ریئل اسٹیٹ سیکٹر کی گمراہ کن تشہیر پر سی سی پی سماعت

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں جاری گمراہ کن تشہیر، جھوٹے دعوؤں، پوشیدہ چارجز اور منصوبوں کی منظوری سے متعلق غلط بیانی جیسے سنگین مسائل کا نوٹس لیتے ہوئے 27 اگست کو اسلام آباد میں کھلی سماعت کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام شعبے میں شفافیت لانے اور سرمایہ کاروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
سماعت کا مقصد اور اہمیت
سی سی پی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اس کھلی سماعت کا مقصد صارفین، سرمایہ کاروں، ڈویلپرز، بلڈرز، ریئل اسٹیٹ پروفیشنلز اور کاروباری تنظیموں کو براہِ راست کمیشن کے سامنے اپنے تجربات، شکایات اور تجاویز پیش کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ کمیشن کا ماننا ہے کہ منصوبوں کی منظوری، فراہمیِ سہولیات، قیمتوں اور دیگر اہم حقائق سے متعلق گمراہ کن دعوے عام شہریوں کے سرمایہ کاری کے فیصلوں کو شدید متاثر کرتے ہیں۔
کمپیٹیشن ایکٹ کی پاسداری
یاد رہے کہ راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی: راجہ بازار میں پارکنگ پلازوں کی نیلامی جیسے معاملات کی طرح، ریئل اسٹیٹ میں بھی شفافیت کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ کمپیٹیشن ایکٹ 2010 کا سیکشن 10 واضح طور پر کسی بھی ایسی کاروباری مشق کی ممانعت کرتا ہے جو جھوٹی یا گمراہ کن معلومات کے ذریعے صارفین کو دھوکہ دے۔ اگرچہ سی سی پی اس شعبے میں اب تک متعدد انکوائریاں اور انفورسمنٹ کارروائیاں کر چکا ہے، تاہم اب وسیع تر مسائل کے حل کے لیے فریقین کا مؤقف سننا ناگزیر ہو گیا ہے۔
رجسٹریشن اور شرکت کا طریقہ کار
کھلی سماعت میں سامنے آنے والے تمام تر نکات اور تجاویز کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے گا، جنہیں کمیشن اپنی حتمی سفارشات مرتب کرتے وقت زیرِ غور لائے گا۔ جس طرح فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے مربوط کوششیں ناگزیر ہیں، اسی طرح ریئل اسٹیٹ میں بھی مربوط حکمت عملی درکار ہے۔ سماعت جمعرات، 27 اگست، بوقت شام 4 سے 6 بجے تک، سی سی پی ہیڈ کوارٹر، نویں منزل، آئی ایس ای ٹاورز، جناح ایونیو، اسلام آباد میں منعقد ہوگی۔ دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے رجسٹریشن کی آخری تاریخ 25 اگست مقرر کی گئی ہے۔ مزید معلومات یا رجسٹریشن کے لیے [email protected] پر ای میل یا 051-9100260 (ایکسٹینشن 334 یا 273) پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں تنگہ ہرمز اور باب المندب میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات، چین کا بڑا فیصلہ جیسے بین الاقوامی معاشی اثرات کے برعکس، یہ سماعت مقامی سطح پر صارفین کے حقوق کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
