اسرائیل، غزہ اور عالمی ضمیر

فلسطین کے لہو سے لکھی جا رہی نئی عالمی سیاست کی داستان
خصوصی فیچر رپورٹ — دوست نیوز
جب انسانیت چیخ اٹھی
غزہ کی تباہ حال گلیوں میں ملبے تلے دبے بچوں کی تصویریں، زخمی ماؤں کی چیخیں، خیموں میں جلتے خاندان، بھوک سے بلکتے معصوم چہرے اور تباہ شدہ اسپتال… یہ سب صرف جنگ کے مناظر نہیں بلکہ اکیسویں صدی کے ضمیر پر ثبت وہ زخم ہیں جنہوں نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔
فلسطین خصوصاً غزہ پر اسرائیلی حملوں نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ یورپ، امریکہ، ایشیا اور دنیا بھر میں انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ نیویارک، لندن، پیرس، برلن، میڈرڈ، شکاگو، ٹورنٹو اور سڈنی تک میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے۔ یونیورسٹیوں میں طلبہ نے کیمپ لگائے، مزدور تنظیمیں بولیں، صحافیوں نے سوال اٹھائے اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے اسرائیلی کارروائیوں کو کھلے عام جنگی جرائم قرار دیا۔
لیکن ان تمام احتجاجوں، آوازوں اور عالمی دباؤ کے باوجود امریکہ خصوصاً صدر Donald Trump اور اس کے سیاسی اتحادی مسلسل اسرائیل کی پشت پناہی کرتے رہے۔ یہی نہیں بلکہ غزہ کی تباہی کے بعد اب ایک مرتبہ پھر مسلمان ممالک پر نام نہاد “ابراہیمی معاہدوں” میں شامل ہونے کا دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر دنیا کہاں کھڑی ہے؟
کیا عالمی قوانین صرف کمزور قوموں کے لیے ہیں؟
کیا فلسطینی بچوں کا خون عالمی سیاست سے کم قیمت رکھتا ہے؟
اور کیا امریکہ کے اندر بھی اب اسرائیل کے لیے غیر مشروط حمایت کے خلاف بغاوت شروع ہو چکی ہے؟
غزہ: کھنڈرات میں بدلتا ایک شہر
غزہ دنیا کے سب سے گنجان آباد علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ صرف 365 مربع کلومیٹر کے اس محصور علاقے میں تقریباً 23 لاکھ فلسطینی آباد ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ جنگوں اور حالیہ حملوں کے نتیجے میں غزہ کے بڑے حصے تباہ ہو چکے ہیں۔
ہزاروں رہائشی عمارتیں زمین بوس ہوئیں، اسپتالوں، اسکولوں، مساجد، یونیورسٹیوں اور پناہ گزین کیمپوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق صحت کا نظام تقریباً مفلوج ہو چکا۔ پانی، بجلی، ادویات اور خوراک کی شدید قلت پیدا ہوئی۔
بین الاقوامی امدادی اداروں کے مطابق لاکھوں فلسطینی بے گھر ہوئے۔ بچوں کی ایک بڑی تعداد ذہنی صدمے، غذائی قلت اور بیماریوں کا شکار ہوئی۔
غزہ میں حملوں کے دوران ایک اور خوفناک پہلو سامنے آیا: صحافیوں کی بڑی تعداد بھی ماری گئی۔ بین الاقوامی صحافتی تنظیموں نے اسے جدید تاریخ میں صحافیوں کے لیے خطرناک ترین تنازع قرار دیا۔
دنیا بھر کے ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والی تصاویر نے عام انسان کو اندر تک ہلا دیا۔ یہی وجہ تھی کہ پہلی مرتبہ مغربی ممالک کے اندر عوامی سطح پر اسرائیل کے خلاف اتنی شدید آوازیں سنائی دیں۔
یورپ اور امریکہ میں احتجاجوں کا طوفان
اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف یورپ اور امریکہ میں جو احتجاجی لہر اٹھی، وہ غیر معمولی تھی۔
لندن میں لاکھوں افراد فلسطینی پرچم اٹھائے سڑکوں پر نکلے۔ برطانیہ کی تاریخ کے بڑے مظاہروں میں ان احتجاجوں کو شمار کیا گیا۔ پیرس، ڈبلن، اوسلو، برلن اور بارسلونا میں بھی عوام نے جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔
امریکہ میں صورتحال اور بھی دلچسپ رہی۔ نیویارک، واشنگٹن، شکاگو، لاس اینجلس اور دیگر شہروں میں ہزاروں افراد نے وائٹ ہاؤس کے باہر احتجاج کیا۔
امریکی یونیورسٹیوں خصوصاً ہارورڈ، کولمبیا، ییل اور کیلیفورنیا یونیورسٹیوں میں طلبہ نے فلسطین کے حق میں کیمپ قائم کیے۔ طلبہ کا مطالبہ تھا کہ یونیورسٹیاں اسرائیل سے منسلک سرمایہ کاری ختم کریں۔
یہ احتجاج صرف مسلمانوں تک محدود نہیں تھے۔ ان میں عیسائی، یہودی، لبرل، سوشلسٹ، انسانی حقوق کے کارکن، اساتذہ، فنکار اور نوجوان بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔
