مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
جمعہ، 2 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,249 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,748 USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,249 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,748
تازہ ترین

سید عاصم منیر ایران کے اہم سرکاری دورے پر روانہ

📅 جمعہ، 22 مئی 2026 ✍️ Muhammad Khalid ⏱ 4 منٹ
سید عاصم منیر ایران کے اہم سرکاری دورے پر روانہ
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

دوست نیوز

سید عاصم منیر ایران کے اہم سرکاری دورے پر روانہ ہو گئے ہیں، جہاں وہ ایرانی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کے ساتھ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال، ایران۔امریکہ مذاکرات، پاک۔ایران سیکیورٹی تعاون، سرحدی امن اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی سمیت متعدد اہم امور پر تفصیلی بات چیت کریں گے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ دورہ نہ صرف پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اسے پورے خطے میں جاری نئی سفارتی صف بندیوں اور اسٹریٹیجک تبدیلیوں کے پس منظر میں بھی غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دورے کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایرانی صدر، اعلیٰ عسکری حکام، قومی سلامتی سے متعلق شخصیات اور دیگر اہم حکومتی عہدیداروں سے ملاقاتیں کریں گے۔

ذرائع کے مطابق ملاقاتوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات، اسرائیل۔ایران کشیدگی، خلیجی خطے کی سیکیورٹی صورتحال، افغانستان کے بعد خطے میں ابھرتے نئے چیلنجز، دہشت گردی کے خلاف تعاون اور پاک۔ایران سرحد پر استحکام کے امور زیر غور آئیں گے۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ ایک جانب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے باوجود سفارتی رابطوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف اسرائیل، غزہ، شام اور خلیجی خطے کی صورتحال نے پورے خطے کو غیر یقینی کیفیت سے دوچار کر رکھا ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی عسکری قیادت کا تہران سے براہِ راست رابطہ انتہائی اہم سفارتی پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اس وقت خطے میں “متوازن سفارت کاری” کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اسلام آباد ایک طرف ایران کے ساتھ قریبی اور مستحکم تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب سعودی عرب، خلیجی ممالک، چین اور امریکہ کے ساتھ بھی اپنے اسٹریٹیجک روابط کو متوازن انداز میں آگے بڑھا رہا ہے۔ اسی تناظر میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ تہران ایک اہم اسٹریٹیجک پیغام بھی سمجھا جا رہا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق اس دورے کا ایک اہم پہلو پاک۔ایران بارڈر سیکیورٹی بھی ہے۔ گزشتہ برسوں میں سرحدی علاقوں میں دہشت گردی، اسمگلنگ اور شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات میں بعض اوقات تناؤ بھی دیکھنے میں آیا، تاہم حالیہ مہینوں میں اسلام آباد اور تہران کے درمیان سیکیورٹی تعاون میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس دورے کے دوران انٹیلی جنس شیئرنگ، بارڈر مینجمنٹ اور مشترکہ سیکیورٹی میکنزم پر بھی پیش رفت ہو سکتی ہے۔

معاشی حوالے سے بھی یہ دورہ اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن منصوبہ، سرحدی تجارت، توانائی تعاون اور علاقائی تجارتی روابط کے امکانات پر بھی بات چیت متوقع ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی کم ہوتی ہے تو پاکستان ایران کے ساتھ اقتصادی تعاون کو نئی سطح پر لے جا سکتا ہے۔

سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس دورے سے یہ تاثر بھی مضبوط ہو رہا ہے کہ پاکستان خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی تبدیلیوں کے دوران فعال کردار ادا کرنا چاہتا ہے اور وہ خود کو صرف ایک تماشائی کے بجائے ایک مؤثر علاقائی اسٹیک ہولڈر کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

سفارتی مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں اس دورے کے نتائج نہ صرف پاک۔ایران تعلقات بلکہ پورے خطے کی سیاسی و سیکیورٹی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

ٹیگز: #international #iran #pakistan #usa
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں