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات میں ایک باریک توازن برقرار رکھنا ہے۔