کئی امریکی یہودی تنظیموں نے بھی اسرائیلی پالیسیوں کی مخالفت کی اور کہا کہ فلسطینی بچوں کا قتل یہودیت کی تعلیمات کے خلاف ہے۔
امریکی عوام اور ٹیکس کا سوال
امریکہ کے اندر ایک اہم سوال شدت سے اٹھا:
“کیا امریکی عوام کا ٹیکس اسرائیلی جنگوں پر خرچ کیا جا رہا ہے؟”
یہ سوال اس لیے اہم ہوا کیونکہ امریکہ ہر سال اسرائیل کو اربوں ڈالر کی فوجی امداد دیتا ہے۔ امریکی کانگریس میں متعدد امدادی پیکجز منظور کیے گئے جن میں اسرائیل کے لیے بھاری فوجی معاونت شامل تھی۔
امریکی شہریوں کے ایک بڑے طبقے نے اس پر شدید اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں صحت، تعلیم، بے گھر افراد، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل موجود ہیں، لیکن حکومت اربوں ڈالر بیرون ملک جنگوں پر خرچ کر رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر “Not In My Name” اور “Stop Funding War” جیسے نعرے ٹرینڈ بنے۔
امریکی نوجوانوں میں یہ سوچ تیزی سے بڑھی کہ واشنگٹن کی خارجہ پالیسی اسرائیل کے حق میں حد سے زیادہ جھکی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلی مرتبہ امریکی سیاست میں اسرائیل کے لیے غیر مشروط حمایت پر کھل کر سوال اٹھنے لگے۔
ٹرمپ، اسرائیل اور ابراہیمی معاہدے
Donald Trump کے دور میں مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک نئی اصطلاح سامنے آئی: “ابراہیمی معاہدے”۔
ان معاہدوں کے تحت بعض عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا اعلان کیا۔ اسے امریکی سفارتکاری کی بڑی کامیابی قرار دیا گیا، لیکن ناقدین نے کہا کہ اس عمل میں فلسطینی مسئلہ پسِ پشت ڈال دیا گیا۔
اب غزہ کی جنگ کے بعد ایک مرتبہ پھر امریکی حلقوں کی جانب سے مسلمان ممالک پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کریں۔
بہت سے سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک ایسا اتحاد بنانا چاہتا ہے جو ایران کے اثر و رسوخ کو محدود کرے اور اسرائیل کو خطے میں مکمل سیاسی قبولیت دلوائے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا فلسطینیوں کے خون کے بعد عرب اور مسلمان عوام اس عمل کو قبول کریں گے؟
یہاں ایک واضح حقیقت سامنے آئی:
عرب حکومتوں اور عوام کے خیالات میں بڑا فرق موجود ہے۔
کئی عرب ریاستیں سفارتی مفادات کی بنیاد پر اسرائیل کے قریب ہو سکتی ہیں، لیکن عوامی سطح پر فلسطین کے لیے جذبات آج بھی انتہائی مضبوط ہیں۔
ایران، جنگ اور نئی کشیدگی
خطے کی سیاست میں ایران ایک اہم کردار رکھتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل طویل عرصے سے ایران کو اپنے لیے بڑا خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔
حالیہ برسوں میں ایران کے جوہری پروگرام، خطے میں اس کے اتحادی گروہوں اور اسرائیل مخالف پالیسیوں کے باعث کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
بعض مبصرین کے مطابق غزہ کی جنگ کے ساتھ ساتھ ایران پر دباؤ بڑھانا بھی امریکی حکمت عملی کا حصہ رہا۔
خطے میں یہ تاثر مضبوط ہوا کہ امریکہ اور اسرائیل ایک وسیع تر جغرافیائی سیاسی منصوبے پر کام کر رہے ہیں جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ کی طاقت کا توازن تبدیل کرنا ہے۔
اسی تناظر میں ابراہیمی معاہدوں کو بھی دیکھا جا رہا ہے۔
لیکن ناقدین کہتے ہیں کہ جنگیں اور دباؤ مسئلے کا حل نہیں۔
فلسطین، لبنان، شام، عراق اور ایران سمیت پورا خطہ کئی دہائیوں سے عدم استحکام کا شکار ہے، اور نئی جنگیں صرف نفرت، انتقام اور تباہی کو بڑھا رہی ہیں۔
عالمی میڈیا اور بیانیے کی جنگ
غزہ کی جنگ نے ایک اور اہم حقیقت بے نقاب کی:
عالمی میڈیا بھی تقسیم دکھائی دیا۔
بعض مغربی میڈیا اداروں پر الزام لگا کہ انہوں نے فلسطینی اموات کو کم اہمیت دی جبکہ اسرائیلی مؤقف کو زیادہ جگہ دی۔
دوسری طرف سوشل میڈیا نے جنگ کا رخ بدل دیا۔
