پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی برآمدی مسابقت کیلئے ناگزیر ہے
کراچی (نمائندہ خصوصی)۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں کاروبار کی لاگت کو کم کرنے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات، بالخصوص ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمتوں کو منطقی بنانے کے لیے حقیقت پسندانہ نقطہ نظر اپنایا جائے۔ سرکاری اداروں کو براہ راست ٹھیکے دینے کا عمل محدود کیا جائے، آئی ایم ایف کا حکومت سے مطالبہ کے تناظر میں انہوں نے زور دیا کہ معاشی استحکام کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ عاطف اکرام شیخ نے نشاندہی کی کہ ایندھن کا موجودہ قیمتوں کا تعین کرنے والا طریقہ کار ملک بھر میں لاجسٹکس، ٹرانسپورٹیشن اور زرعی سپلائی چین کی لاگت کو غیر متناسب طور پر بڑھا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیزل ہماری ٹرانسپورٹ، زراعت اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں کی شہ رگ ہے، اور اس کی بلند قیمتوں کے مجموعی اثرات تباہ کن ہیں۔
برآمدی مسابقت اور صنعتی چیلنجز
ایف پی سی سی آئی کے صدر نے زور دیا کہ اگر ملک اپنی صنعتوں کو علاقائی سطح پر مسابقتی بنانا چاہتا ہے اور برآمدات کو بڑھانا چاہتا ہے، تو حکومت کو پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (PDL) کے ذریعے ریونیو اکٹھا کرنے کے بجائے ایندھن کی قیمتوں میں حقیقت پسندانہ رویہ اپنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ایک عنصر ہے، لیکن مقامی سطح پر پی ڈی ایل اور بھاری ٹیکسوں کے نفاذ نے چھوٹے و درمیانے درجے کے اداروں (SMEs) اور بڑی صنعتوں کے لیے کاروبار کرنا غیر پائیدار بنا دیا ہے۔
وزارت خزانہ اور توانائی سے اصلاحات کا مطالبہ
عاطف اکرام شیخ نے وزارت خزانہ اور وزارت توانائی سے اپیل کی کہ ڈیزل کی قیمتوں کو عقلی بنیادوں پر لانے سے سامان کی نقل و حمل کی لاگت میں براہ راست کمی آئے گی، جس سے پیداواری شعبے اور صارفین کو افراط زر کے دباؤ سے فوری ریلیف ملے گا۔ مزید برآں، ٹریکٹر اور ٹیوب ویل چلانے کی لاگت میں کمی سے ملکی سطح پر غذائی اجناس کی قیمتوں کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔ خواجہ آصف کا بیوروکریسی پر ایک بار پھر وار، احتساب سے محفوظ اور ناقابلِ گرفت، مسائل کے ذمہ دار قرار دے دیا جیسے بیانات کے تناظر میں انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستانی برآمد کنندگان کو اپنے علاقائی حریفوں کے مقابلے میں شدید نقصان کا سامنا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان میں ایندھن کی قیمتیں علاقائی اوسط سے تجاوز کر چکی ہیں جس کی بنیادی وجہ پی ڈی ایل کا حد سے زیادہ بوجھ ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ بھارت، بنگلہ دیش اور ویتنام جیسے ممالک نے اپنے صنعتی شعبوں کو ایندھن کی قیمتوں کے جھٹکوں سے بچایا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا 31 اگست سے 2 ستمبر تک کرغزستان کا سرکاری دورہ، ایس سی او کی چیئرمین شپ سنبھالیں گے کے تناظر میں انہوں نے مزید کہا کہ اگر کاروبار کی لاگت کو مسابقتی نہ بنایا گیا تو پاکستانی مینوفیکچررز کو بڑے پیمانے پر بندش اور عالمی مارکیٹ میں حصہ کھونے کا خطرہ ہے۔
