وزیراعظم شہباز شریف کا بیجنگ میں پرتپاک استقبال

وزیر اعظم شہباز شریف کا چینی دارالحکومت بیجنگ میں عظیم عوامی ہال آمد پر پرتپاک استقبال کیا گیا اور چینی مسلح افواج کی جانب سے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ وزیر اعظم اپنے چینی ہم منصب لی چیانگ سے ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات کے لیے عظیم عوامی ہال پہنچے تھے۔
رسمی استقبالیہ تقریب کی تفصیلات
وزیر اعظم شہباز شریف جب رسمی استقبالیہ تقریب کے مقام پر پہنچے تو چینی وزیر اعظم لی چیانگ نے ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے مصافحہ کیا اور ایک دوسرے کو اپنے اپنے وفود سے متعارف کرایا۔ اس موقع پر پاکستان اور چین کے قومی ترانے بجائے گئے جبکہ دونوں رہنما سلامی کے چبوترے پر کھڑے رہے۔
چینی مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے وزیر اعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا جس کا شہباز شریف نے تفصیلی معائنہ بھی کیا۔ یہ تقریب چینی روایتی پروٹوکول کے مطابق منعقد ہوئی جو پاک چین دوستی کی گہرائی کا اظہار کرتی ہے۔
چین کے سرکاری دورے کی تفصیلات
وزیر اعظم شہباز شریف تیئیس سے چھبیس مئی دو ہزار چھبیس تک چین کے سرکاری دورے پر ہیں۔ اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں وہ صوبہ ژی جیانگ کے شہر ہانگژو گئے، جہاں انہوں نے پاکستان-چین بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس کی صدارت کی۔
اس کانفرنس میں آئی ٹی اور ٹیلی کام، بیٹری انرجی سٹوریج سسٹمز اور زراعت کے شعبوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔ یہ شعبے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت مستقبل میں تعاون کے اہم محاور ہیں۔
بیجنگ میں اہم ملاقاتوں کا پروگرام
بیجنگ میں قیام کے دوران وزیر اعظم چینی قیادت کے ساتھ اہم ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ وہ چینی صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم لی چیانگ سے تفصیلی مذاکرات کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تجارت، سی پیک منصوبے کی پیش رفت اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
اس کے علاوہ وزیر اعظم پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے پچھتر سال مکمل ہونے کی مناسبت سے چائنیز پیپلز ایسوسی ایشن فار فرینڈشپ ود فارن کنٹریز کی جانب سے دی جانے والی استقبالیہ تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔
پاک چین تعلقات کا پس منظر
پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات گزشتہ پچھتر برسوں سے مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، سیاسی اور دفاعی تعاون مثالی ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے نے ان تعلقات کو مزید مضبوط بنایا ہے۔
گزشتہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور چینی سرمایہ کاری پاکستانی معیشت کے مختلف شعبوں میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
دورے کی اقتصادی اہمیت
وزیر اعظم کا یہ دورہ پاکستانی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ موجودہ اقتصادی چیلنجز کے پیش نظر چینی سرمایہ کاری اور تجارتی تعاون میں اضافہ پاکستان کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اس دورے سے متعدد اہم معاہدوں پر دستخط کی توقع ہے۔
خاص طور پر توانائی، ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں نئے منصوبوں کا اعلان متوقع ہے جو پاکستان کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس دورے سے چین میں پاکستانی برآمدات میں اضافے کے امکانات بھی روشن ہیں۔
