مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,655 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,655
تازہ ترین

خطے میں امن کی نئی امید — جنگ نہیں، دانشمندی کی فتح

📅 جمعہ، 22 مئی 2026 ✍️ Muhammad Khalid ⏱ 3 منٹ
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا


تحریر: محمد خالد
دنیا ایک بار پھر ایک ایسے خطرناک موڑ پر کھڑی تھی جہاں مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین بارود، آگ اور خون کی لپیٹ میں آسکتی تھی۔ صیہونی جارحیت، عالمی طاقتوں کی مداخلت اور جنگی جنون نے پورے خطے کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا، مگر ایسے نازک وقت میں کچھ ممالک نے طاقت نہیں بلکہ حکمت، سفارتکاری اور صبر کا راستہ اختیار کیا۔ یہی وہ دانشمندی تھی جس نے ایک بڑے خونی تصادم کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ایران نے سخت دباؤ، دھمکیوں اور اشتعال انگیزی کے باوجود جس عزیمت، حوصلے اور تحمل کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ توجہ ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب نے جذباتی نعروں کے بجائے تدبر اور سنجیدگی سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی۔ ترکی اور قطر نے مسلسل جنگ بندی، مذاکرات اور امن کے لیے جو سفارتی کوششیں کیں، وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ مسلم دنیا میں آج بھی ایسے رہنما موجود ہیں جو جنگ نہیں بلکہ امن کو ترجیح دیتے ہیں۔
پاکستان کا کردار اس تمام صورتحال میں انتہائی اہم اور منفرد رہا۔ پاکستان نے کسی عالمی دباؤ یا طاقت کے سامنے جھکے بغیر متوازن، خودمختار اور باوقار سفارتکاری کا مظاہرہ کیا۔ یہی وہ خارجہ پالیسی ہوتی ہے جو قوموں کو عزت دیتی ہے۔ پاکستان نے نہ صرف امن کی حمایت کی بلکہ ثالثی اور مذاکرات کے ذریعے خطے کو مزید تباہی سے بچانے کی کوشش بھی کی۔ یہ وہ راستہ ہے جو قائداعظمؒ کے وژن اور ایک خوددار قوم کی پہچان بنتا ہے۔
چین اور روس نے اگرچہ خاموش انداز اپنایا، مگر ان کا کردار انتہائی موثر رہا۔ عالمی سیاست میں بعض اوقات خاموش سفارتکاری شور مچانے والی سیاست سے زیادہ طاقتور ثابت ہوتی ہے۔ ان طاقتوں نے خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے اور جنگی آگ کو پھیلنے سے روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ حقیقت بھی دنیا پر واضح ہوگئی کہ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتیں بلکہ دانشمندی، اتحاد، سفارتکاری اور صبر سے بڑے بڑے منصوبے ناکام بنائے جا سکتے ہیں۔ وہ قوتیں جو مشرقِ وسطیٰ کو مسلسل جنگ، خونریزی اور عدم استحکام کی طرف دھکیلنا چاہتی تھیں، انہیں اس بار مکمل کامیابی نہ مل سکی۔ اس میں ان تمام ممالک کی مشترکہ کوششیں شامل ہیں جنہوں نے نفرت کے بجائے امن کی زبان بولی۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم دنیا وقتی اختلافات سے بالاتر ہوکر اتحاد، امن اور استحکام کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرے۔ کیونکہ جنگ صرف سرحدوں کو نہیں جلاتی بلکہ نسلوں کے مستقبل بھی تباہ کر دیتی ہے۔
اللّٰہ کریم ان تمام لوگوں، ممالک اور قیادتوں کی کوششوں کو کامیاب فرمائے جو دنیا میں امن، انصاف اور انسانیت کے لیے کام کر رہے ہیں۔
آمین یا رب العالمین۔

SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں