پاکستان کے پہلے قمری روور کا نام جناح 1 تجویز کر دیا گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان کے قومی خلائی ادارے سپارکو (Pakistan Space and Upper Atmosphere Research Commission) نے جمعرات کے روز ایک تاریخی پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پاکستان کے پہلے لُونر روور (چاند پر بھیجے جانے والے روبوٹ) کا سرکاری نام بانیِ پاکستان کے نام پر "جناح 1” (Jinnah-1) رکھا گیا ہے۔ سپارکو کے مطابق یہ روور پاکستان کے خلائی مشنز کی تاریخ میں ایک نئی پیش رفت ثابت ہوگا اور اس کے ذریعے پاکستان چاند پر تحقیق کرنے والے چند منتخب ممالک کی فہرست میں شامل ہونے جا رہا ہے۔
سپارکو کے حکام کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، "جناح 1” کو سن 2029 میں چین کے جدید خلائی مشن "شانگ ای 8” (Chang’e-8) کے ساتھ خلا میں روانہ کیا جائے گا۔ اس بین الاقوامی مشترکہ مشن کا بنیادی مقصد چاند کے انتہائی اہم اور پراسرار خطے یعنی جنوبی قطب (Lunar South Pole) پر لینڈ کرنا اور وہاں سائنسی تحقیق و تفتیش کے عمل کو سرانجام دینا ہے۔ یہ خطہ اس لحاظ سے دنیا بھر کی خلائی ایجنسیوں کی توجہ کا مرکز ہے کیونکہ یہاں پانی کے منجمد ذخائر اور جدید ترین معدنیات کے پائے جانے کا قوی امکان ظاہر کیا جاتا ہے۔
سائنسی ماہرین کا کہنا ہے کہ "جناح 1” روور چاند کی سطح پر اترنے کے بعد وہاں کی مٹی کی ساخت، مختلف معدنیات کے ذرات اور وہاں کا ماحول جانچنے کے لیے جدید ترین آلات کا استعمال کرے گا۔ اس روور کی تیاری اور اس کے سائنسی تجربات سپارکو کے ماہرین کی زیرِ نگرانی کیے جا رہے ہیں، جو پاکستان میں پہلی قومی پاور سیکٹر انوویشن پروگرام کا اجرا جیسے اقدامات کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں بڑھتے ہوئے خود انحصاری کے سفر کا ثبوت ہے۔ چین اور پاکستان کے درمیان یہ تعاون خلائی تحقیق اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے شعبے میں دونوں ملکوں کے دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گا۔
سپارکو کے اس اعلان پر ملک بھر کے سائنسی حلقوں، محققین اور عوام میں خوشی اور فخر کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ماہرینِ فلکیات کا ماننا ہے کہ 2029 کا یہ مشن نہ صرف پاکستانی سائنسدانوں کے لیے نئی تحقیق کے راستے کھولے گا، بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی سائنس، ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کے شعبوں میں آگے بڑھنے کی ترغیب دے گا۔ جیسے کہ پاکستان دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے مضبوط محافظ اور باوقار ملک بن کر ابھرے گا، ظفر بختاوری نے کہا ہے، یہ مشن بھی اسی عزم کا اظہار ہے۔ پاکستان کا یہ تاریخی روور جب چاند کی سطح پر قدم رکھے گا تو وہ نہ صرف ملک کا نام روشن کرے گا بلکہ بانیِ پاکستان کے نظریے اور سائنسی ترقی کے خواب کی ترجمانی بھی کرے گا۔ اس مشن کی اہمیت کے پیش نظر، ملک میں ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ تائیوان پر دنیا کا پہلا مکمل خودکار مصنوعی ذہانت سائبر حملہ جیسے واقعات بتاتے ہیں کہ مستقبل خلائی اور سائبر ٹیکنالوجی کا ہے۔
