جوڈیشل کمیشن کا اجلاس، ہائی کورٹس میں ججز کے تبادلوں کی منظوری، پی ٹی آئی کی سخت تنقید

چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آج کا دن آزاد عدلیہ کے لیے افسوسناک ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کو لاہور ہائیکورٹ ٹرانسفر کرنے کی بھی منظوری دی گئی
اسلام آباد
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں ہائی کورٹس میں ججز کے تبادلوں سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔
اجلاس منگل کو جسٹس یحی آفریدی کی صدارت میں ہوا جس میں جوڈیشل کمیشن کے ارکان نے شرکت کی۔
اجلاس میں جسٹس ثمن رفت امتیاز کے سندھ ہائیکورٹ میں تبادلے کی منظوری دے دی گئی، جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کو لاہور ہائیکورٹ ٹرانسفر کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم سومرو کے تبادلے کی سابقہ سفارش واپس لے لی۔
اجلاس کے بعد سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا۔ چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آج کا دن آزاد عدلیہ کے لیے افسوسناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ چار گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس میں ججز کے تبادلوں کی سفارشات واپس لی گئیں، جس سے یہ تاثر جاتا ہے کہ عدلیہ میں من پسند فیصلوں کو تقویت دی جا رہی ہے۔
بیرسٹر گوہر کے مطابق ججز کے تبادلوں سے متعلق واضح قواعد و ضوابط موجود ہونے چاہئیں تھے، اور کسی بھی جج کا تبادلہ ایک باقاعدہ اور اجتماعی طریقہ کار کے تحت ہونا چاہیے کیونکہ اس سے متعلقہ ہائی کورٹ کی سینیارٹی متاثر ہو سکتی ہے۔
پی ٹی آئی نے ججز کے تبادلوں کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مخالفت کی ہے۔

