مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 18°C
پیر، 26 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.94 EUR/PKR 310.43 GBP/PKR 370.35 سونا/تولہ (عالمی) 417,757 PKR Bitcoin $80,224 USD/PKR 276.94 EUR/PKR 310.43 GBP/PKR 370.35 سونا/تولہ (عالمی) 417,757 PKR Bitcoin $80,224
بزنس

گورنر پنجاب سے لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل کی ملاقات

📅 ✍️ ⏱ 4 منٹ
گورنر پنجاب سے لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل کی ملاقات (تصویر 1)
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (LCCI) کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان سے ملاقات کی جس میں صوبے میں صنعتی و کاروباری سرگرمیوں کے فروغ، صنعتوں کو درپیش چیلنجز اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ پائیدار صنعتی ترقی کے لیے پالیسی سازی میں تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے فیصلے جو زمینی حقائق کو نظر انداز کر کے کیے جائیں، وہ دیرپا فوائد کا باعث نہیں بن سکتے۔ حکومت جامع اور مشاورتی پالیسی سازی پر بھرپور توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے اور کاروباری برادری کے تحفظات دور کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گی۔ جیسا کہ پاکستان کے قرض و واجبات 100 کھرب روپے تک پہنچنا تشویشناک ہے، ایسے میں صنعتی عمل کو سہولت فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

گورنر پنجاب نے مشکل معاشی حالات کے باوجود سرمایہ کاری کا تسلسل برقرار رکھنے پر کاروباری برادری کی تعریف کی اور اسے حب الوطنی کا عملی مظہر قرار دیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ صنعتکاروں کو درپیش مسائل کو متعلقہ اعلیٰ حکام کے نوٹس میں لایا جائے گا۔

گورنر پنجاب سے لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل کی ملاقات (تصویر 2)

لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے گورنر پنجاب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گورنر ہاؤس کی جانب سے کاروباری طبقے کے مسائل پر فوری ردعمل حکومتی سنجیدگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لاہور کے مختلف صنعتی علاقوں میں 1400 سے زائد صنعتیں فعال ہیں جو لاکھوں افراد کے لیے روزگار کا ذریعہ بنی ہوئی ہیں۔ تاہم، ان صنعتوں کو کمرشلائزیشن کی بھاری فیسوں، انتظامی رکاوٹوں اور دیگر چیلنجز کا سامنا ہے، جس سے صنعتی سرگرمیوں کے تسلسل پر سوالیہ نشان اٹھ رہے ہیں۔

فہیم الرحمن سہگل نے مطالبہ کیا کہ موجودہ صنعتی علاقوں کو باقاعدہ صنعتی زونز کا درجہ دیا جائے اور کمرشلائزیشن فیس میں نمایاں کمی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے صنعتوں کو درپیش مشکلات حل ہوں گی، صنعتی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رہے گا اور لاکھوں ملازمتیں محفوظ ہو سکیں گی۔ آسان تاجر اسکیم تاجروں کو رسمی معیشت میں شامل ہونے کا موقع فراہم کرتی ہے، اور اس طرح کے اقدامات صنعتی بحالی کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لاہور کے متعدد صنعتی علاقوں میں صنعتیں دہائیوں سے کام کر رہی ہیں اور مقامی معیشت، برآمدات اور روزگار میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ لہٰذا، ان کے مستقبل سے متعلق کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت زمینی حقائق کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔

لاہور چیمبر کے صدر نے صنعتی منتقلی (Relocation) کے مجوزہ منصوبوں میں نجی شعبے کی مؤثر شمولیت پر زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ صنعتکاروں کے اعتماد اور مشاورت کے بغیر کوئی بھی پالیسی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتی۔ چونکہ صنعتیں دہائیوں کی سرمایہ کاری اور انتھک محنت سے قائم ہوتی ہیں، اس لیے ان کی منتقلی کے فیصلوں میں متبادل سہولیات، کاروباری لاگت، انفراسٹرکچر اور متعلقہ تاجر برادری سے بامقصد مشاورت کو یقینی بنانا ہوگا۔ یاد رہے کہ نئے انتظامی یونٹس بنانے کی طرف عملی قدم، اسلام آباد کے صوبائی سٹرکچر کا ماڈل تیار، 27 رکنی اسمبلی بنے گی، اسی طرح کے انتظامی فیصلوں میں کاروباری طبقات کی رائے کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں