مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 20°C
پیر، 26 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.94 EUR/PKR 310.43 GBP/PKR 370.35 سونا/تولہ (عالمی) 416,635 PKR Bitcoin $79,465 USD/PKR 276.94 EUR/PKR 310.43 GBP/PKR 370.35 سونا/تولہ (عالمی) 416,635 PKR Bitcoin $79,465
قومی

پاکستان کی معیشت میں خواتین کا کردار

📅 🔄 اپ ڈیٹ: ✍️ ⏱ 5 منٹ
women
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

فیچر رپورٹ: نور فاطمہ

پاکستان کی صبح اکثر ایک عورت کے ہاتھوں سے شروع ہوتی ہے۔ کسی گاؤں میں وہ سورج نکلنے سے پہلے مویشیوں کو چارہ ڈال رہی ہوتی ہے، کسی شہر میں وہ بچوں کو اسکول کے لیے تیار کر رہی ہوتی ہے، اور کہیں ایک چھوٹے سے کمرے میں سلائی مشین کی آواز کے ساتھ گھر کے اخراجات پورے کرنے کی کوشش کر رہی ہوتی ہے۔ یہ وہ خواتین ہیں جو خاموشی سے پاکستان کی معیشت کو سہارا دیتی ہیں، مگر ان کی محنت اکثر اعداد و شمار اور پالیسیوں میں پوری طرح نظر نہیں آتی۔

پاکستان میں خواتین آبادی کا تقریباً نصف حصہ ہیں، لیکن ان کی معاشی شمولیت اب بھی محدود ہے۔ مختلف عالمی اور مقامی تحقیقی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں خواتین کی لیبر فورس میں شرکت تقریباً 23 سے 24 فیصد کے درمیان ہے، جو جنوبی ایشیا کے کئی ممالک سے کم سمجھی جاتی ہے۔ (Apiar Data)

ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر خواتین کو تعلیم، روزگار اور کاروبار کے مساوی مواقع دیے جائیں تو پاکستان کی معیشت میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ لاکھوں خواتین ایسی ہیں جو کام تو کرتی ہیں، لیکن ان کے کام کو “روزگار” ہی نہیں مانا جاتا۔

دیہی پاکستان میں خواتین کھیتوں میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں۔ وہ بیج بوتی ہیں، فصل کاٹتی ہیں، مویشی پالتی ہیں اور خوراک تیار کرتی ہیں۔ کئی رپورٹس کے مطابق زراعت کے شعبے میں خواتین کی بڑی تعداد کام کر رہی ہے، مگر ان میں سے اکثر کو اجرت، قانونی تحفظ یا سماجی شناخت حاصل نہیں۔ (Pakistan Today)

پنجاب کے ایک دیہات کی رخسانہ بی بی روزانہ دس گھنٹے کھیت میں کام کرتی ہیں۔ ان کے ہاتھوں پر پڑے زخم اور چہرے پر سورج کی تپش اس محنت کی گواہی دیتے ہیں۔ لیکن جب خاندان کی آمدنی کا ذکر ہوتا ہے تو اکثر صرف مرد کا نام لیا جاتا ہے۔ رخسانہ کہتی ہیں،
“ہم کام تو بہت کرتے ہیں، مگر ہمیں مزدور نہیں سمجھا جاتا۔”

یہ صرف دیہی عورت کی کہانی نہیں۔ شہروں میں بھی ہزاروں خواتین گھروں میں کپڑے سینے، آن لائن کاروبار کرنے، بیوٹی سیلون چلانے اور تدریس جیسے شعبوں میں سرگرم ہیں۔ خاص طور پر سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے نوجوان خواتین کے لیے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ کئی خواتین اب گھر بیٹھے کپڑوں، جیولری اور ہینڈ میڈ مصنوعات کا کاروبار کر رہی ہیں۔ (arXiv)

پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت میں بھی خواتین کا کردار اہم ہے۔ کپڑا سازی، سلائی اور ہوم بیسڈ ورک میں لاکھوں خواتین شامل ہیں۔ اگرچہ ان کی آمدنی اکثر کم ہوتی ہے، مگر یہی آمدنی کئی گھروں کا نظام چلانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔

تعلیم یافتہ خواتین اب طب، انجینئرنگ، بینکنگ، میڈیا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں بھی آگے بڑھ رہی ہیں۔ پاکستان کی کئی خواتین بین الاقوامی کمپنیوں میں اہم عہدوں پر کام کر رہی ہیں، جبکہ کچھ نے اپنے اسٹارٹ اپس قائم کیے ہیں۔ اس کے باوجود خواتین کو اجرت میں فرق، ہراسگی، محفوظ ٹرانسپورٹ کی کمی اور خاندانی دباؤ جیسے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ (The Citizen)

معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان میں خواتین کی کم معاشی شمولیت صرف خواتین کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی ترقی کا مسئلہ ہے۔ عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق لاکھوں خواتین ایسی ہیں جو کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں مگر لیبر فورس سے باہر ہیں۔ (The World Bank Docs)

سوال یہ ہے کہ اگر خواتین کو بہتر تعلیم، محفوظ ماحول، آسان قرضے اور مساوی مواقع مل جائیں تو پاکستان کہاں کھڑا ہو سکتا ہے؟

شاید اس کا جواب کراچی کی ایک نوجوان کاروباری خاتون مریم کے الفاظ میں چھپا ہے۔ وہ کہتی ہیں،
“پاکستان کی عورت کمزور نہیں، صرف اسے موقع چاہیے۔”

آج کی پاکستانی عورت صرف گھر سنبھالنے والی نہیں بلکہ معیشت کو سہارا دینے والی قوت بن چکی ہے۔ وہ کھیت میں بھی موجود ہے، دفتر میں بھی، فیکٹری میں بھی اور ڈیجیٹل دنیا میں بھی۔ اگر ریاست، معاشرہ اور ادارے اس صلاحیت کو مکمل طور پر قبول کر لیں تو پاکستان کی معیشت نہ صرف مضبوط ہو سکتی ہے بلکہ زیادہ منصفانہ بھی بن سکتی ہے۔

پاکستان کی ترقی کی کہانی ادھوری ہے، جب تک اس میں خواتین کی محنت، جدوجہد اور کامیابیوں کو برابر کی جگہ نہ دی جائے۔ (ijbmsarchive.com)

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں