براڈ پیک سانحہ: پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی کی میت منتقل

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں شمار ہونے والی براڈ پیک پر پیش آنے والے المناک سانحے کے بعد پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی کی میت بالآخر شدید موسمی مشکلات اور دشوار گزار راستوں کے باوجود براڈ پیک بیس کیمپ منتقل کر دی گئی ہے۔ الپائن کلب آف پاکستان (ACP) نے جمعرات کے روز واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ریسکیو ٹیموں نے انتہائی مشکل حالات میں لاپتہ کوہ پیما کی میت تلاش کرنے کے بعد اسے بیس کیمپ تک پہنچانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ملک میں پاکستانی قوم 79 واں جشن آزادی تجدید عہد کے ساتھ منائے گی، تاہم اس سانحے نے کوہ پیمائی کے حلقوں میں سوگ کی فضا پیدا کر دی ہے۔
حادثے کی تفصیلات
ذرائع کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ جولائی کے اختتام پر اس وقت پیش آیا جب معروف برطانوی نیپالی کوہ پیما نرمل پورجا کی قیادت میں 10 رکنی بین الاقوامی مہم جوئی گروپ براڈ پیک کی چوٹی سر کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اسی دوران اچانک ایک شدید برفانی تودہ ان کے راستے میں آ گیا، جس کے نتیجے میں کوہ پیماؤں کا رابطہ بیس کیمپ اور بیرونی دنیا سے منقطع ہو گیا۔ جیسے پاکستان میں پہلی قومی پاور سیکٹر انوویشن پروگرام کا اجرا کیا گیا ہے، اسی طرح کوہ پیمائی کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی زور دیا جا رہا ہے تاکہ ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔
ریسکیو آپریشن کی مشکلات
حادثے کے فوری بعد لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش اور ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا، تاہم براڈ پیک کے بلند ترین اور خطرناک علاقے میں موسم نے امدادی کارروائیوں کو شدید متاثر کیا۔ مسلسل برف باری، منفی درجہ حرارت، تیز برفیلی ہواؤں اور برفانی تودوں کے خطرے کے باعث ریسکیو ٹیموں کے لیے آگے بڑھنا انتہائی مشکل تھا۔ کئی روز کی مسلسل تلاش، جدید آلات اور تجربہ کار ریسکیو اہلکاروں کی کوششوں کے بعد مہم کے منتظمین نے تصدیق کی کہ حادثے کا شکار ہونے والے تمام 10 کوہ پیماؤں کے جاں بحق ہونے کا خدشہ حقیقت بن چکا ہے۔
سہیل سخی کی خدمات اور تدفین
پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی ان باہمت مہم جوؤں میں شامل تھے جنہوں نے بلند و خطرناک چوٹیوں کو سر کرنے کے ذریعے پاکستان کا نام روشن کیا۔ ان کی موت نے پاکستان کے کوہ پیمائی سے وابستہ حلقوں میں گہرے دکھ کی لہر دوڑا دی ہے۔ الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق سہیل سخی کی میت کو براڈ پیک کے بیس کیمپ تک منتقل کرنا خود ایک انتہائی خطرناک مرحلہ تھا۔ اب میت کو مزید نیچے منتقل کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ضروری قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد اسے اسلام آباد لایا جا سکے اور بعد ازاں ان کے آبائی علاقے منتقل کر کے اہل خانہ کے حوالے کیا جا سکے۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی پاکستان میں اقلیتوں کا قومی دن، حقوق کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرنے جیسے مواقع پر ملک کے بہادر سپوتوں کی قربانیوں کو یاد کیا جاتا ہے۔ براڈ پیک کا یہ المناک سانحہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ کوہ پیمائی انتہائی خطرناک حالات کا سامنا کرنے کا سفر بھی ہے۔ سہیل سخی اور ان کے ساتھیوں کی یہ داستان تاریخ میں ہمیشہ ایک دردناک باب کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔
