اے آئی گورننس ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کے لیے ناگزیر ہے
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (LCCI) کے صدر فہیم الرحمن سہگل کی زیر صدارت ”آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) گورننس: اصول، اخلاقیات، خطرات اور ریگولیٹری تیاری“ کے موضوع پر ایک تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد کاروباری برادری کو مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال، گورننس فریم ورک، اخلاقی تقاضوں اور ابھرتے ہوئے ریگولیٹری تقاضوں سے آگاہ کرنا تھا۔ ورکشاپ میں ٹیک گورننس انٹیلی جنس کے بانی و ایگزیکٹو ڈائریکٹر شکیل اے میاں نے مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ، محفوظ اور شفاف استعمال کو یقینی بنانے کے لیے منظم اے آئی گورننس فریم ورک کی اہمیت پر تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ اس موقع پر ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن فردوس نثار، کنوینر اسٹینڈنگ کمیٹی آن کوسٹل میری ٹائم عاطف خان، نادیہ خان، حامد اللہ خان، عمران حیدر، الیاس مجید، عظمیٰ ندیم، نائلہ تنویر، عمر فرید اور مہوش عداس نے بھی شرکت کی۔
مصنوعی ذہانت اور کاروباری ترقی
لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ مصنوعی ذہانت تیزی سے کاروباری طریقہ کار کو تبدیل کر رہی ہے اور اس میں پیداواری صلاحیت، جدت، فیصلہ سازی اور مسابقتی صلاحیت کو بہتر بنانے کی وسیع استعداد موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ کاروباری اداروں کے لیے ذمہ دارانہ گورننس کے اصول اپنانا بھی ضروری ہو گیا ہے تاکہ تکنیکی ترقی کو اخلاقی اقدار، شفافیت اور جوابدہی سے ہم آہنگ رکھا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کاروباری برادری کو ابھرتے ہوئے اے آئی قوانین اور بین الاقوامی بہترین طریقہ کار سے آگاہی حاصل کرنا ہوگی تاکہ پاکستانی کاروباری ادارے ممکنہ خطرات کو کم کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت کو اعتماد کے ساتھ اپنا سکیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مؤثر اے آئی گورننس کو محض ایک ریگولیٹری تقاضے کے طور پر نہیں بلکہ پائیدار ڈیجیٹل تبدیلی کے ایک اہم جزو کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جیسے جیسے برآمدات بڑھانے کیلئے پیداواری لاگت میں کمی ناگزیر ہے، اسی طرح ٹیکنالوجی کے شعبے میں شفافیت بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

جوابدہی اور انسانی نگرانی کا کردار
شکیل اے میاں نے کہا کہ مؤثر اے آئی گورننس کے لیے واضح جوابدہی، خطرات کی بنیاد پر انتظام، شفافیت، وضاحت پذیری اور بین الاقوامی ریگولیٹری فریم ورکس سے ہم آہنگی ضروری ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جوابدہی اے آئی گورننس کا بنیادی اصول ہے اور اے آئی کے پورے لائف سائیکل کے دوران ذمہ داری کا واضح تعین ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ اور انتظامیہ کی نگرانی، اے آئی سے متعلق فیصلوں اور ناکامیوں کی واضح ذمہ داری اور آڈٹ و کمپلائنس کے مؤثر نظام ناگزیر ہیں۔ انہوں نے خطرات کی بنیاد پر انتظام کے طریقہ کار پر روشنی ڈالتے ہوئے سسٹمز کو ممنوعہ، ہائی رسک، محدود رسک اور کم سے کم رسک کیٹیگریز میں تقسیم کرنے کی تجویز دی۔ ورکشاپ میں یہ بھی کہا گیا کہ انسانی نگرانی کو ذمہ دارانہ اے آئی گورننس کا ایک اہم جزو ہونا چاہیے، بالخصوص ان شعبوں میں جہاں اے آئی سسٹمز اہم فیصلوں میں استعمال ہوتے ہیں۔
ڈیٹا گورننس اور ٹیکنالوجیکل تحفظ
ورکشاپ میں ڈیٹا گورننس، ڈیٹا کی کوالٹی، رازداری اور مکمل ٹریس ایبلٹی کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ شکیل اے میاں نے کہا کہ قابل اعتماد اے آئی نتائج کے لیے معیاری ڈیٹا بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ، اے آئی ماڈلز میں تعصب کو روکنے، سائبر سکیورٹی کے حفاظتی اقدامات اور ماڈل ڈرفٹ ڈیٹیکشن پر بھی سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ ایسے سسٹمز جن کا مؤثر آڈٹ نہ کیا جا سکے، ان پر اعتماد کرنا مشکل ہوتا ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ملکی سطح پر مختلف شعبوں میں ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا جا رہا ہے، جیسا کہ حال ہی میں او جی ڈی سی ایل اور بیکر ہیوز کے درمیان معاہدہ، پرانے تیل و گیس اثاثوں سے پیداوار بڑھانے پر اتفاق کے ذریعے ٹیکنالوجی کے نئے استعمال کی مثالیں قائم کی گئی ہیں۔ آخر میں، ورکشاپ میں حادثاتی صورتحال (Incident Response) کے طریقہ کار اور رسائی کے کنٹرولز کو محفوظ کاروباری ماحول کے لیے کلیدی حیثیت کا حامل قرار دیا گیا۔ اس طرح کے اقدامات کے بغیر، کسی بھی تنظیم کے لیے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق چلنا دشوار ہو جائے گا، جس طرح زونگ نے ڈریگنز آف ایشیا ایوارڈز 2026 میں پانچ اعزازات جیت لیے اور اپنی تکنیکی برتری ثابت کی۔
