غذائی قلت کے خطرات سے نمٹنے کے لیے زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہو گا، شاہد عمران

غذائی قلت کے خطرات سے نمٹنے کے لیے زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہو گا، شاہد عمران
لاہور، 16 اگست: فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ریجنل کمیٹی برائے فوڈ کے کنوینر شاہد عمران نے کہا ہے کہ پاکستان میں تقریباً 46 فیصد آبادی کو بھوک یا غذائی عدم تحفظ جیسی صورتحال کا سامنا ہے، جبکہ زرعی پیداوار میں اضافے کی رفتار آبادی میں اضافے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ نہیں کر پا رہی۔ اتوار کو تاجروں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چھوٹے کاشتکار کھاد، ایندھن اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اچانک اضافے سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، جبکہ خراب فصل یا زرعی مداخل کی قیمتوں میں اضافہ انہیں قرض کے مسائل سے دوچار کر سکتا ہے۔ شاہد عمران نے کہا کہ غذائی مہنگائی کا براہ راست اثر غربت، غذائیت اور انسانی وسائل پر پڑتا ہے۔ پاکستان عالمی توانائی کی قیمتوں یا علاقائی جنگوں کو کنٹرول نہیں کر سکتا، تاہم بیرونی عوامل کو ملکی غذائی بحران میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے بروقت اقدامات ضرور کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے ملکی غذائی قیمتوں میں توقع سے زیادہ اضافے کے خدشے سے خبردار کیا ہے، اس لیے پالیسی سازوں کو فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔ پاکستان کا آبپاشی نظام غیر مؤثر، پانی کا ضیاع زیادہ اور ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ناکافی ہے، جبکہ فصلوں کا انتخاب زیادہ پانی استعمال کرنے والی اجناس تک محدود ہے۔ شاہد عمران نے کہا کہ آبادی میں اضافے کے خطرے سے نمٹنے اور زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے شعبہ زراعت کو سائنسی بنیادوں پر جدید بنانا ناگزیر ہے۔ خطے میں جنگ اور خلیجی ممالک سے گیس کی فراہمی میں رکاوٹوں کے باعث توانائی اور کھاد کی عالمی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، جس سے زرعی لاگت اور خوراک کی نقل و حمل مہنگی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بلند توانائی و کھاد قیمتوں کے ساتھ زرعی برآمدات میں کمی کے باعث بڑھتے ہوئے غذائی تجارتی خسارے کا بھی سامنا ہے، جس سے زرمبادلہ کی آمدنی کم اور مہنگے غذائی درآمدی بل کی ادائیگی مزید مشکل ہو رہی ہے۔
