زرعی ملک میں بھوک کا بحران سنگین، پاکستان جنوبی ایشیا میں افغانستان کے بعد دوسرے نمبر پر
زرعی ملک میں بھوک کا بحران سنگین، پاکستان جنوبی ایشیا میں افغانستان کے بعد دوسرے نمبر پر
اسلام آباد:
زرعی ملک پاکستان میں بھوک اور غذائی عدم تحفظ کی صورتِ حال سنگین ہوگئی، گلوبل ہنگر انڈیکس 2026 میں پاکستان 122 ممالک میں 106ویں نمبر پر آگیا، جبکہ جنوبی ایشیا میں افغانستان کے بعد پاکستان کا ہنگر انڈیکس اسکور دوسرے نمبر پر ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کا اسکور 25.5 ہے، ملک کی 16.1 فیصد آبادی ناکافی خوراک کا سامنا کر رہی ہے اور پانچ سال سے کم عمر 33.6 فیصد بچوں کی نشوونما متاثر ہے۔
گلوبل ہنگر انڈیکس 2026 کی رپورٹ 14 اکتوبر کو جاری کی گئی، جبکہ پاکستان سے متعلق اس کے اعداد و شمار 15 اکتوبر کو ذرائع ابلاغ میں رپورٹ ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان کا ہنگر انڈیکس اسکور 28.6 ہے، پاکستان 25.5 اسکور کے ساتھ اس کے بعد ہے، جبکہ بھارت کا اسکور 24.1 اور بنگلہ دیش کا 19.2 ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اعداد و شمار جنوبی ایشیا میں پاکستان کو بھوک اور غذائی عدم تحفظ کے حوالے سے درپیش سنگین چیلنجز کو ظاہر کرتے ہیں۔
رپورٹ کا ایک اہم پہلو بچوں کی غذائیت ہے۔ پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر 33.6 فیصد بچوں کا قد ان کی عمر کے لحاظ سے کم ہے، جسے طبی اصطلاح میں اسٹنٹنگ کہا جاتا ہے۔ یہ کیفیت طویل عرصے تک ناکافی یا غیر متوازن غذا اور دیگر عوامل کے باعث جسمانی نشوونما متاثر ہونے کی علامت ہے۔ مزید برآں، 9.8 فیصد بچے اپنے قد کے مقابلے میں کم وزن رکھتے ہیں، جسے ویسٹنگ کہا جاتا ہے۔ یہ غذائی کمی کی ایک اہم علامت ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی 16.1 فیصد آبادی کو مطلوبہ غذائی توانائی میسر نہیں، جبکہ پانچ سال کی عمر سے پہلے بچوں کی اموات کی شرح 5.6 فیصد ہے۔ گلوبل ہنگر انڈیکس میں ان اشاریوں کو ملا کر کسی ملک میں بھوک کی مجموعی صورتِ حال کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے، جہاں زراعت ملکی معیشت، روزگار اور خوراک کی فراہمی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے، لیکن اس کے باوجود آبادی کے ایک بڑے حصے کو مناسب اور غذائیت سے بھرپور خوراک کی دستیابی ایک بڑا چیلنج ہے۔ خوراک کی قیمتوں میں اضافہ، کم آمدنی، بے روزگاری، قدرتی آفات اور زرعی پیداوار کو پہنچنے والے نقصانات کم آمدنی والے خاندانوں کی قوتِ خرید اور غذائی تحفظ کو متاثر کر سکتے ہیں۔
ماہرینِ غذائیت کے مطابق بچوں کی نشوونما متاثر ہونے کے نتائج صرف جسمانی صحت تک محدود نہیں رہتے بلکہ سیکھنے کی صلاحیت، تعلیمی کارکردگی اور مستقبل میں معاشی امکانات پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اس لیے غذائی قلت سے نمٹنے کے لیے بچوں اور حاملہ خواتین کی غذائیت، بنیادی صحت کی سہولتوں، صاف پانی، متوازن خوراک تک رسائی اور کم آمدنی والے خاندانوں کے سماجی تحفظ پر خصوصی توجہ ضروری ہے۔
گلوبل ہنگر انڈیکس کے مطابق پاکستان کا اسکور سال 2000 میں 36.2 تھا، جو 2026 میں کم ہو کر 25.5 رہ گیا ہے۔ یہ طویل مدت میں بہتری کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم موجودہ اسکور اب بھی ملک میں بھوک کی سنگین سطح کو ظاہر کرتا ہے۔ اس صورتِ حال میں غذائی تحفظ کو قومی ترجیحات میں شامل کرنا اور خوراک کی دستیابی کے ساتھ عام شہری کی قوتِ خرید بہتر بنانا اہم ضرورت ہے۔
ماخذ: گلوبل ہنگر انڈیکس 2026، سرکاری رپورٹ اور ملک وار اعداد و شمار۔