فلسطینی صحافیوں، عام شہریوں اور نوجوانوں نے موبائل فون کے ذریعے دنیا کو وہ مناظر دکھائے جو روایتی میڈیا اکثر نظر انداز کرتا رہا۔
ٹک ٹاک، ایکس، انسٹاگرام اور یوٹیوب پر غزہ کی تصاویر اور ویڈیوز نے عالمی رائے عامہ پر گہرا اثر ڈالا۔
یہی وجہ ہے کہ مغربی حکومتوں کی پالیسیوں اور عوامی رائے میں واضح فرق نظر آنے لگا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا مؤقف
بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں نے غزہ کی صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کی۔
کئی عالمی اداروں نے شہری آبادی، اسپتالوں اور امدادی مراکز پر حملوں کو بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔
جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی اور شہریوں کے تحفظ کے مطالبات مسلسل سامنے آتے رہے۔
بین الاقوامی عدالتوں میں بھی اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف درخواستیں دائر ہوئیں۔
یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ فلسطین کا مسئلہ عالمی عدالتوں تک پہنچا ہو، لیکن اس مرتبہ عالمی عوامی دباؤ پہلے سے کہیں زیادہ شدت اختیار کر گیا۔
مسلم دنیا: جذبات بہت، اتحاد کم
غزہ کی جنگ نے مسلم دنیا کی کمزوری بھی بے نقاب کی۔
مسلمان ممالک کے عوام فلسطین کے لیے شدید جذبات رکھتے ہیں، لیکن سیاسی سطح پر امتِ مسلمہ متحد دکھائی نہ دی۔
کئی اسلامی سربراہی اجلاس ہوئے، بیانات جاری ہوئے، امدادی اعلانات بھی کیے گئے، مگر فلسطینی عوام یہ سوال کرتے رہے کہ عملی اقدامات کہاں ہیں؟
کیا صرف مذمتی قراردادیں کافی ہیں؟
کیا اقتصادی دباؤ، سفارتی حکمت عملی اور عالمی قانونی محاذ پر زیادہ مؤثر کردار ادا نہیں کیا جا سکتا تھا؟
یہ سوال آج بھی پوری مسلم دنیا میں زیرِ بحث ہے۔
نئی نسل اور بدلتی عالمی سوچ
غزہ کی جنگ نے نوجوان نسل کی سوچ بدل دی۔
امریکہ اور یورپ کے نوجوان اب مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو صرف سرکاری بیانیے سے نہیں دیکھتے۔ وہ سوشل میڈیا، آزاد صحافت اور انسانی حقوق کی رپورٹس کے ذریعے مختلف زاویے جان رہے ہیں۔
اسی وجہ سے فلسطین کے حق میں نوجوانوں کی حمایت بڑھتی جا رہی ہے۔
یہ تبدیلی مستقبل کی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے، کیونکہ یہی نوجوان آنے والے کل کے ووٹر، صحافی، دانشور اور حکمران ہوں گے۔
کیا دنیا ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے؟
غزہ کی جنگ صرف ایک علاقائی تنازع نہیں رہی بلکہ یہ عالمی اخلاقیات، انسانی حقوق، عالمی قانون اور طاقت کی سیاست کا امتحان بن چکی ہے۔
ایک طرف امریکہ اور اس کے اتحادی اسرائیل کی حمایت کرتے رہے، دوسری طرف دنیا بھر کے عوام نے فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھائی۔
یہ تضاد بتاتا ہے کہ عالمی سیاست اور عالمی ضمیر کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔
اگر دنیا واقعی انسانی حقوق، انصاف اور عالمی قانون پر یقین رکھتی ہے تو پھر فلسطین کے مسئلے کا منصفانہ حل ناگزیر ہے۔
کیونکہ تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ طاقت وقتی ہو سکتی ہے، لیکن مظلوم کی آواز ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔
خون، سیاست اور انسانیت کا امتحان
غزہ آج صرف ایک شہر نہیں، ایک سوال بن چکا ہے۔
وہ سوال جو اقوام متحدہ سے پوچھا جا رہا ہے۔
وہ سوال جو واشنگٹن، لندن اور برسلز کے ایوانوں سے پوچھا جا رہا ہے۔
وہ سوال جو مسلم حکمرانوں سے پوچھا جا رہا ہے۔
اور وہ سوال جو پوری انسانیت کے ضمیر سے پوچھا جا رہا ہے۔
کیا بچوں کی لاشوں پر عالمی سیاست کھڑی کی جا سکتی ہے؟
کیا انصاف صرف طاقتوروں کے لیے ہے؟
کیا فلسطینی انسان نہیں؟
شاید آنے والی نسلیں اس دور کو صرف جنگ کے طور پر یاد نہ رکھیں بلکہ اس لمحے کے طور پر یاد رکھیں جب دنیا نے پہلی مرتبہ کھل کر عالمی طاقتوں سے سوال پوچھنا شروع کیا۔
اور یہی سوال مستقبل کی سیاست کا رخ بھی بدل سکتے ہیں۔
