مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
اتوار، 4 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.83 EUR/PKR 311.48 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,972 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,803 USD/PKR 276.83 EUR/PKR 311.48 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,972 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,803
قومی

عمران خان کی طبی رپورٹ میں اینگزائٹی لیول تھری پلس کا انکشاف

📅 منگل، 18 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 5 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی حالیہ طبی رپورٹ کے بعد ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ میڈیکل رپورٹ میں عمران خان کی ذہنی و جسمانی حالت کے حوالہ سے کچھ تشویشناک علامات کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں سب سے نمایاں ان کا ’اینگزائٹی لیول تھری پلس‘ (++++)، بلڈ پریشر کی تبدیلی اور دل کی دھڑکن (پالپیٹیشن) میں بے ترتیبی شامل ہے۔ سابق صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی سمیت ماہرینِ صحت اور تحریک انصاف کے رہنماؤں نے اس رپورٹ کو شدید تشویشناک قرار دیتے ہوئے انہیں فوراً ہسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

’اینگزائٹی لیول تھری پلس‘ کا طبی مطلب کیا ہے؟

طبی اصطلاح اور نفسیاتی درجہ بندی (Clinical Rating Scales) میں جب کسی مریض کی رپورٹ میں ’تھری پلس‘ (+++) درج کیا جاتا ہے، تو اس کا مطلب شدید ترین ذہنی دباؤ اور اضطراب (Severe Anxiety and Mental Stress) ہوتا ہے۔ یہ کیفیات عام طور پر درج ذیل علامات کے ساتھ سامنے آتی ہیں:

  • شدید نفسیاتی دباؤ: مستقل خوف، بے چینی، ذہنی خلفشار اور مسلسل غصہ یا اضطراب۔
  • جسمانی علامات: دل کی دھڑکن کا اچانک تیز یا غیر معمولی ہونا (Palpitations)، بلڈ پریشر کا بڑھنا، اور سخت تناؤ۔
  • نیورو کیمیکل غیر متوازنيت: طویل عرصے تک تنہائی، بیرونی دنیا اور اخبارات و کتب سے دور رکھے جانے کی وجہ سے دماغ میں سیراٹونن اور ڈوپا مین جیسے ہارمونز کا توازن بگڑ جاتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق عمران خان کی رپورٹ میں ادویات جیسے سائٹینل (Citanil) اور لیکسو ٹینل (Lexotanil) کا دن میں تین بار استعمال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انہیں شدید سطح کی اینگزائٹی اور نیند کی کمی (Sleeplessness) کا سامنا ہے۔ یاد رہے کہ حکومت عمران خان بارے سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عمل کرے گی، طارق فضل چودھری نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا۔

اِس حالت کا موثر اور مکمل علاج کیا ہے؟

ماہرینِ نفسیات اور امراضِ قلب کے مطابق شدید اینگزائٹی کے اس لیول کو کنٹرول کرنے اور اسے مستقل جسمانی بیماری بننے سے روکنے کے لیے ایک جامع طبی حکمتِ عملی کی ضرورت ہوتی ہے:

  • مناسب طبی ماحول (ہسپتال منتقلی): مریض کو قید و تنہائی کے سخت ماحول سے نکال کر ایک پرسکون ہسپتال کی دیکھ بھال میں رکھنا انتہائی ضروری ہے، جہاں آزادانہ طبی بورڈ ان کی نگرانی کرے۔
  • کارڈیک مانیٹرنگ اور جدید ٹیسٹ: بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن کا مستقل جائزہ لینے کے لیے 24 گھنٹے ہولٹر مانیٹرنگ، ایکو کارڈیوگرام، سٹریس ٹیسٹ اور کارڈیک ایم آر آئی کی ضرورت تجویز کی گئی ہے۔
  • سائیکو تھراپی اور کاگنیٹو بیہیویئرل تھراپی (CBT): اینگزائٹی کو کم کرنے کے لیے صرف ادویات کافی نہیں ہوتیں بلکہ ماہر نفسیات کے ساتھ منظم سیشنز اور بات چیت انتہائی ضروری ہوتی ہے۔
  • سماجی رابطہ اور بیرونی ماحول: تنہائی ختم کرنا، خاندانی ملاقاتیں، اور مطالعہ یا دیگر مثبت مصروفیات کی فراہمی اینگزائٹی کے لیول کو تیزی سے نیچے لاتی ہے۔

جیسا کہ ملکی سطح پر دیگر اہم مسائل پر بحث جاری ہے، اسی طرح وزارت صحت کے تمام ملازمین اور 12 سال سے زائد تمام آبادی کی ہیپاٹائٹس اسکریننگ لازمی قرار دے دی گئی ہے تاکہ عوامی صحت کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔ طبی ماہرین کا خبردار کرتے ہوئے کہنا ہے کہ اگر آئندہ چند ہفتوں میں اس شدید اینگزائٹی اور جسمانی تناؤ کا بروقت اور صحیح علاج نہ کیا گیا تو یہ عارضہ دائمی دل کے امراض یا دیگر پیچیدہ طبی مسائل کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ اس صورتحال میں ہنرمند نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح، شہبازشریف کے بیانات کے ساتھ ساتھ قیدیوں کے انسانی حقوق پر بھی سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔

ٹیگز: #اڈیالہ جیل #اینگزائٹی #پاکستان تحریک انصاف #عمران خان #میڈیکل رپورٹ
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں