نماز کے بعد کی تسبیحات پڑھنا Reciting the prescribed dhikr (tasbeeh) after prayer
🍃 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ” مَنْ سَبَّحَ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَحَمِدَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبَّرَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، فَتْلِكَ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ، وَقَالَ تَمَامَ الْمِائَةِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، غُفِرَتْ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ ". [صحيح مسلم:1352]
🍃ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سےروایت کرتے ہیں: ”جس نے ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سُبْحَانَ اللہ (اللہ پاک ہے)، تینتیس دفعہ اَلْحَمْدُ لِلّٰه (تمام تعریف اللہ کے لیے ہے) اور تینتیس بار اللہُ اَکْبَر (اللہ سب سے بڑا ہے) کہا، یہ ننانوے ہو گئے اور سو پورا کرنے کے لیے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اسی کے لیے تمام تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر پوری طرخ قادر ہے) کہا تو اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے، چاہے وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔“
یہ مبارک حدیث صحیح مسلم کی ہے اور ان جامع کلمات میں سے ہے جنہیں ‘باقیات صالحات’ کہا جاتا ہے۔ اس حدیث کی تشریح اور وضاحت درج ذیل نکات کی صورت میں پیشِ خدمت ہے:
حدیثِ مبارکہ کی تشریح و تصریح
اذکار کی اہمیت اور ترتیب
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک ایسی جامع تسبیح سکھائی ہے جو نہ صرف وقت کے لحاظ سے مختصر ہے بلکہ اجر و ثواب کے لحاظ سے بے پناہ وسعت رکھتی ہے۔ ہر فرض نماز کے بعد ان کلمات کی ادائیگی کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنی نماز کی کوتاہیوں کی تلافی کر رہا ہے اور اللہ کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے اپنی بندگی کا حق ادا کر رہا ہے۔ اس تسبیح میں تین اہم اجزاء ہیں: سبحان اللہ (اللہ کی پاکیزگی)، الحمدللہ (اللہ کا شکر اور تعریف)، اور اللہ اکبر (اللہ کی بڑائی)۔ ان تینوں کلمات کو 33، 33 مرتبہ پڑھنے سے 99 کا عدد مکمل ہوتا ہے، اور پھر توحید کے کلمہ سے سو کا عدد پورا کیا جاتا ہے۔
عدد کی حکمت اور کلمہِ توحید
اسلامی عبادات میں اعداد (جیسے 33 یا 100) کی اپنی ایک خاص روحانی اہمیت اور تاثیر ہوتی ہے۔ جب بندہ 99 مرتبہ تسبیح و تحمید کرتا ہے تو اس کے دل میں اللہ کی محبت اور ہیبت پیدا ہوتی ہے۔ اس کیفیت کو مکمل کرنے کے لیے سوویں نمبر پر کلمہِ توحید "لا الٰہ الا اللہ…” پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ کلمہ اس بات کا اعلان ہے کہ کائنات کی ہر طاقت اور ہر حمد کا مرکز صرف اور صرف اللہ کی ذات ہے۔ یہ کلمہ پڑھنے سے بندے کا عقیدہ توحید تازہ ہو جاتا ہے اور وہ شرک کی تمام غلاظتوں سے پاک ہو کر خالص اللہ کا بندہ بن جاتا ہے۔
گناہوں کی معافی اور سمندر کی جھاگ
حدیث کے آخری حصے میں ایک عظیم خوشخبری دی گئی ہے کہ اس ذکر کو معمول بنانے والے کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، چاہے وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔ یہاں ‘سمندر کی جھاگ’ سے مراد گناہوں کی کثرت اور زیادتی ہے۔ علماء فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ‘صغیرہ گناہ’ (چھوٹے گناہ) ہیں، کیونکہ کبیرہ گناہوں کے لیے توبہ شرط ہے۔ تاہم، اللہ کی رحمت اتنی وسیع ہے کہ وہ ان اذکار کی برکت سے بندے کو توبہ کی توفیق بھی عطا فرما دیتا ہے۔ سمندر کی جھاگ بظاہر بہت زیادہ معلوم ہوتی ہے لیکن اللہ کے ایک حکم سے مٹ جاتی ہے، بالکل اسی طرح یہ ذکر بندے کے نامہ اعمال سے گناہوں کے ڈھیر کو ختم کر دیتا ہے۔
روحانی و دنیاوی فوائد
اس تسبیح کو مستقل مزاجی سے پڑھنے والا شخص ذہنی سکون اور قلبی اطمینان محسوس کرتا ہے۔ یہ ذکر انسان کے اندر عاجزی پیدا کرتا ہے اور اسے تکبر سے بچاتا ہے۔ جب ایک انسان دن میں پانچ مرتبہ یہ اعتراف کرتا ہے کہ "اللہ سب سے بڑا ہے” اور "تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں”، تو اس کے اندر دنیاوی مشکلات کا ڈر ختم ہو جاتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف آخرت میں بلندیِ درجات کا ذریعہ ہے بلکہ دنیا میں بھی برکت اور حفاظت کا سبب بنتا ہے۔
حاصلِ کلام
مختصر یہ کہ یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کی رحمت کو پانا مشکل نہیں، بلکہ اس کے لیے صرف تھوڑی سی توجہ اور پابندی کی ضرورت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر فرض نماز کے فوراً بعد اٹھنے کے بجائے چند لمحے نکال کر اس مسنون وظیفے کو اپنا معمول بنائیں تاکہ ہم بھی اس عظیم مغفرت کے حقدار بن سکیں جس کا وعدہ صادق و امین ﷺ نے فرمایا ہے۔
