حج کے احکام
٣ ذو الحجة ١٤٤٧ هـ
20 مئی 2026 بدھ
Rules of Hajj
وقوفِ عرفہ کی اہمیت
The Importance of staying in Arafat
🍃عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ قَالَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ نَاسٌ فَسَأَلُوهُ عَنْ الْحَجِّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْحَجُّ عَرَفَةُ فَمَنْ أَدْرَكَ لَيْلَةَ عَرَفَةَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ مِنْ لَيْلَةِ جَمْعٍ فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ. [سنن نسائی:3016] صحیح
🍃عبد الرحمن بن یعمر کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا کہ کچھ لوگ آئے اور انہوں نے آپ ﷺ سےحج کے بارے میں پوچھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حج عرفات (میں ٹھہرنے) کا نام ہے جو شخص مزدلفہ کی رات (یعنی 9 اور 10 ذی الحجہ کی درمیانی رات) طلوع فجر سے پہلے میدان عرفات میں پہنچ گیا اسکا حج مکمل ہوگیا۔
🍃Abd al-Rahman bin Yamar said: I was with the Messenger of Allah ( ﷺ ) when some people came and asked the Prophet ( ﷺ ) about Hajj, and the Messenger of Allah ( ﷺ ) said: Hajj is ( staying in ) Arafat. A person on the night of Muzdalifah (i.e the night between the 9th and 10th of Dhu al-Hijjah) reaches the Plain of Arafat before dawn then his Hajj is complete.
عرفہ کے دن کی فضیلت
Excellence of the Day of Arafat
🍃أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِي مَلَائِكَتَهُ ب بِأَهْلِ عَرَفَةَ فَيَقُولُ انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي أَتَوْنِي شُعْثًا غُبْرًا [مسند احمد:7089]
🍃نبی ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ عزوجل عرفہ کی شام اہل عرفہ کے ذریعے اپنے فرشتوں کے سامنے فخر فرماتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے ان بندوں کو دیکھو جو میرے پاس پرا گندہ حال اور غبار آلود ہو کر آئے ہیں۔
🍃The Prophet ( ﷺ ) said: Indeed, Allah, the Exalted, takes delight in front of His angels through the people of Arafat on the evening of Arafat and says: Look at my servants who have come to me in a dirty state and covered with dust.
اہل مزدلفہ کی فضیلت
The virtues of the people of Muzdalifah
🍃عَنْ بِلَالِ بْنِ رَبَاحٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ لَهُ غَدَاةَ جَمْعٍ يَا بِلَالُ أَسْكِتْ النَّاسَ أَوْ أَنْصِتْ النَّاسَ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَطَوَّلَ عَلَيْكُمْ فِي جَمْعِكُمْ هَذَا فَوَهَبَ مُسِيئَكُمْ لِمُحْسِنِكُمْ وَأَعْطَى مُحْسِنَكُمْ مَا سَأَلَ. [سنن ابن ماجة:3024] صحيح
🍃بلال بن رباح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے مزدلفہ کی صبح ان سے فرمایا: اے بلال! لوگوں کو خاموش کراؤ،
- پھر فرمایا: بے شک اللہ نے تمہارے اس مزدلفہ میں تم پر احسان فرمایا ہے کہ تمہارے نیکوکاروں کی وجہ سے تمہارے گناہ گاروں کو بھی بخش دیا ہے اور تمہارے نیکوکاروں نے جو مانگا انہیں عطا کر دیا۔
🍃It is narrated from Bilal bin Rabah ( رضی اللہ عنہ ) that the Prophet ( ﷺ ) said to him in the morning of Muzdalifah: O Bilal! silence the people, Then the Prophet ( ﷺ ) said: Surely Allah has favored you in this Muzdalifah of yours, because of the righteous among you He has also forgiven the wrongdoers and has granted the righteous whatever they asked for.
