وفاق 18 وزارتوں، ان کے ذیلی اداروں کو ختم یا صوبوں کو منتقل، مشترکہ مفادات کونسل کی تشکیل نو کرے، سینیٹ کمیٹی

وفاق 18 وزارتوں، ان کے ذیلی اداروں کو ختم یا صوبوں کو منتقل، مشترکہ مفادات کونسل کی تشکیل نو کرے، سینیٹ کمیٹی
اسلام آباد: سینیٹ کی 18ویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد سے متعلق ذیلی کمیٹی نے وفاقی حکومت کو 18 وزارتوں اور ان کے ذیلی اداروں کو ختم یا صوبوں کو منتقل کرنے، مشترکہ مفادات کونسل کی ازسرنو تشکیل اور اخبارات و ٹی وی چینلز کو جاری کیے گئے سرکاری اشتہارات کی گزشتہ تین سال کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔
سینیٹر بیرسٹر ضمیر حسین گھمرو کی زیر صدارت اجلاس میں سینیٹر پونجو بھیل، سینیٹر جان محمد بلیدی اور متعلقہ وزارتوں و اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں وفاقی حکومت کے حجم میں کمی، 18ویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد اور مشترکہ مفادات کونسل کے آئینی کردار کا جائزہ لیا گیا۔
کمیٹی نے ہدایت کی کہ آئینی طور پر صوبائی یا مشترکہ مفادات کونسل کے دائرہ اختیار سے متعلق وزارتوں، ڈویژنز اور اداروں کو وفاقی سطح پر برقرار رکھنے کے بجائے ختم یا صوبوں کو منتقل کیا جائے۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ اس عمل سے سرکاری ملازمین کے مفادات متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔
کمیٹی کے زیر غور آنے والے اداروں اور وزارتوں میں صحت، تعلیم، قومی غذائی تحفظ، آبی وسائل، موسمیاتی تبدیلی، ہاؤسنگ، خصوصی اقدامات، ثقافت و ورثہ، ایویکیو ٹرسٹ بورڈ، زکوٰۃ و عشر، نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی، ای او بی آئی، نارکوٹکس، پولیس سروس، پی ایم ڈی سی، کورنگی فش ہاربر، پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ، ریلوے، صنعت، شماریات، پٹرولیم، بین الصوبائی رابطہ، منصوبہ بندی و ترقی اور واپڈا سمیت مختلف ادارے شامل ہیں۔
مشترکہ مفادات کونسل کے حوالے سے کمیٹی نے کہا کہ وفاقی قانون ساز فہرست کے حصہ دوم میں شامل معاملات آئین کے آرٹیکل 154 کے تحت مشترکہ مفادات کونسل کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، اس لیے ان معاملات کو وفاقی کابینہ میں زیر بحث نہیں لایا جانا چاہیے۔
کمیٹی نے وزیراعظم کو ہدایت کی کہ مشترکہ مفادات کونسل کے متعلقہ معاملات کونسل کے سامنے پیش کیے جائیں اور اس کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں۔ کمیٹی نے مشترکہ مفادات کونسل کی ازسرنو تشکیل کی بھی ہدایت کرتے ہوئے صوبوں کو مساوی حیثیت دینے پر زور دیا۔
کمیٹی نے بجلی، پٹرولیم، گیس اور ادویات کی قیمتوں سے متعلق معاملات بھی آئینی دائرہ اختیار کے مطابق مشترکہ مفادات کونسل کے ذریعے دیکھنے کی ہدایت کی۔
بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے معاملے پر کمیٹی نے ہدایت کی کہ آئیسکو، فیسکو، لیسکو، گیپکو، سیپکو اور حیسکو سمیت ڈسکوز کی نجکاری کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل کو بھیجا جائے اور کونسل کی منظوری کے بغیر اس عمل کو آگے نہ بڑھایا جائے۔
میڈیا کے شعبے میں کمیٹی نے پرنٹ میڈیا کی ریگولیشن سے متعلق امور صوبوں کو منتقل کرنے کی ہدایت کی جبکہ وزارت اطلاعات سے گزشتہ تین برس کے دوران اخبارات اور ٹی وی چینلز کو جاری کیے گئے سرکاری اشتہارات کی مکمل تفصیلات طلب کرلیں۔
کمیٹی نے سرکاری اشتہارات کو میڈیا اداروں پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرنے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور اشتہارات کی تقسیم میں شفافیت یقینی بنانے پر زور دیا۔
کمیٹی نے وفاقی حکومت کو اپنے رولز آف بزنس میں ضروری ترامیم کرنے کے لیے 15 روز کی مہلت دیتے ہوئے عملدرآمد کی رپورٹ سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کو پیش کرنے کی ہدایت کردی۔
