مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 20°C
اتوار، 25 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 310.12 GBP/PKR 370.24 سونا/تولہ (عالمی) 414,909 PKR Bitcoin $80,262 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 310.12 GBP/PKR 370.24 سونا/تولہ (عالمی) 414,909 PKR Bitcoin $80,262
بزنس

آر سی سی آئی کا پراپرٹی ٹیکس اور ستھرا پنجاب فیس پر تحفظات

📅 ✍️ ⏱ 4 منٹ
راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے صدر نوشیروان خلیل خان پراپرٹی ٹیکس کے معاملات پر گفتگو کر رہے ہیں۔ (تصویر 1)
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

راولپنڈی (نمائندہ خصوصی)۔ راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (RCCI) کے صدر نوشیروان خلیل خان نے پراپرٹی ٹیکس کے نئے تعین اور ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت صفائی فیس کے نفاذ کو کاروباری برادری کے لیے اضافی مالی بوجھ قرار دیا ہے۔ اس بات کا اظہار انہوں نے ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن راولپنڈی ڈویژن نعمان خالد سے ہونے والی ایک اہم ملاقات کے دوران کیا۔ پائیدار معاشی ترقی کے لیے پالیسیوں میں تسلسل اور مالیاتی نظم و ضبط ناگزیر ہے، اور اس تناظر میں چیمبر نے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ ٹیکس نظام میں شفافیت لائی جائے۔

اہم نکات

  • پراپرٹی ٹیکس کی نئی اسیسمنٹ اور صفائی فیس کا نفاذ کاروباری لاگت میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔
  • واسا اور محکمہ ایکسائز کو ادائیگیوں کے باوجود اضافی فیس کا نفاذ دوہرے ٹیکس کے مترادف ہے۔
  • آر سی سی آئی نے پراپرٹی ٹرانسفر کے لیے این او سی کو صفائی فیس سے مشروط کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
  • حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ چھوٹے کاروباروں کو ریلیف دیا جائے اور فیس کا تعین حقیقی سروے کی بنیاد پر ہو۔

پراپرٹی ٹیکس اور کاروباری برادری کے خدشات

وفد میں سینئر نائب صدر وسیم اسلم، نائب صدر اکرام عباسی، ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین اور دیگر نمائندگان شامل تھے۔ ملاقات میں فنانس ایکٹ میں حالیہ ترامیم اور پراپرٹی ٹیکس کی ویلیوایشن پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدر نوشیروان خلیل خان کا کہنا تھا کہ توانائی کے بڑھتے اخراجات اور یوٹیلیٹی بلوں کی وجہ سے پہلے ہی تاجر طبقہ مشکلات کا شکار ہے، ایسے میں مزید ٹیکسوں کا بوجھ ناقابل برداشت ہے۔ ایس ایم ایز کے لیے قرضوں کی فراہمی بڑھانے سے معاشی ترقی میں مدد ملے گی، لیکن اس کے لیے سازگار ٹیکس ماحول کی ضرورت ہے۔

این او سی کی شرط اور قانونی پیچیدگیاں

راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے صدر نوشیروان خلیل خان پراپرٹی ٹیکس کے معاملات پر گفتگو کر رہے ہیں۔ (تصویر 3)

آر سی سی آئی نے پراپرٹی کی منتقلی اور تجارتی معاملات کے لیے این او سی (NOC) کے حصول کو صفائی فیس کی ادائیگی سے مشروط کرنے کی شدید مخالفت کی ہے۔ خصوصاً ان کیسز میں جہاں متعلقہ بل ہی جاری نہیں ہوئے یا موصول نہیں ہوئے، ایسی شرط قانونی پراپرٹی ٹرانزیکشنز کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ وفد نے زور دیا کہ ٹیکس پالیسیاں شفاف، منصفانہ اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے مرتب کی جانی چاہئیں۔ چیمبر نے مطالبہ کیا کہ صفائی فیس کا تعین تازہ فیلڈ سروے اور حقیقی سروس کوریج کی بنیاد پر کیا جائے۔ درآمدات میں انڈر انوائسنگ کے خلاف ملک گیر کارروائی کی جائے، اور اسی طرح پراپرٹی ٹیکس کے طریقہ کار میں موجود بے ضابطگیوں کو ختم کرکے منصفانہ تعین کیا جائے۔ مزید برآں، بلنگ تنازعات کے فوری حل کے لیے ایک خصوصی ڈیسک قائم کرنے اور آن لائن شکایات کی سہولت فراہم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ آر سی سی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ متنازعہ بلوں کے تصفیے تک جرمانے اور اضافی سرچارجز معطل کیے جائیں۔

اہم سوالات و جوابات

آر سی سی آئی کو کن ٹیکسوں پر تحفظات ہیں؟

چیمبر کو پراپرٹی ٹیکس کے نئے تعین اور ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت عائد کردہ صفائی فیس کے نفاذ پر تحفظات ہیں جو کاروبار پر مالی بوجھ بڑھا رہے ہیں۔

کاروباری برادری نے این او سی کے بارے میں کیا مطالبہ کیا ہے؟

چیمبر کا مطالبہ ہے کہ پراپرٹی ٹرانسفر کے لیے این او سی کے حصول کو صفائی فیس کی ادائیگی سے مشروط کرنے کی شرط پر نظرثانی کی جائے۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں