حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات ہی ملکی مسائل کا حل ہیں، اشرف بھٹی
لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی صدر اشرف بھٹی نے کہا ہے کہ ملکی چیلنجز سے نمٹنے اور معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے سیاسی و قومی سطح پر مضبوط اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت اپنے رہنمائوں کو غیر ضروری بیان بازی سے روکیں کیونکہ باہمی الزام تراشی اور تلخ بیانات قومی مفاہمت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں۔
سیاسی استحکام اور معاشی ترقی
اپنے بیان میں اشرف بھٹی نے واضح کیا کہ سیاسی اختلافات جمہوریت کا حسن ہیں، لیکن قومی مفاد کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہیے۔ جس طرح آرگینک زراعت کا فروغ حکومتی ترجیحات میں شامل ہونا خوش آئند ہے، اسی طرح معاشی استحکام، روزگار کے فروغ اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کیلئے سیاسی ماحول میں استحکام ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو ذاتی و جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر ملکی مفاد کیلئے ایک میز پر بیٹھنا ہوگا۔
مذاکرات اور پالیسی سازی کی ضرورت
اشرف بھٹی نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بامقصد مذاکرات سے کئی مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تاجروں اور کاروباری برادری کو بھی پالیسی سازی میں اعتماد میں لیا جائے، کیونکہ معیشت کا پہیہ چلانے میں ان کا کلیدی کردار ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی مختلف سطحوں پر مذاکرات کی اہمیت اجاگر کی گئی ہے، جیسا کہ بشکیک میں ایس سی او سربراہ اجلاس پیر کو، پوتن، شی جن پنگ، ایرانی صدر اور وزیراعظم شہباز کی شرکت متوقع ہے، جو عالمی سطح پر سفارت کاری کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کو محاذ آرائی نہیں بلکہ اتحاد، برداشت اور مفاہمت کی سیاست کی ضرورت ہے۔ اگر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو تمام شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنی ذمہ داریاں نبھانی ہوں گی، بالکل اسی طرح جیسے زرعی ترقیاتی بینک کو منافع بخش بنانا قابل ستائش اقدام ہے، آصف سلیم کے مطابق ملکی معیشت کی مضبوطی کے لیے ہر سطح پر اصلاحات درکار ہیں۔
