پاکستان کا تجارتی خسارہ 18 فیصد بڑھ گیا، ایف پی سی سی آئی کا اظہارِ تشویش
کراچی (نمائندہ خصوصی)۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے مالی سال 2026-27 کے ابتدائی دو ماہ (جولائی تا اگست) کے دوران ملکی تجارتی توازن کے تشویشناک رجحان پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس عرصے کے دوران ملک کا تجارتی خسارہ 18.1 فیصد اضافے سے 7.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ گزشتہ برس اسی مدت میں یہ خسارہ 6.025 ارب ڈالر تھا۔
تجارتی خسارے میں اضافے کے اسباب
صدر ایف پی سی سی آئی نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ معاشی سرگرمیوں میں معمولی بہتری کے باوجود درآمدات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جو برآمدات کی شرح سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ تجارتی خسارہ ملکی معاشی استحکام اور زرمبادلہ کے ذخائر کے لیے ایک فوری خطرہ ہے۔ عاطف اکرام شیخ نے زور دے کر کہا کہ برآمدات کا درآمدات کے ساتھ قدم ملا کر نہ چل سکنا صنعتی صلاحیت کی کمی نہیں بلکہ کاروبار کرنے کی لاگت (Cost of Doing Business) کا نتیجہ ہے، جس نے صنعتوں کو عالمی منڈی میں اپنے علاقائی حریفوں کے مقابلے میں غیر مسابقتی بنا دیا ہے۔
صنعتی ترقی میں حائل رکاوٹیں
عاطف اکرام شیخ نے اہم رکاوٹوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی بینک کی بلند ترین پالیسی ریٹ تجارت اور صنعت کی راہ میں سب سے بڑی دیوار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی صنعت اتنے مہنگے قرضوں کے ساتھ منافع نہیں کما سکتی، جس نے نجی شعبے میں کریڈٹ گروتھ کو روک دیا ہے۔ اے ڈی بی کے نائب صدر ینگ منگ یانگ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافہ اور گیس کی مہنگی فراہمی نے برآمد کنندگان کے منافع کے مارجن کو ختم کر دیا ہے۔ اسی طرح، پیٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتیں بھی اندرونِ ملک لاجسٹک اور سپلائی چین کے اخراجات میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں، جس سے برآمدی اشیاء کی حتمی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے۔
حکومت سے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ
ایف پی سی سی آئی کی قیادت نے وزیراعظم، وزارت خزانہ، وزارت تجارت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کاروباری برادری کے ساتھ مل کر ہنگامی حکمت عملی وضع کریں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صنعتی پہیہ رواں رکھنے کے لیے پالیسی ریٹ میں کمی، بجلی اور گیس کے نرخوں کو علاقائی حریفوں کے مساوی لانے اور پیٹرولیم لیویز میں ٹارگٹڈ ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ معیشت کو مزید بحران سے بچایا جا سکے۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی اسلام آباد، لاہور سمیت بڑے شہروں سے میئر کا عہدہ ختم کرنا بلدیاتی نظام کو کمزور کرنے کے مترادف ہوگا، خواجہ سعد رفیق جیسے اہم معاملات پر تاجر برادری نے حکومت کو ملکی معیشت کی بہتری کے لیے متوجہ کیا ہے۔ ایف پی سی سی آئی نے مزید کہا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو صنعتی بندشوں کا سلسلہ بڑھ سکتا ہے، جبکہ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی قومی ویمن کرکٹ ٹیم سے ملاقات، کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھایا کے مثبت اثرات کی طرح صنعتوں کو بھی سرپرستی کی ضرورت ہے۔
