ذہنی صحت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے حکومت، اکیڈیمیا اور معاشرے کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا، ڈاکٹر مختار بھرتھ
اسلام آباد (دوست نیوز): وزیر مملکت برائے قومی صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا ہے کہ پاکستان میں ذہنی صحت ایک سنگین اور تیزی سے بڑھتا ہوا مسئلہ بن چکا ہے جس سے نمٹنے کے لیے حکومت، اکیڈیمیا، طبی ماہرین اور معاشرے کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔
اے پی پی کے مطابق انہوں نے ذہنی صحت، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال کے معاشرتی اثرات کے حوالے سے منعقدہ سیمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل انوویشنز اور مصنوعی ذہانت نے معاشرے میں اہم مقام حاصل کیا ہے، تاہم غیر ضروری اور حد سے زیادہ ڈیجیٹل استعمال ذہنی صحت پر گہرے اثرات ڈال رہا ہے۔
ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا کہ پاکستان میں کروڑوں افراد ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار ہیں، جبکہ دیہی علاقوں میں معاشرتی بدنامی کے خوف کے باعث لوگ اپنے مسائل ظاہر کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ذہنی صحت کو بھی دیگر جسمانی بیماریوں کی طرح ایک طبی مسئلہ سمجھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیاں بھی پاکستانی معاشرے میں ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں اور اس حوالے سے حکومتی سطح پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ مقررین کے مطابق معاشرتی روابط میں کمی، خاندانوں سے دوری اور ڈیجیٹل ٹولز پر بڑھتا انحصار نوجوان نسل میں برداشت، ہمدردی اور سماجی روابط کو متاثر کر رہا ہے۔
سیمپوزیم میں پاکستان میں پہلی مرتبہ ایک خودمختار ادارے نیشنل ہب آف ایکسی لینس فار مینٹل ہیلتھ کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا، جس کے لیے قانون سازی رواں سال مکمل ہونے کی توقع ہے۔ مجوزہ ادارہ اسلام آباد میں قائم کیا جائے گا اور ذہنی صحت سے متعلق تعلیم، تربیت، پریکٹس اور ریگولیشن کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے کام کرے گا۔
