اسلام آباد میں شہداء کی یادگارِ فتح کا پروقار افتتاح

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ ملک کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور معرکۂ حق کی یاد میں تعمیر کی گئی یادگارِ فتح کا افتتاح جمعرات کی شب ایک پروقار تقریب میں کیا گیا، جس میں ملک کی اعلیٰ سول و عسکری قیادت نے شرکت کی۔ صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بطور مہمانانِ خصوصی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف بھی تقریب میں موجود تھے۔
تقریب کا آغاز اور پس منظر
تقریب کا آغاز ملٹری بینڈ کی جانب سے قومی ترانے کی دھن بجانے سے ہوا۔ یادگارِ فتح ملک کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور مئی میں بھارت کے ساتھ ہونے والے مختصر فوجی تنازع میں پاکستان کی فتح کی یاد منانے کے لیے تعمیر کی گئی ہے۔ افتتاحی تقریب کے موقع پر ’’داستانِ عشقِ وطن: معرکۂ حق‘‘ کے عنوان سے لائٹ اینڈ ساؤنڈ شو بھی پیش کیا گیا، جس میں پروجیکشن میپنگ کے ذریعے یادگار پر براہِ راست مناظر پیش کیے گئے۔ اس تقریب کی اہمیت کو اسلام آباد کا شہید ملت سیکریٹریٹ فائیو اسٹار ہوٹل میں تبدیل کرنے کی تجویز، وزیراعظم نے کمیٹی قائم کردی جیسے قومی نوعیت کے اہم اقدامات کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔
یادگار کی تعمیر اور علامتی اہمیت
تقریب کے دوران ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی جس میں یادگارِ فتح کی تعمیر میں شامل غیر معمولی ٹیم اور یادگار کی تعمیر کے آغاز سے تکمیل تک کے آٹھ ماہ کے سفر کو اجاگر کیا گیا۔ دستاویزی فلم میں بتایا گیا کہ یادگار میں پانچ محرابیں تعمیر کی گئی ہیں جو اسلام کے پانچ ارکان کی علامت ہیں، جبکہ یہ محرابیں پاکستان کے پانچ ستونوں کی بھی نمائندگی کرتی ہیں، جن میں حکومت، عسکری قوت، میڈیا، عوام اور قومی نظریہ شامل ہیں۔ یادگار کا ڈیزائن پاکستان کی مسلح افواج کی تینوں سروسز یعنی بری فوج، پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے ساتھ ساتھ سائبر دفاع اور خلائی جنگ کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ جیسا کہ میاں کاشف اشفاق: کاروبار سے قیادت تک، بصیرت، جدت اور خدمت کی روشن روایت جیسے مضامین میں قومی ترقی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے، اسی طرح یہ یادگار ملکی وقار کی علامت ہے۔
فضائی مظاہرہ اور اختتامی لمحات
افتتاحی تقریب میں پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے شاندار فضائی مظاہرہ بھی پیش کیا اور رات کے آسمان پر فلیئرز چھوڑے۔ تقریب کا اختتام صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے پرچم کشائی کی تقریب سے ہوا، جس کے دوران آتش بازی کا شاندار مظاہرہ کیا گیا جبکہ پس منظر میں قومی ترانہ بجایا گیا۔ اس موقع پر ملکی استحکام کے عزم کا اعادہ کیا گیا، جس کی اہمیت پر ماضی میں بھی انقرہ میں پاکستان ہاؤس میں پاکستان کا 79واں یومِ آزادی منایا گیا جیسے مواقع پر زور دیا جاتا رہا ہے۔
