علاقائی طاقتیں حوثیوں کو جدید اسلحہ فراہم کر رہی ہیں، ترجمان سعودی اتحادی افواج
علاقائی طاقتیں حوثیوں کو جدید اسلحہ فراہم کر رہی ہیں، ترجمان سعودی اتحادی افواج
سعودی ہوائی اڈوں پر حوثی حملوں میں 19 افراد جاں بحق، 364 زخمی ہوئے، ترجمان کی پریس کانفرنس
ریاض: سعودی اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے الزام عائد کیا ہے کہ علاقائی طاقتیں حوثی ملیشیا کو جدید فوجی ٹیکنالوجی فراہم کر رہی ہیں، جس میں بیلسٹک میزائل، حملہ آور ڈرون، خودکش ڈرون اور دھماکا خیز مواد سے لیس تیز رفتار کشتیاں شامل ہیں۔ انہوں نے تاہم پریس کانفرنس میں کسی مخصوص ملک کا نام لے کر حوثیوں کی معاونت کا الزام نہیں لگایا۔
15 اکتوبر کو ریاض میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ یکم سے 11 اکتوبر کے دوران سعودی عرب کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثی ملیشیا کے 20 حملے کیے گئے، جنہیں ناکام بنایا گیا۔ ان کے مطابق سعودی ہوائی اڈوں پر حملوں میں مجموعی طور پر 19 افراد جاں بحق اور 364 زخمی ہوئے۔
ترجمان نے 10 اکتوبر کو شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانا مسافروں، شہریوں اور زائرین کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق 7 اکتوبر کو شاہ خالد ایئرپورٹ پر حملے میں ایک شخص جاں بحق اور 8 زخمی ہوئے، جبکہ 8 اکتوبر کو 3 افراد جاں بحق اور 5 زخمی ہوئے۔ 10 اکتوبر کے حملے میں 12 افراد جاں بحق اور 309 زخمی ہوئے، جبکہ 11 اکتوبر کو ٹرمینل 3 پر حملے میں ایک شخص جاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔
ترجمان نے بتایا کہ 7 اکتوبر کو ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں مراکش اور الجزائر سے تعلق رکھنے والی دو خواتین جاں بحق اور 28 افراد زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق جازان کے شاہ عبداللہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور شاہ فہد ایئرپورٹ سمیت دیگر ہوائی اڈوں کو بھی حوثی ملیشیا نے نشانہ بنایا۔
میجر جنرل ترکی المالکی نے دعویٰ کیا کہ حوثی ملیشیا نے یمن کے صوبوں صنعاء، صعدہ اور عمران کے پہاڑی علاقوں میں اسلحے اور فوجی سازوسامان کی ذخیرہ گاہیں قائم کر رکھی ہیں۔ ان کے مطابق اتحادی افواج نے 127 ذخیرہ گاہیں تباہ کیں اور حوثیوں کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھیں۔
حوثیوں کو جدید فوجی ٹیکنالوجی کی فراہمی کے حوالے سے ترجمان نے علاقائی طاقتوں کی معاونت کا ذکر کیا، تاہم کسی مخصوص ملک کی نشاندہی نہیں کی۔ ایران پر حوثیوں کو ہتھیار اور معاونت فراہم کرنے کے الزامات سعودی حکام دیگر مواقع پر بھی عائد کرتے رہے ہیں، تاہم اس پریس کانفرنس میں ایران کا نام لے کر براہِ راست الزام عائد نہیں کیا گیا۔
ترجمان سعودی اتحادی افواج نے کہا کہ حوثی حملے سعودی عرب کی خودمختاری، شہریوں اور اہم تنصیبات کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے شہری ہوابازی کے مراکز اور دیگر شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا۔
