ایس آئی ایف سی کو آرگینک زراعت کیلئے فوکل پلیٹ فارم بنائیں
لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ آرگینک زراعت اور مصنوعات پر ریسرچ کرنے والے ادارے کے سربراہ نجم مزاری نے مطالبہ کیا ہے کہ آرگینک زراعت کو قومی برآمدی پالیسی میں خصوصی اہمیت دی جائے اور ایس آئی ایف سی (SIFC) کو آرگینک شعبے کی ترقی، سرمایہ کاری اور برآمدات کیلئے فوکل پلیٹ فارم کا کردار سونپا جائے۔ نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بن کر رہیں گے، نہ کوئی فرد واحد، نہ سیاسی جماعت، نہ ہی نمائندے روک سکتے ہیں، اب یہاں بھی صادق خان اور ممدانی آئیں گے ،محسن نقوی کی طرح زرعی شعبے میں بھی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
آرگینک زراعت کے فروغ کیلئے جامع روڈ میپ کی ضرورت
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ایس آئی ایف سی کے ذریعے مقامی سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ بیرون ملک سے سرمایہ کاری اور فنڈنگ حاصل کرکے آرگینک زراعت، جدید پروسیسنگ یونٹس، کولڈ چین، پیکیجنگ اور ویلیو ایڈیشن کو فروغ دیا جائے۔ اسحاق ڈار کی مصر کے وزیر خارجہ سے ٹیلی فونک گفتگو، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی و بین الاقوامی صورتحال بارے تبادلہ خیال کے تناظر میں یہ اقدامات پاکستان کی معاشی خود مختاری کیلئے ناگزیر ہیں۔
برآمدی رکاوٹیں ختم کرنے کیلئے ون ونڈو سہولت
انہوں نے کہا کہ آرگینک مصنوعات کی برآمد میں سرٹیفکیشن، لیبارٹری ٹیسٹنگ، ٹریس ایبلٹی، کسٹمز کلیئرنس اور دیگر نان ٹیرف رکاوٹیں دور کرنے کیلئے ‘ون ونڈو سہولت’ فراہم کی جائے تاکہ کاشتکار اور برآمد کنندگان عالمی منڈیوں تک آسانی سے رسائی حاصل کرسکیں۔ حکومت کو اسلام آباد کو خوبصورت اور سرسبز بنانے کیلئے شجرکاری مہم کا آغاز کی طرز پر زرعی پالیسیوں کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا۔
انہوں نے تجویز دی کہ آرگینک زراعت کیلئے خصوصی ورکنگ گروپس تشکیل دیئے جائیں جو پیداوار سے لے کر پروسیسنگ، سرٹیفکیشن، پیکیجنگ، مارکیٹنگ اور برآمد تک مکمل سپلائی چین کا جائزہ لے کر جامع روڈ میپ تیار کریں۔ نجم مزاری نے کہا کہ پاکستانی سفارتخانوں اور تجارتی مشنز کو بھی عالمی منڈیوں میں پاکستانی آرگینک مصنوعات کی تشہیر اور خریداروں سے روابط کیلئے فعال کیا جائے۔
بندرگاہوں پر خصوصی سہولیات کی فراہمی
انہوں نے مطالبہ کیا کہ بندرگاہوں پر آرگینک زرعی مصنوعات کی کلیئرنس، معائنے، ذخیرہ اور ترسیل کیلئے خصوصی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ برآمد کنندگان کے اخراجات اور وقت میں کمی لائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آرگینک چاول، پھل، سبزیاں، دالیں، مصالحہ جات، شہد اور دیگر قدرتی مصنوعات کی پیداوار اور برآمد کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ اگر حکومت بروقت سہولت کاری، سرمایہ کاری اور پالیسی سپورٹ فراہم کرے تو آرگینک شعبہ ملک کیلئے نئے برآمدی محاذ اور قیمتی زرمبادلہ کے بڑے ذریعے کے طور پر سامنے آ سکتا ہے۔
