پاکستان میں اصل طاقت کس کے پاس ہے

سیاست، پیسہ یا سسٹم؟
تحریر: محمد خالد
پاکستان ایک عجیب دوراہے پر کھڑا ہے… یہاں عام آدمی آج بھی یہی سوال پوچھ رہا ہے کہ آخر اس ملک میں اصل طاقت کس کے پاس ہے؟ کیا طاقت ووٹ کی ہے؟ کیا طاقت دولت کی ہے؟ یا پھر طاقت اُس سسٹم کی ہے جو ہر حکومت، ہر وعدے اور ہر نعرے سے زیادہ مضبوط دکھائی دیتا ہے؟
یہ سوال صرف سیاسی نہیں… یہ ایک غریب مزدور کی آہ بھی ہے، یہ ایک بے روزگار نوجوان کی خاموش چیخ بھی ہے، یہ اُس باپ کی بے بسی بھی ہے جو مہنگائی کے ہاتھوں اپنے بچوں کی خواہشیں دفن کر رہا ہے۔
پاکستان میں حکومتیں بدلتی رہیں… چہرے بدلتے رہے… پارٹیاں بدلتی رہیں… لیکن عام آدمی کی قسمت نہ بدل سکی۔
ہر الیکشن سے پہلے قوم کو خواب دکھائے جاتے ہیں۔ کبھی “تبدیلی” کے نام پر، کبھی “روٹی، کپڑا اور مکان” کے نام پر، اور کبھی “ترقی” کے خوبصورت نعروں کے ساتھ۔
لیکن اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کے بعد وہی پروٹوکول… وہی شاہانہ انداز… وہی طاقت کا غرور… اور وہی عوام کی بے بسی۔
ایسا لگتا ہے جیسے پاکستان میں حکومتیں نہیں، صرف چہرے تبدیل ہوتے ہیں… سسٹم وہی رہتا ہے۔
ایک عام آدمی اگر تھانے جائے تو اس کی عزت محفوظ نہیں، ہسپتال جائے تو علاج آسان نہیں، عدالت جائے تو انصاف جلدی نہیں، اور دفتر جائے تو سفارش یا رشوت کے بغیر کام نہیں۔
آخر کیوں؟
کیا اس ملک میں قانون صرف کمزور کے لیے رہ گیا ہے؟ کیا طاقتور کے لیے ہر دروازہ کھلا اور غریب کے لیے ہر راستہ بند ہے؟
پاکستان کا سب سے بڑا المیہ شاید غربت نہیں… بلکہ ناانصافی ہے۔
جب ایک غریب آدمی بجلی کے بل سے پریشان ہو، اور طاقتور طبقہ مراعات میں ڈوبا ہو… تو سوال پیدا ہوتے ہیں۔
جب نوجوان ڈگری ہاتھ میں لے کر نوکری کے لیے دھکے کھائے، اور سفارش والا شخص آرام سے کرسی حاصل کر لے… تو دل میں آگ جلتی ہے۔
جب کسان اپنی فصل کا صحیح ریٹ نہ لے سکے، اور بڑے مافیا اربوں کمائیں… تو پھر نفرت جنم لیتی ہے۔
اس ملک میں عام آدمی صرف ٹیکس دیتا ہے، قربانیاں دیتا ہے، صبر کرتا ہے، اور ہر بحران میں سب سے پہلے پستا ہے۔
لیکن طاقتور؟ وہ ہر دور میں محفوظ رہتے ہیں۔
حکومت کوئی بھی آئے… مہنگائی عام آدمی کے حصے میں ہی آتی ہے۔ قرضے قوم ادا کرتی ہے، اور فیصلے بند کمروں میں ہوتے ہیں۔
پاکستان کے نوجوان آج شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ ان کے پاس ڈگریاں ہیں، صلاحیت ہے، خواب ہیں… لیکن مواقع نہیں۔
اسی لیے ہزاروں نوجوان ملک چھوڑنے کا خواب دیکھتے ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہاں محنت سے زیادہ تعلق اور سفارش چلتی ہے۔
یہ ملک وسائل سے غریب نہیں… یہاں مسئلہ نیتوں کا ہے، ترجیحات کا ہے، اور اُس نظام کا ہے جو عام آدمی کو ہمیشہ کمزور رکھتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ قومیں صرف سڑکوں، پلوں اور عمارتوں سے ترقی نہیں کرتیں… قومیں انصاف سے ترقی کرتی ہیں۔
جس ملک میں قانون سب کے لیے برابر نہ ہو، وہاں نفرت بڑھتی ہے، اعتماد مرتا ہے، اور امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں۔
پاکستان کے عوام اب صرف وعدے نہیں چاہتے… وہ انصاف چاہتے ہیں۔ وہ عزت چاہتے ہیں۔ وہ ایسا نظام چاہتے ہیں جہاں غریب کو انسان سمجھا جائے۔
یہ قوم تھکی ہوئی ضرور ہے… لیکن مری نہیں۔
آج بھی اس ملک میں ایسے لوگ موجود ہیں جو سچ بولنا چاہتے ہیں، جو ظلم کے خلاف کھڑا ہونا چاہتے ہیں، جو پاکستان کو واقعی ایک انصاف والا ملک دیکھنا چاہتے ہیں۔
وقت آ گیا ہے کہ طاقت کو کرسی نہیں، بلکہ خدمت سمجھا جائے۔
ورنہ تاریخ گواہ ہے… جب قوموں کا صبر ٹوٹتا ہے، تو بڑے بڑے تخت ہل جاتے ہیں۔
پاکستان صرف طاقتور لوگوں کا نہیں… یہ اُس مزدور کا بھی ہے جو دھوپ میں اینٹیں اٹھاتا ہے، یہ اُس ماں کا بھی ہے جو بچوں کو بھوکا سلا کر خود روٹی چھوڑ دیتی ہے، یہ اُس نوجوان کا بھی ہے جو خوابوں اور مایوسی کے درمیان زندہ ہے۔
اور شاید اسی دن حقیقی تبدیلی آئے گی… جب اس ملک میں طاقت کا مطلب خوف نہیں، بلکہ انصاف ہوگا
