قیصر احمد شیخ: پاکستان سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ سرمایہ کاری معاشی بحالی کا بنیادی ذریعہ ہے جو روزگار کے مواقع پیدا کرنے، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور پیداواری صلاحیت میں اضافے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد میں سی ای او سمٹ 2026 سے خطاب کے دوران کیا۔
اہم نکات
- سی ای او سمٹ 2026 کا موضوع ‘مشکل حالات میں نمو: مستقبل کی نئی تشکیل’ تھا۔
- قیصر احمد شیخ نے پاکستان کو چین کے معاشی ترقی کے ماڈل سے سیکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
- آئی ٹی، زراعت، معدنیات، توانائی اور سیاحت جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
- حکومت سرمایہ کاروں کے لیے غیر ضروری رکاوٹوں کو دور کرنے اور سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
سمٹ میں ممتاز کاروباری شخصیات، چیف ایگزیکٹوز اور سفارتکاروں نے شرکت کی۔ قیصر احمد شیخ نے مزید کہا کہ پاکستان کو چین کے معاشی ترقی کے تجربے سے استفادہ کرنا چاہیے جس نے تین دہائیوں تک مسلسل دوہرے ہندسے کی معاشی ترقی حاصل کی۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ حکومت، جیسا کہ شزا فاطمہ خواجہ کا گلوبل اے آئی اینڈ ڈیجیٹل سمٹ 2026 سے خطاب میں بھی ڈیجیٹل معیشت کی اہمیت پر زور دیا گیا، پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔
سرمایہ کاری اور معاشی استحکام
وفاقی وزیر نے کہا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ (BOI) کا بنیادی مقصد سرمایہ کاروں کو ضروری سہولیات فراہم کرنا اور کاروباری سرگرمیوں کی راہ میں حائل غیر ضروری رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے پالیسیوں میں تسلسل، بروقت فیصلوں اور واضح حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان میں کاروبار شروع کرنے، موجودہ کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دینے اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے اقدامات کر رہی ہے۔
معاشی ترقی کا حصول صرف حکومت کے لیے ممکن نہیں بلکہ اس عمل میں نجی شعبے کا کردار مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔ قیصر احمد شیخ نے حکومت اور کاروباری برادری کے درمیان مسلسل مکالمے اور مضبوط شراکت داری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پاس باصلاحیت نوجوان افرادی قوت، وسیع مقامی منڈی، قدرتی وسائل اور تزویراتی محل وقوع جیسے اہم وسائل موجود ہیں جنہیں مؤثر حکمت عملی کے ذریعے معاشی ترقی کے لیے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔
بیرون ملک پاکستانیوں کا کردار
انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی زرمبادلہ کی ترسیلات کے علاوہ سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور عالمی کاروباری روابط کے ذریعے ملکی معیشت کے استحکام اور ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مشکل معاشی حالات میں پائیدار ترقی اور استحکام کے حصول کے لیے طویل المدتی سوچ، باہمی تعاون اور حکومت و نجی شعبے کے درمیان مؤثر شراکت داری ناگزیر ہے۔ جیسے کہ عبدالعلیم خان کی زیر صدارت اجلاس، این ایچ اے کے چار منصوبے پی پی پی کے تحت مکمل کرنے پر اتفاق ہوا ہے، نجی و سرکاری شراکت داری معاشی ترقی کی کنجی ہے۔ مزید برآں، این ایچ اے اور نجکاری کمیشن کا اہم شاہراہوں پر اشتراک کا فیصلہ بھی اسی تسلسل کا حصہ ہے۔
اہم سوالات و جوابات
سی ای او سمٹ 2026 کا بنیادی موضوع کیا تھا؟
سمٹ کا موضوع ‘مشکل حالات میں نمو: مستقبل کی نئی تشکیل’ تھا جس میں معاشی استحکام پر غور کیا گیا۔
پاکستان کن شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دے رہا ہے؟
پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، معدنیات، توانائی، مینوفیکچرنگ اور سیاحت جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع فراہم کر رہا ہے۔
