پی ایچ ایف کا قومی کوچنگ ایجوکیشن پروگرام، پہلے مرحلے کا باقاعدہ آغاز

پی ایچ ایف کا قومی کوچنگ ایجوکیشن پروگرام، پہلے مرحلے کا باقاعدہ آغاز
لاہور: پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ملک بھر میں کوچنگ کے معیار کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور قومی کوچنگ نظام کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے قومی کوچنگ ایجوکیشن پروگرام کے پہلے مرحلے کا باقاعدہ آغاز کردیا۔
پروگرام کے افتتاحی سیشن کا انعقاد پی ایچ ایف کے نیشنل کوچنگ ایڈوائزر ہرمن کروئس کی زیر نگرانی کیا گیا، جس میں ملک بھر سے نوجوان اور تجربہ کار پاکستانی کوچز نے بھرپور شرکت کی۔
تربیتی ورکشاپ میں جدید کوچنگ طریقہ کار، ٹیکٹیکل تجزیے، کھلاڑیوں کی جدید انداز میں مینجمنٹ اور دیگر اہم امور پر عملی تربیت فراہم کی گئی۔ سیشن کے دوران کوچز کو جدید تکنیکوں اور منظم کوچنگ طریقہ کار سے روشناس کرانے کے ساتھ سوال و جواب اور باہمی تبادلے کا موقع بھی فراہم کیا گیا۔
پی ایچ ایف کے صدر محی الدین احمد وانی نے بھی افتتاحی سیشن میں شرکت کی اور کوچز کی سرگرمیوں، پروگرام کے معیار اور تربیتی عمل کا جائزہ لیا۔
اس موقع پر محی الدین احمد وانی نے کہا کہ پاکستان ہاکی کو عالمی سطح پر دوبارہ مسابقتی مقام دلانے کے لیے کوچنگ کے موجودہ نظام کو جدید بنانا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوان اور تجربہ کار کوچز کی جانب سے ٹیکٹیکل سوالات، جدید تکنیکوں اور منظم کوچنگ طریقہ کار میں بھرپور دلچسپی حوصلہ افزا ہے۔
محی الدین احمد وانی نے کہا کہ پی ایچ ایف کی انتظامی نگرانی کا مقصد ایسے پروگرامز کو یقینی بنانا ہے جو ملک میں گراس روٹ سطح سے قومی سطح تک کوچنگ کے نظام پر طویل المدتی اور عملی اثرات مرتب کریں۔
تربیتی پروگرام میں شریک کوچز نے سیشن کو انتہائی مفید، عملی اور بامقصد قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید تکنیک، ٹیکٹیکل پلاننگ اور سوال و جواب کے کھلے ماحول سے انہیں روزمرہ کوچنگ اور تربیتی کیمپس میں فوری طور پر قابل عمل معلومات حاصل ہوئی ہیں۔
پی ایچ ایف کے مطابق قومی کوچنگ ڈویلپمنٹ پروگرام کا پہلا مرحلہ مختلف منظم تربیتی ماڈیولز کے ذریعے جاری رہے گا۔ پروگرام کا بنیادی مقصد ملک بھر میں ایک یکساں اور جدید قومی کوچنگ فریم ورک تشکیل دینا ہے۔
فیڈریشن کے مطابق اس فریم ورک کے تحت گراس روٹ اکیڈمیز سے لے کر سینئر قومی ٹیموں کے پول تک کوچز کو جدید اور یکساں کوچنگ طریقہ کار سے روشناس کرایا جائے گا۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے اس اقدام کو ملک میں کوچنگ کے معیار کو بہتر بنانے، جدید ٹیکٹیکل سوچ کو فروغ دینے اور قومی ٹیموں کے لیے مستقبل کی مضبوط کوچنگ بنیاد فراہم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
