مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 17°C
منگل، 27 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.94 EUR/PKR 310.43 GBP/PKR 370.35 سونا/تولہ (عالمی) 417,300 PKR Bitcoin $80,022 USD/PKR 276.94 EUR/PKR 310.43 GBP/PKR 370.35 سونا/تولہ (عالمی) 417,300 PKR Bitcoin $80,022
بزنس

مصنوعی ذہانت اور عالمی ڈیجیٹل معیشت کا مستقبل: مواقع، خطرات اور پاکستان کی صورتحال

📅 ✍️ ⏱ 8 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) محض ایک تکنیکی پیش رفت کے بجائے عالمی معیشت کی بنیادی ساخت کو تبدیل کرنے والا سب سے بڑا محرک بن کر ابھری ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں اور تحقیقی اداروں کے مطابق، ڈیٹا پراسیسنگ، خودکار نظاموں اور جنریٹو اے آئی کی بدولت پیداواری صلاحیت میں جو اضافہ ہو رہا ہے، وہ آنے والی دہائیوں میں عالمی جی ڈی پی (GDP) کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دے گا۔ تاہم، اس تکنیکی انقلاب کے ساتھ ساتھ ملازمتوں کی ساخت میں تبدیلیاں، ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا ڈیجیٹل تفاوت (Digital Divide) اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے نئے معاشی چیلنجز بھی سامنے آ رہے ہیں۔

عالمی جی ڈی پی اور پیداواری صلاحیت پر پیش گوئی شدہ اثرات

مختلف عالمی تجزیاتی اداروں کی پیش گوئیوں کے مطابق مصنوعی ذہانت کی شمولیت سے عالمی معیشت میں کھربوں ڈالر کا اضافہ متوقع ہے۔

پی ڈبلیو سی (PwC) کی رپورٹ "Sizing the Prize" کے پیش کردہ تخمینے کے مطابق، مصنوعی ذہانت 2030 تک عالمی جی ڈی پی میں 15.7 ٹریلین ڈالر تک کا اضافہ کر سکتی ہے، جو کہ بغیر اے آئی کے متوقع جی ڈی پی کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہے۔ اس اضافے میں سے تقریباً 6.6 ٹریلین ڈالر پیداواری صلاحیت میں بہتری اور خودکاریت (Automation) سے حاصل ہوں گے، جبکہ 9.1 ٹریلین ڈالر اے آئی سے بہتر پیش کردہ مصنوعات اور صارفین کی طلب میں اضافے سے حاصل ہونے کا تخمینہ ہے۔

مزید برآں، میکنزی گلوبل انسٹی ٹیوٹ (McKinsey Global Institute) کی 2023 میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق جنریٹو اے آئی (Generative AI) تنہا عالمی معیشت میں سالانہ 2.6 ٹریلین سے 4.4 ٹریلین ڈالر کا اضافی قدر کا اضافہ کر سکتی ہے۔ میکنزی کے مطابق، اس کی بدولت 2040 تک لیبر پروڈکٹیوٹی میں سالانہ 0.1 سے 0.6 فیصد تک اضافہ ممکن ہے۔

روزگار کی دنیا: اختلافی اثرات اور ملازمتوں کی تبدیلی

مصنوعی ذہانت کی آمد سے ملازمتوں کے بازار میں دوطرفہ تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں؛ ایک طرف رواجی ملازمتوں کا خاتمہ ہو رہا ہے تو دوسری طرف نئی تخصصاتی اسامیاں پیدا ہو رہی ہیں۔

ورلڈ اکنامک فورم (WEF) کی "Future of Jobs Report 2025" کے مطابق، 2030 تک تکنیکی تبدیلیوں اور دیگر عالمی معاشی عوامل کے باعث عالمی سطح پر تقریباً 170 ملین نئی ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے، جبکہ 92 ملین موجودہ ملازمتیں ختم یا تبدیل ہو سکتی ہیں۔ ورلڈ اکنامک فورم کے سروے کے مطابق، 40 فیصد سے زائد کاروباری ادارے ایسے شعبوں میں عملے میں کمی کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں روایتی اور دفتری کاموں کو اے آئی کے ذریعے خودکار بنایا جا سکتا ہے، جبکہ دو تہائی ادارے اے آئی کی مخصوص مہارتیں رکھنے والے افراد کو ملازمت دینے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

سرمایہ کاری اور ای کامرس میں نئی پیش رفت

سرمایہ کاری کے رجحانات میں روایتی انفراسٹرکچر کے مقابلے میں اے آئی ڈیٹا سینٹرز، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور الگورتھمک ٹیکنالوجی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی (UNCTAD) اور او ای سی ڈی (OECD) کے مشاہدات کے مطابق، ای کامرس اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام اب مکمل طور پر الگورتھم اور پیش گوئی کرنے والے ماڈلز پر منتقل ہو رہے ہیں، جس سے فراڈ کی نشاندہی، خودکار کسٹمر سروس اور شخصی تجاویز میں ڈرامائی بہتری آئی ہے۔

ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کا ڈیجیٹل تفاوت (Digital Divide)

عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) اور ورلڈ بینک کی رپورٹس کے مطابق، اے آئی کا معاشی فائدہ تمام ممالک میں ایک جیسا تقسیم نہیں ہو رہا۔ پی ڈبلیو سی کی پیش گوئی کے مطابق، 2030 تک اے آئی کے کل عالمی معاشی اثرات کا تقریباً 70 فیصد حصہ صرف دو خطوں—چین (GDP میں 26 فیصد تک اضافہ) اور شمالی امریکہ (GDP میں 14.5 فیصد اضافہ)—حاصل کریں گے۔

اس کے برعکس، بنیادی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، کمپیوٹنگ پاور اور ہنر مند فورس کی کمی کے باعث ترقی پذیر ممالک میں تکنیکی عدم مساوات بڑھنے کا خدشہ ہے، جس پر اقوام متحدہ کے اداروں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کے لیے صورتحال: فری لانسنگ، آئی ٹی برآمدات اور ہنر کی اہمیت

پاکستان جیسے نچلی اور درمیانی آمدنی والے ملک کے لیے، جس کی نصف سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، ڈیجیٹل معیشت ایک اہم معاشی سہارا فراہم کر رہی ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے جاری کردہ ارقام و شمار کے مطابق، پاکستان کی آئی ٹی اور خدمات کی برآمدات میں فری لانسنگ کا شعبہ اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ مالیاتی سال 2026-2025 میں پاکستانی فری لانسنگ سے حاصل ہونے والی کمائی مجموعی طور پر 1.76 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ ستمبر 2026 میں فری لانسرز نے ایک ماہ میں ریکارڈ 197 ملین ڈالر وصول کیے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق ستمبر 2026 کے دوران ملک کی مجموعی آئی ٹی برآمدات 435 ملین ڈالر کی سطح کو چھو گئیں۔

پاکستان میں فری لانسرز اور آئی ٹی پیشہ ور افراد کی تعداد 30 لاکھ کے قریب بتائی جاتی ہے۔ تاہم، عالمی سطح پر اے آئی کے سادہ کوڈنگ اور مواد نویسی جیسے کاموں کو خودکار بنانے کے باعث، پاکستانی فری لانسرز کو اب اے آئی پر مبنی جدید مہارتیں اور الگورتھم کی تربیت حاصل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

اہم نکات

  • عالمی جی ڈی پی میں اضافہ: پی ڈبلیو سی کے مطابق 2030 تک اے آئی عالمی معیشت میں 15.7 ٹریلین ڈالر کا اضافہ کر سکتی ہے۔
  • جنریٹو اے آئی کا کردار: میکنزی کی رپورٹ کے مطابق جنریٹو اے آئی سالانہ 2.6 سے 4.4 ٹریلین ڈالر کی معاشی قدر شامل کر سکتی ہے۔
  • ملازمتوں کا تبادلہ: ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق 2030 تک 170 ملین نئی ملازمتیں پیدا ہو سکتی ہیں جبکہ 92 ملین متاثر ہونے کا امکان ہے۔
  • معاشی عدم مساوات: اے آئی سے پیدا ہونے والے معاشی فائدے کا 70 فیصد چین اور شمالی امریکہ کے حصے میں جانے کا تخمینہ ہے۔
  • پاکستان کی پیش رفت: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق ستمبر 2026 میں ماہانہ آئی ٹی برآمدات 435 ملین ڈالر اور فری لانسنگ کی آمدنی 197 ملین ڈالر کی تاریخی سطح پر پہنچی۔

آئندہ کا منظرنامہ (Outlook)

مصنوعی ذہانت عالمی ڈیجیٹل معیشت کا ناقابلِ بازگشت محور بن چکی ہے۔ وہ ممالک جو جدید کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر، ڈیوائسز اور انسانی ہنر کی تربیت میں سرمایہ کاری کریں گے، وہ اس انقلاب سے معاشی مستفید ہوں گے۔ پاکستان جیسے ابھرتی ہوئی معیشت والے ممالک کے لیے بنیادی حکمتِ عملی یہ ہونی چاہیے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو اے آئی کے استعمال سے آگے بڑھا کر اے آئی ماڈلز کی تعمیر اور انضمام کے قابل بنائیں تاکہ عالمی ڈیجیٹل سسٹمز میں ان کا معاشی حصہ محفوظ رہے۔

—

ذرائع

  1. PwC (پی ڈبلیو سی): Global Artificial Intelligence Study: "Sizing the prize" (2030 GDP Projection Report)
  2. McKinsey Global Institute (میکنزی گلوبل انسٹی ٹیوٹ): Report: "The economic potential of generative AI: The next productivity frontier" (July 2023)
  3. World Economic Forum (ورلڈ اکنامک فورم): "Future of Jobs Report 2025" / "Four Futures for Jobs in the New Economy 2030"
  4. State Bank of Pakistan (اسٹیٹ بینک آف پاکستان): Official IT & Freelancing Export Receipts Data (FY2025-26 & September 2026 statistics)
  5. UNCTAD & World Bank: Global Digital Economy and Infrastructure Divergence Indicators
تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں